دنیا کے سب سے بڑے مسافر بردار جہاز کی پہلی کامیاب پرواز

بوئنگ 777X دوران پرواز 426 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔

بوئنگ 777 گذشتہ ربع صدی سے ایئرپورٹس پر ایک جانا پہچانا نام ہے۔ اس کا ایکس ورژن زیادہ گنجائش کے ساتھ کافی بڑے انجنوں اور235 فٹ تک پھیلے ہوئے پروں والا طیارہ ہے۔(اے ایف پی)

ہفتہ 25 جنوری کو واشنگٹن میں ایوی ایشن کی تاریخ اس وقت رقم کی گئی جب دنیا کے سب سے بڑے جڑواں انجنوں والے جہاز نے اپنی پہلی پرواز کے بعد باحفاظت لینڈنگ کی۔

بوئنگ 777X دوران پرواز 426 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔ اس گنجائش کو دو کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز کی جانب سے اس طیارے کو 747 جمبو کے متبادل کے طور پر تیار کرنے کا آرڈر دیا گیا ہے۔

یہ اس طیارے کی طے کردہ تیسری پرواز تھی۔

اس کی پہلی پرواز امریکی ریاست واشنگٹن کی ایوریٹ فیکٹری سے جمعرات کے دن تھی جسے تبدیل کر کے جمعے کا دن طے کیا گیا تھا لیکن تیز آندھی کی وجہ سے یہ دونوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

اس طیارے کی پرواز کا مقرر کردہ روٹ شمال کی جانب تھا جس کا مقصد آبادی والے علاقوں سے گریز کرنا تھا۔

آخرکار ہفتے کو صبح 10:07 بجے فلائیٹ BOE-1 نے چیف پائلٹ وان چینی اور کریگ بومبن کی کمانڈ میں ٹیک آف کیا۔ بوئنگ 777 ایکس نے مشرق کی سمت اڑان بھری اور یہ لگ بھگ چار گھنٹوں تک محو پرواز رہا۔

دوران پرواز طیارے نے کئی بار رخ بدلا، جنوب مغربی علاقے ماؤنٹ رینئیر میں اشتہاری مہم کے لیے تصاویر بنوائیں اور پھر سیاٹل میں موجود بوئنگ فیلڈ کے طیارہ ساز کمپنی ملازمین کی تالیوں کی گونج میں واپس زمین پر اتر آیا۔

اس پرواز کے بعد بوئنگ کی حریف کمپنی ایئربس کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’بوئنگ کمپنی 777ایکس کی پہلی پرواز مبارک ہو۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔‘

بوئنگ 777 گذشتہ ربع صدی سے ایئرپورٹس پر ایک جانا پہچانا نام ہے۔ اس کا ایکس ورژن زیادہ گنجائش کے ساتھ کافی بڑے انجنوں اور235 فٹ تک پھیلے ہوئے پروں والا طیارہ ہے۔

پروں کی یہ لمبائی 777 ایکس کو ’آئی سی اے او کوڈ ایف‘ سپر جمبو طیارے کے کیٹگری میں شامل کرتی ہے اور اس کی پروازوں کے لیے منتخب کیے جانے والے ہوائی اڈوں کی تعداد انتہائی محدود ہو گی۔

اسی مسئلے پر قابو پانے کے لیے 777ایکس میں مڑنے والے پروں کے کونے رکھے گئے ہیں جو پروں کی لمبائی کم کر کے 212 فٹ تک کر سکتے ہیں جو کہ موجودہ بوئنگ 777  کے برابر ہیں۔

بوئنگ کا کہنا ہے کہ ایروڈائنامکس میں نئی کامیابی کا مطلب ہے کہ 777ایکس میں ایندھن کا استعمال اور کاربن کا اخراج بھی دس فیصد کم ہو گا جب کہ اس پر آنے والا خرچ بھی لاگت کے حوالے سے کامیاب ترین ائیربس اے 350 سے 10 فی صد کم ہوگا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ بوئنگ 747 جمبو جیٹ کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا جس نے رواں ہفتے ہی ہیتھرو اور نیو یارک کے ہوائی اڈوں پر اپنی پرواز کے پچاس سال مکمل کرنے کا جشن منایا ہے۔ اس کے علاوہ ایئربس اے 350 کی ریٹائرمنٹ کے بعد پیدا ہونے والا خلا بھی 777ایکس ہی پورا کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسافروں کی گنجائش کے حوالے سے طیارے میں دو کیٹگریز رکھی گئی ہیں۔ کم گنجائش والی کیٹگری مائنس ایٹ ایکس میں 384 افراد جب کہ زیادہ گنجائش والی کیٹگری مائنس نائن ایکس میں 426 افراد کی گنجائش ہو گی۔

مکمل گنجائش والے طیارے کی قیمت چالیس کروڑ بیالیس لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ اس پر آنے والے اخراجات 15 لاکھ ڈالر ماہانہ ہوں گے۔ یعنی 38 ہزار ڈالر روزانہ چاہے یہ روز ایک میل کا سفر ہی کیوں نہ کرے۔

امارات نے لانچ ہوتے ہی اس طیارے کے 115 جب کہ قطر ایئرویز نے 60 طیاروں کے آرڈر دے دیے ہیں۔

ان فضائی کمپنیوں کی حریف ابوظہبی کی اتحاد ایئرلائنز نے 25 طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے جو کمپنی کی جانب سے نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد اخراجات میں کمی کے اقدامات کرنے کی بدولت شکوک کا شکار ہے۔

ہانگ کانگ کی ہوائی کمپنی کیتھی پیسیفک نے 21 ، جاپان کی نپون ایئرویز لفتھانزا اور سنگاپور ایئرلائنز دونوں نے 20 طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے۔ برٹش ایئرویز بھی اس طیارے کے 18 آرڈرز دے چکی ہے۔

دنیا کی ان تمام بڑی اور نامور ہوائی کمپنیوں کے باوجود ابھی تک کسی امریکی ایئرلائن نے بوئنگ 777 ایکس کا براہ راست کوئی آرڈر نہیں دیا۔

اس کامیاب آزمائشی پرواز نے عارضی طور پر بوئنگ 737 میکس سے توجہ ہٹا دی ہے۔ نسبتاً کم چوڑائی والا یہ جہاز 10 ماہ سے پرواز نہیں کر رہا۔ نئے سافٹ ویئر کنٹرول نے ایتھوپین ایئرلائنز اور لائن ایئر کے حادثوں کا شکار ہونے والے جہازوں کے پائلٹس کی حادثے سے بچاؤ کی کوشش کو شکست دے دی ہے۔

بوئنگ کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور دنیا بھر میں ان کے باقی ہم منصبوں کو یقین دلایا جا سکے کہ ان اپ ڈیٹس کے بعد جہاز اب محفوظ ہو چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے طیارہ ساز کمپنی نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ 737 میکس مزید چھ ماہ کے لیے کمرشل پروازیں نہیں لے سکے گا۔

ابتدا میں کمپنی کی جانب سے پیش گوئی کی گئی تھی کہ 737 میکس 2019 کی آخری سہ ماہی میں پرواز کے قابل ہو جائے گا لیکن اب بوئنگ کا اندازہ ہے کہ میکس کی پروازیں 2020 کے وسط تک ممکن ہو سکیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی