’عورت مارچ نہ ہو گیا، کوئی ہلہ ہو گیا‘

پاکستان میں جلاؤ گھراؤ اور توڑ پھوڑ والے مارچ ہوسکتے ہیں تو پر امن عورت مارچ کیوں نہیں؟ مارچ کی رہنما خواتین۔

عورت مارچ کی تشہیر اور خواتین کو اس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے طالبات نے الحمرا آرٹس کونسل میں لاہور لٹریری فیسٹیول کے دوران مہم چلائی۔

اس موقعے پر انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ریہرسل کرتے ہوئے پاکستان میں عورتوں کو درپیش مسائل اور حقوق نہ ملنے کا تذکرہ کیا۔

ان دنوں پاکستان کے بڑے شہروں میں عورت مارچ کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ عورت مارچ منعقد کرانے والی انتظامیہ اسلام آباد، کراچی،لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی ترغیب دے رہی ہیں۔

جہاں گھر گھر جا کر خواتین کو آگہی دینے کا سلسلہ جاری ہے، وہیں سوشل میڈیا اور شاہراہوں پر بینرز کے ذریعے بھی آٹھ مارچ کو ’خواتین کے عالمی دن‘ پر عورت مارچ میں شرکت کی دعوت دی جارہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب اس مارچ کے مقابلے میں حیا مارچ کی تیاریاں بھی جاری ہیں اور دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے رہنماؤں نے عورت مارچ کو بے حیائی کا نام دے کر اسے چادراور چار دیواری کے خلاف قراردیا ہے۔

عورت مارچ کی تشہیر کرنے والی رہنما عروج اورنگزیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سوال کیا کہ عورتوں کو اپنے حقوق مانگنے کا حق کیوں نہیں؟’ان کے حقوق اور آزادی دینے کی بجائے جدوجہد پر بھی قدغن لگائی جارہی ہے۔‘

انہوں نے کہا یہاں آئے روز جلاؤ گھراؤ، توڑ پھوڑ والے مارچ تو ہوتے ہیں لیکن عورت مارچ کیوں نہیں ہوسکتا؟

’ہمارے مطالبات اور جدوجہد کا سب سے بڑا جواز یہ ہے کہ عورت مارچ کی دعوت میں نہ صرف روکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں بلکہ تشہیری پوسٹر اور بینرز بھی پھاڑدیے گئے جو ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت بنوائے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ اسی گھٹن زدہ ماحول کے خاتمے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

خواتین مارچ کی حمایت کرنے والی خاتون رہنما حمیرا شیخ نے کہا کہ یہاں ہر قسم کے پرتشدد مارچ ہو سکتے ہیں لیکن عورت مارچ کی اجازت نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ عورت ہر جگہ ظلم وزیادتی کا شکار ہے۔’ ہر شعبے میں ہراسگی کی جاتی ہے، زیادتی اور قتل وغارت گری عام ہے، ایسے میں خواتین اپنے تحفظ کے لیے باہر نہ نکلیں تو کیا کریں؟

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین