امریکہ: بچپن میں بچھڑ جانے والی دو بہنوں کی سافٹ بال میچ میں اچانک ملاقات

19 سالہ سمانتھا رینسولڈ گذشتہ سال اگست میں مونٹانا میں سافٹ بال ٹورنامنٹ میں کھیل رہی تھیں، جب ان کی ساتھی کھلاڑی کی نظر مخالف ٹیم میں شامل 18 سالہ کیان ڈین پر پڑی، جو ان کی ہم شکل تھیں۔

سمانتھا اس وقت امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سپوکن میں واقع ایک کالج میں پہلے سال کی طالبہ ہیں جبکہ کیان شمالی ڈکوٹا میں کالج میں زیرِ تعلیم ہیں (سمانتھا رینسولڈ)

 

امریکی ریاست مونٹانا کی ایک نو عمر لڑکی کی اپنی طویل عرصے سے بچھڑی ہوئی بہن سے اس وقت اچانک ملاقات ہوگئی جب ایک سافٹ بال ٹورنامنٹ کے دوران وہ آمنے سامنے آگئیں۔

ان کی ایک ساتھی کھلاڑی نے توجہ دلائی تھی کہ مخالف ٹیم کی ایک کھلاڑی ہو بہو ان جیسی دکھائی دیتی ہے۔

19 سالہ سمانتھا رینسولڈ گذشتہ سال اگست میں مونٹانا میں سافٹ بال ٹورنامنٹ میں کھیل رہی تھیں، جب ان کی ساتھی کھلاڑی کی نظر مخالف ٹیم میں شامل 18 سالہ کیان ڈین پر پڑی۔

گود لی گئی سمانتھا کو معلوم تھا کہ ان کی ایک چھوٹی حقیقی بہن بھی ہے، جسے ایک ایسے انتظام کے تحت گود دیا گیا تھا، جس میں پیدائشی خاندان اور گود لینے والے خاندان کے درمیان رابطے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لیے سمانتھا کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی بہن کہاں ہے یا وہ کیسی دکھائی دیتی ہے۔

سمانتھا نے گذشتہ ماہ جریدے ’پیپل‘ کو بتایا کہ جب ان کی ساتھی کھلاڑی نے کیان ڈین کی جانب توجہ دلائی تو انہوں نے ابھی تک اسے قریب سے نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی نظر میں کیان کو دیکھ کر وہ ’تقریباً اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں نے سوچا کہ ایسا کوئی امکان نہیں کہ یہ سب اس وقت میرے ساتھ ہو رہا ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سمانتھا غلط فہمی سے بچنا چاہتی تھیں، اس لیے انہوں نے میچ کے بعد کیان سے رابطہ نہیں کیا، تاہم اپنی والدہ کو دونوں کی غیر معمولی مشابہت کے بارے میں بتانے کے بعد انہوں نے ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں کی فہرست دیکھی، جہاں انہیں کیان کا نام مل گیا۔

سمانتھا نے بتایا: ’ہم نے فہرست دیکھی تو میری والدہ نے اس کا نام کیان دیکھا۔ میری والدہ کو معلوم تھا کہ میری پیدائشی والدہ نے اس کا یہی نام رکھا تھا۔‘

انہوں نے کہا: ’تو میری والدہ نے کہا کہ یہ تمہاری بہن ہی ہونی چاہیے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔‘

اگلی بار جب دونوں کی سافٹ بال کے ایک میچ میں ملاقات ہوئی تو سمانتھا کی والدہ نے کیان کے خاندان سے بات کی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ دونوں گود لی گئی لڑکیوں کی پیدائشی ماؤں کا نام ایک ہی ہے اور دونوں ایک ہی ہسپتال میں پیدا ہوئی تھیں۔

دونوں بہنیں ایک دوسرے کو پا کر بہت خوش تھیں، اگرچہ اس حقیقت کو سمجھنے اور قبول کرنے میں انہیں کچھ وقت لگا۔ انہوں نے اب تک اپنے تعلق کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کروایا۔

سمانتھا نے کہا: ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا محسوس کریں، کیونکہ آپ نے اپنی پوری زندگی اس لمحے کا انتظار کیا ہوتا ہے۔‘

بہنوں نے ’ان سائیڈ ایڈیشن‘ کو بتایا کہ سمانتھا نے پولسن میں پرورش پائی، جبکہ کیان ان سے تقریباً 400 میل دور ورڈن میں پلی بڑھیں۔ سمانتھا کے مطابق جب وہ پیدا ہوئی تھیں تو ان کے پیدائشی والدین کی عمریں بالترتیب 19 اور 17 سال تھیں۔

انہوں نے کہا: ’ہمیں اصل وجہ معلوم نہیں، لیکن میں نے ہمیشہ یہی سمجھا کہ شاید وہ بہت کم عمر تھے اور مجھے بہتر زندگی دینا چاہتے تھے، ایسی زندگی جو شاید وہ مجھے فراہم نہیں کر سکتے تھے۔ جس بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ انہوں نے مزید دو بچے پیدا کیے اور پھر ان دونوں کو بھی گود لینے کے لیے دے دیا۔‘

سمانتھا نے بتایا کہ انہیں پہلی مرتبہ اپنی بہن کے بارے میں اپنے ایک اور حقیقی بھائی کے ذریعے معلوم ہوا تھا، جس نے ان کے خاندان کا سراغ لگایا تھا۔

دونوں بہنوں میں ظاہری مشابہت اور سافٹ بال سے محبت کے علاوہ بھی کئی باتیں مشترک ہیں۔ دونوں نے ہائی سکول میں والی بال بھی کھیلی، دونوں کی جرسی کا نمبر 6 تھا اور دونوں ایک ہی پوزیشن پر کھیلتی تھیں۔

سمانتھا کے مطابق دونوں کے ہنسنے کا انداز بھی ایک جیسا ہے اور ان کی ’ہلکی سی کھلکھلاہٹ‘ بھی ملتی جلتی ہے۔

سمانتھا اس وقت امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سپوکن میں واقع ایک کالج میں پہلے سال کی طالبہ ہیں جبکہ کیان شمالی ڈکوٹا میں کالج میں زیرِ تعلیم ہیں۔

سمانتھا نے کہا: ’جب میں لوگوں سے اپنے حقیقی خاندان کے بارے میں بات کرتی تھی تو مجھے ہمیشہ وضاحت کرنا پڑتی تھی کہ میری ایک بہن بھی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’لیکن اب یہ بہت اچھا لگتا ہے کہ میں اپنی بہن کے چہرے کو جانتی ہوں، اس سے مل سکتی ہوں اور اس کے ساتھ وقت گزار سکتی ہوں۔ اب میرے ذہن میں کوئی شک یا تجسس باقی نہیں رہا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل