’مومو چیلنج‘ سے بچوں کو دور رکھیں

کیا آپ مومو چینلج کے بارے میں جانتے ہیں؟ انٹرنیٹ پر موجود اس چینلج سے بچوں کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

فوٹو: آئی ٹی وی نیوز/ٹوئٹر

برطانیہ کے سکولوں نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ آن لائن ’مومو چیلنج‘ پیپا پگ اور فورنائٹ یوٹیوب ویڈیوز کے ساتھ جڑ گیا ہے۔

مومو ایک میم ہے جس کے ذریعے چھوٹے بچوں کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور انھیں میسجنگ ایپ واٹس ایپ یا آن لائن گیمز میں اپنے کانٹیکٹ نمبر درج کرنے کی جانب راغب کیا جاتا ہے، اور اس کے بعد انھیں تصاویر اور ویڈیوز بھیجی جاتی ہیں۔

پولیس نے اس میم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے ہیکرز معلومات حاصل کرتے ہیں۔

رواں ہفتے مختلف سکولوں کی جانب سے ان کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر تنبیہی پیغامات شائع کیے گئے جن میں وضاحت کی گئی تھی کہ چند پریشان والدین نے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔

ان سکولوں کی طرف سے مزید کہا گیا ہے کہ ’مومو‘ نامی یہ کردار جو کہ ایک عورت ہے اور اس کی آنکھیں باہر کی جانب نکلی ہوئی ہیں کا ویڈیو کلپ بچوں کے کارٹون پیپا پگ اور کمپیوٹر گیم فورنائٹ کے عین بیچ سکرین پر نمودار ہو جاتا ہے۔

تنبیہی پیغام میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’ویڈیوز تو معمول کے مطابق ہی شروع ہوتی ہیں لیکن اچانک ہی اس میں تشدد اور بری زبان کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔‘

ایک ویڈیو کلپ میں مومو ’سفید ماسک پہنے‘ بچوں سے کچھ انتہائی خطرناک کام کرنے کو کہتی ہے، جیسے کہ گھر میں گیس کھول دینا تا والدین کی اجازت کے بغیر ٹیبلیٹ لے لینا۔‘

’جیسا کہ آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ بچوں کے لیے کتنا پریشان کن ہو سکتا ہے۔ لہذا ہم آپ سے کہتے ہیں کہ جب آپ کے بچے کوئی بھا ڈیوائس استمعال کر رہے ہوں یا کوئی کلپ دیکھ رہے ہوں تو آپ ہوشیار رہیں۔‘

انٹرنیٹ پر تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین پر مبنی نیشنل آن لائن سیفٹی نامی گروپ جو سکولوں، سکول عملہ، والدین اور بچوں کو مشورہ فراہم کرتا ہے نے ایک فہرست جاری کی ہے جس کی مدد سے والدین اپنے بچوں کو مومو سے بچا سکتے ہیں۔

این او ایس کی جانب سے یہ فہرست ٹوئٹر پر شائع کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو بتائیں کہ مومو حقیقت میں نہیں ہے، جب بھی وہ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہوں آپ وہاں موجود رہیں، انٹرنیٹ پر ان کی سرگرمیوں کے بارے میں ان سے بات کرتے رہیں، اور گھر میں موجود آلات پر پیرینٹل کنٹرول لگائے رکھیں۔

دوسری جانب پولیس نے بھی ایک وارننگ جاری کی ہے۔

شمالی آئرلینڈ میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’بنیادی ریسرچ ذرائع سے بھی یہ معلوم ہوا ہے کہ ’مومو‘ ہیکرز کا کام ہے جو ذاتی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

’جو کوئی بھی اس کے پیچھے ہو، لیکن اس مواد کے ہولناک ہونے پر کوئی تضاد نہیں ہے۔‘

بدھ کو یوٹیوب کا کہنا تھا کہ ’مومو‘ سے متعلق مواد یوٹیوب کڈز پر نہیں پائی گئی ہیں اور یوٹیوب اس ’چیلنج‘ کے خلاف آگاہی کے لیے ویڈیوز کی اجازت دیتا ہے۔

یوٹیوب کے ترجمان نے کہا کہ ’ذرائع ابلاغ کی خبروں کے برعکس ہمیں مومو چیلنج کو فروغ دینے والی کوئی ویڈیو یوٹیوب پر نہیں ملی۔‘

’ایسا کوئی بھی مواد ہماری پالیسی کے خلاف ہوگا اور اسے فوراً ہٹا دیا جائے گا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل