گیم آف تھرونز کا خلا پر کرنے کی ایک کوشش: دی وچر

گیم آف تھرونز اور آوٹ لینڈر کی طرح دی وچر بھی دو قسم کے لوگوں کو خوش کر رہا ہے۔ ایک وہ مداح ہیں جو کسی اور فینٹیسی سیریز سے وابستہ اپنی وفاداری کو اس کی جانب موڑ رہے ہیں اور دوسرے وہ جو وچر پر مبنی اس کہانی کے دیوانے ہیں۔

دی وچر، جو کہ نیٹ فلکس کی ایک صاف کوشش دکھائی دیتی ہے تاکہ گیم آف تھرونز کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پورا کیا جا سکے لیکن اس میں زیادہ خون اور برہنگی ہے۔(دی انڈپینڈنٹ)

آج سے کئی سال بعد لاس اینجلس میں مصنفین کا ایک گروہ صرف اس مقصد کے لیے اکٹھا ہو گا کہ وہ ایک شاندار ٹیلی ویژن سیریز کو تخلیق کر سکیں۔  شاید جس وقت وہ اپنے دفتر میں بیٹھے گریٹا ٹونبرگ اور انڈریو یینگ کے جڑواں مجسموں کو دیکھ رہے ہوں گے تو ان کے دماغ کسی اگلی فینٹیسی سیریز کی تگ و دو میں ہوں گے۔

ایک جانب ہاؤس ایچ بی او جو ایک عظیم خاندان ہے اپنے گھٹنوں پر آ چکا ہے۔ دوسری جانب ہاؤس سٹارز جو اپنے احساس برتری اور تکبر کے باعث کبھی اپنے دشمنوں کے سامنے نہیں جھکتا۔ اور پھر ہے ہاؤس نیٹ فلکس، تاخیر سے ابھرنے والی یہ سلطنت فینٹیسی کی دنیا میں بے تحاشا وسائل کی بنیاد پر سمندر پار تک اپنی دھاک بٹھا چکی ہے۔

اب آتا ہے دی وچر، جو کہ نیٹ فلکس کی ایک صاف کوشش دکھائی دیتی ہے تاکہ گیم آف تھرونز کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پورا کیا جا سکے لیکن اس میں زیادہ خون اور برہنگی ہے۔ یہ سیریز پولش مصنف آندریز سیپکوسکی کی کتابوں سے لی گئی ہے گو کہ انگریزی بولنے والے مداح اس کو وڈیو گیم کی نسبت سے بہتر جانتے ہوں گے۔ گیرالٹ آف ریویا (جس کا کردار ہنری کیول نے ادا کیا ہے۔) ایک ایسا شخص ہے جو بیک وقت گرینائٹ اور مٹی سے تراشا ہوا مجسمہ محسوس ہوتا ہے۔ ایک نیم مافوق الفطرت کردار جو درندوں کا شکاری ہے لیکن معاشرے کی جانب سے اسے دھتکارا جاتا ہے۔ (اس کے باوجود کہ اس کا قد چھ فٹ پانچ انچ ہے اور وہ ہنری کیول کی طرح دکھائی دیتا ہے۔)

گیرالٹ کے گرد موجود دنیا منہدم ہوتی جا رہی ہے۔ شہزادی سری (فریا ایلن) نلفاگارڈین حملہ آوروں سے بھاگ رہی ہے۔ جب کہ یینفر (آنیا چلوترا) ایک نوجوان خاتون ہیں جنہیں جسمانی طور پر غیر معمولی مسائل کا سامنا ہے اور انہیں جادوگرنیوں یعنی وچز کے ایک سلسلے کا حصہ بنایا جا رہا ہے جن کی نگرانی تیز نگاہوں والی میانہ بورنگ کر رہی ہیں۔ ان تمام کرداروں کے راستے سیریز میں آگے چل کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

سیریز کی پہلی قسط ’دا اینڈز بگننگ‘ کی شروعات گیرالٹ کے پانی میں موجود ایک نامعلوم بلا کو قتل کرنے سے ہوتی ہے جس کی لاش وہ ایک قریبی قصبے اٹھا لاتا ہے۔ یہ بہت چمکیلا لیکن سخت گیر ہے لیکن اس میں حس مزاح بھی ہے۔ ( آج کا دن تمہارا نہیں ہے، گیرالٹ ایک زخمی ہرن کو کہتا ہے۔ اور پھر کچھ ہی لمحوں بعد اسے مار ڈالتا ہے۔) اس منظر سے اس سیریز کا مزاج محسوس ہوتا ہے کہ دی وچر ایک خوفناک شو ہو گا۔ یہاں سے آگے بڑھتے ہوئے یہ شو کئی مواقع پر اپنی سنجیدگی کا مذاق اڑاتا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ منٹ بعد ہم شہزادی رینفری سے ملتے ہیں جن کا کردار ایما ایپلٹن نے ادا کیا ہے۔ یہاں سے اس کہانی کا پہیہ آگے چلتا ہے۔ کیول کے ساتھ موجود باقی اداکار اتنے پرجوش ہیں کہ یوں محسوس ہوتا جیسے وہ کسی گیم پر بنے ڈرامے میں نہیں بلکہ شیکسپیر کے ڈرامے کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن اس کا مرکزی خیال گیرالٹ کے گرد ہی گھومتا ہے۔ کیول جو کہ ایک تھنگ اور مورف کے درمیان ہونے والی محبت کا نتیجہ ہیں۔ سکرین پر بہت کرشماتی دکھائی دیتے ہیں اور ان کی فلمی جملے استعمال کرنے کی صلاحیت ان کے مناظر کو قابل برداشت بناتی ہے۔ جسمانی ساخت کی بدولت ان کی تلوار بازی کے مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب کہ ان کی گہری آواز آپ کو کانوں میں رس گھولتی محسوس ہوتی ہے۔ گو کہ ان کی بات کرنے کا انداز مسلسل خطاب کرنے جیسا ہے لیکن دوسری قسط میں ان کا زیادہ تر وقت سری اور یینفر کے کرداروں کو دیا گیا ہے۔

سری سنٹرا کے تخت کی وارث ہے ۔ یہ ایک ایسی سلطنت ہے جو ترقی پذیر ولن کردار نلفگارڈینز کی جانب سے پہلی قسط میں برباد کر دی جاتی ہے۔ دی وچر میں گیم آف تھرونز کے مقابلے میں نشیب کم اور فراز زیادہ ہیں۔ (اس میں بلاؤں اور جادو کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے جب کہ ہماری دنیا اور ان کی دنیا جیسے الفاظ بھی استعمال نہیں کیے گئے۔) یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جس میں آپ کو بلا سوچے سمجھے کود جانا ہے اور باہر نکلنے کے لیے اس کی سیاست اور جغرافیے سے نمٹنے کی کوئی چابی آپ کے پاس نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی گیم محسوس ہوتی ہے جس میں ایک وقت میں مختلف چالیں چلی جا رہی ہیں لیکن کوئی اشارہ یا ہدایت نہیں دی گئی۔

جب سری بھاگ رہی ہوتی ہیں تو یینفر کو ایک جادوئی دنیا میں متعارف کروایا جا رہا ہوتا ہے۔ جہاں پر نوجوان لڑکیوں کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جہاں ان کے ہاتھوں کو راکھ میں جھونکا جا رہا ہوتا ہے یا ان کو مچھلیوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ ایسا صرف اس امید پر کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی جادوئی طاقت کو پہچان لیں۔ یینفر پسند کرنے کے لیے ایک مشکل کردار ہے۔ وہ ہمیشہ روتی رہتی ہے۔وہ خود غرض ہے اور کسی طبی مسئلے کا شکار ہے اور ان کے بولنے کا انداز ایسا ہے جیسے کہ منہ میں روئی ٹھنسی ہوئی ہو۔ ایک بدقسمت تعلق میں وہ ایک جی سی آئی سے تخلیق کیا گئے دکھنے والے ایک کردار سے جڑ جاتی ہیں۔ یہاں انکشاف ہوتا ہے کہ یینفر کے رگوں میں ایلون خون دوڑ رہا ہے۔ وہ بھی گیرالٹ کی طرح اس معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ یقینی طور پر اس جادوئی دنیا میں یینفر کا معذور رہنا زیادہ وقت کے لیے ممکن نہیں رہنا تھا۔ ایک جادوئی ماہر جولین رہنڈ ٹٹ کے ذریعے انہیں ایک شاندار روپ دیا گیا۔

آنیہ چلوترا کی بطور یینفر پرفارمنس اس کہانی کے مختلف دلچسپ موڑوں میں سے ایک ہے۔ جوئے بیٹے جاسکیر کے کردار میں نظر آتے ہیں۔ وہ ایک گوئیے ہیں جو گیرالٹ کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ ان کا کردار اتنا تنگ کر دینے والا ہے کہ آپ دعا کریں گے کہ اس کردار کی موت واقع ہو جائے۔ ( میں نے ایک بار پھر سے تشریح بیان کر دی۔ ایک بار پھر خود سے بات کرتے ہوئے وہ ایک موقعے پر کہتے ہیں)۔

اینا شافرز ٹرس جن کا کردار مداحوں کا پسندیدہ ہے کا کردار بھی ناگوار حد تک سنجیدہ اور ان کے جملے بہت بے وقوفانہ ہیں۔ ایک ایسا شو جس میں لڑائی کے مناظر کو کوریوگرافی کے ذریعے خطرناک انداز میں پیش کیا گیا ہو یقینی طور پر ایسی کارکردگی کا مستحق ہے جو اپنے اندر ایک طوفان سموئے ہوئے ہو۔

اگر آپ کو اس میں سے کوئی تفصیل سمجھ نہیں آئی تو اس شو کی غلطی ہے۔ گیم آف تھرونز اور آوٹ لینڈر کی طرح دی وچر بھی دو قسم کے لوگوں کو خوش کر رہا ہے۔ ایک وہ مداح ہیں جو کسی اور فینٹیسی سیریز سے وابستہ اپنی وفاداری کو اس کی جانب موڑ رہے ہیں اور دوسرے وہ جو وچر پر مبنی اس کہانی کے دیوانے ہیں۔ دوسرا گروہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے سٹار وار کے مداح ہیں جو بہت کھل کر تنقید کرتے ہیں اور انہی کو خوش کرنے کے لیے دی وچر کی کہانی ایسی دنیا کے گرد گھومتی ہے جو ابہام کی حد تک ترقی پذیر ہے۔ یہ تجربہ ویڈیو گیم کھیلنے جیسا نہیں ہے۔ جہاں اموات، توجہ بھٹکانے کے حربے اور گیم دوبارہ شروع کرنا آپ کو مستقل طور پر اس کے اصل بیانیے کو سمجھنے نہیں دیتا۔ بدقسمتی سے دی وچر اور ہاؤس نیٹ فلکس کی اس پیشکش میں لطف اٹھانے پر مبنی مواد کی مقدار قلیل سے بھی کم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی