’باغی‘: 17 سالہ علیشاہ کی ویڈیو جو ہراسانی کے خلاف ایک پکار بن گئی

علیشاہ زہرہ ہیں نے خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر درپیش ہراسانی ایک سکول پراجیکٹ میں ویڈیو کے طور پر پیش کی اور اسے معروف گلوکارہ قرۃ العین بلوچ نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

سترہ سال عمر، ایک طالبہ اور سماجی مسائل کے بارے میں اتنی سمجھ بوجھ!

یہ اسلام آباد کی علیشاہ زہرہ ہیں جن کے خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر درپش ہراسیت کے ایک سکول پراجیکٹ کو معروف گلوکارہ قراۃ العین بلوچ نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ علیشاہ کے مطابق، قرة العین کا گیت ہی اس پورے تصور کی اصل طاقت اور تحریک تھا۔

ویسٹ منسٹر اکیڈمی کی طالبہ علیشاہ زہرہ نے اپنے اے لیولز پروجیکٹ کے لیے کسی آسان موضوع کے انتخاب کے بجائے ایک ایسے سماجی مسئلے کو چنا جو پاکستانی معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔ علیشاہ کی میوزک ویڈیو ’باغی‘ نہ صرف ہراسانی کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ ہے بلکہ یہ خواتین کی ہمت اور اتحاد کی ایک عکاس بھی ہے۔

علیشاہ زہرہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں اس پراجیکٹ کے آغاز سے اختتام تک کی کہانی بتائی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو کے ذریعے ایک مضبوط پیغام دینا چاہتی تھیں کہ معاشرے میں خواتین کے لیے ہراسیت کا ایک مسئلہ موجود ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

تخلیق کا مقصد: صرف بحث نہیں، تبدیلی

’میرا بنیادی آئیڈیا یہ تھا کہ عورتوں نے لباس جیسا بھی پہنا ہوں انہیں گھورا یا تنگ ضرور کیا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ لباس سے نہیں جڑا ہوا ہے۔‘

علیشاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نور مقدم جیسے کیسز کے بعد ہراسانی پر بات تو ہونے لگی ہے، لیکن واقعات میں کمی نہیں آئی۔

’جب بھی میں ایسا کوئی کیس دیکھتی تھی، مجھے لگتا تھا کہ مجھے اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ لوگ اکثر لڑکی کے لباس کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، لیکن میرا ماننا ہے کہ یہ لڑکی کا نہیں بلکہ معاشرے کا مسئلہ ہے۔‘

علیشاہ نے اپنی ویڈیو میں پاکستانی خواتین کی مختلف اشکال کو پیش کیا ہے:

حجابی کردار: اس مفروضے کو توڑنے کے لیے کہ حجاب پہننے والی خواتین محفوظ ہیں (علیشاہ کے سکول سروے کے مطابق حجاب والی خواتین کو بھی بازاروں میں بری نظروں اور جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے)۔

بولڈ مغربی کردار: جسے معاشرہ اکثر غلط سمجھتا ہے۔

ٹوم بوائے (Tomboy) کردار: جو اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویڈیو میں وہ حقیقی واقعات دکھائے گئے ہیں جو لڑکیوں نے علیشاہ کے سروے کے دوران ان کے ساتھ شیئر کیے۔

علیشاہ نے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ گذشتہ برس ایسے ہی ایک پراجیکٹ میں مردانہ نفسیات کے ایک پہلو کو بھی چھوا ہے۔ انہوں نے دکھایا کہ جب مرد اپنے جذبات کو دبا لیتے ہیں (رو نہیں سکتے) تو وہ غصے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو اکثر گھریلو تشدد (Domestic Violence) پر منتج ہوتا ہے۔

علیشاہ بتاتی ہیں کہ تازہ پروجیکٹ کی شوٹنگ کسی چیلنج سے کم نہیں تھی۔

’ویڈیو میں شامل اداکاروں کو راضی کرنا بہت مشکل تھا، بہت سے والدین اپنے بچوں کو ایسے حساس موضوع پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ میرے تمام اداکار پروفیشنل نہیں بلکہ طالب علم تھے، لیکن میری ڈائریکشن اور ان کی محنت نے اسے حقیقت کے قریب تر بنا دیا۔‘

ویڈیو کے آخر میں تینوں لڑکیوں کو ایک ساتھ گلے ملتے دکھایا گیا ہے، جو اتحاد کی علامت ہے۔ علیشاہ کے نزدیک ’باغی‘ کا مطلب محض باغی ہونا نہیں بلکہ طاقتور ہونا اور اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہے۔

مستقبل کا عزم

علیشاہ زہرہ کا ماننا ہے کہ آرٹ اور کمیونیکیشن ڈیزائن کا مقصد صرف خوبصورتی نہیں بلکہ دنیا پر اثر ڈالنا ہے۔

’آرٹ میرا جنون ہے اور میری زندگی کا مقصد ڈیزائن کے ذریعے اہم پیغامات لوگوں تک پہنچانا ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل