پاکستان بھیجو ورنہ مر جائیں گے: ترکی سے پانچ لاہوریوں کی اپیل

ترکی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج فراسٹ بائٹ کا شکار پانچ پاکستانی غیر قانونی تارکین وطن کا کہنا ہے کہ ان کو واپس لایا جائے نہیں تو وہ مر جائیں گے۔

ترکی میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے پانچ پاکستانی نوجوان فروسٹ بائٹ  کا شکار ہیں (تصاویر: امداد حسین)

’ہمیں پاکستان واپس بھیج دو ورنہ ہم مر جائیں گے‘، یہ اپیل غیرقانونی طریقے سے ترکی میں داخل ہونے والے پانچ پاکستانی غریب نوجوانوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کی ہے جو قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے چوری چپکے ترکی کے سرد پہاڑی علاقوں سے گزرنے کے دوران فروسٹ بائٹ کا شکار ہوئے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق ان میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے جن کے ہاتھ پاؤں جراحی کے ذریعے علیحدہ کیے جائیں گے۔ یہ غیر قانونی تارکین وطن اس وقت ترکی میں زیر علاج ہیں لیکن ابتر حالت میں ہیں۔ 

ترکی میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے پانچ پاکستانی نوجوان اس وقت فروسٹ بائٹ کا شکار ہو گئے جب وہ ایران کے راستے ترکی کی سرحد پر واقع سرد پہاڑی علاقے سے گزر رہے تھے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندے نے ترکی میں ایک دوست کی مدد سے وائس مییسیجز کے ذریعے ہسپتال میں داخل ان غیر قانونی تارکین وطن پاکستانیوں سے دو دن پہلے رابطہ کیا۔ انہوں نے منت سماجت شروع کی کہ ان کو پاکستان واپس بھیجا جائے ورنہ وہ سب جلد مر جائیں گے۔

ایک نے کہا: ’ہم بہت غریب ہیں، ہم  نے پیسے قرض لیے، ہم یہاں آئے اور پھنس گئے۔ ہمارے والدین انتظار کر رہے ہیں، پریشان ہیں، ہماری بہنیں پریشان ہیں۔ ہم مر رہے ہیں، ہمیں واپس بھیج دیں، ہم پاکستان میں اپنا علاج کروائیں گے، یہاں ہم صحت یاب نہیں ہو رہے۔‘

انہوں نے درخواست کی کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشرقی ترکی میں شہر وان کے ایک ہسپتال کے ڈاکٹر، جنہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان پانج پاکستانی مریضوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے اور اگر ان کی صحت اجازت دے ’تو آئندہ دس دنوں کے اندر ان کے پاؤں اور ہاتھوں کی انگلیاں کاٹنی پڑیں گی اور باقیوں کے صحیح سلامت صحت مند ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔‘

ایک نرس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ سب ابتر حالت میں ہیں اور جسمانی بیماری کے علاوہ نفسیاتی طور پر سخت دباؤ کا شکار ہیں۔

اس حوالے سے جب وان میں موجود قانون دان اور مہاجرین و امیگرنٹس کے وکیل محمد کازن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جب وہ غیر قانونی تارکین وطن پاکستانی مظہر اقبال، محمد صفیان، محمد سیپال، محمد حالی اور محمد معظم سے پچھلے ہفتے ملے تو وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے اور ملک واپس جانے کی استدعا کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’علاج کی وجہ سے ان کو جلد واپس بھیجنا تو ممکن نہیں لیکن ہم نے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے اپیل کی ہے کہ ان کو انسانی بنیادوں پر علاج کے لیے یہاں رہائش پذیر ہونے کی اجازت دی جائے اور تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان پاکستانیوں کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ یہ بری حالت میں ایک سڑک کے کنارے پڑے ہوئے تھے اور ایک شہری ان کو ہسپتال تک لے آیا۔ 

مقامی حکام کے مطابق مریضوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کو کوئی ایجنٹ لے کر نہیں آیا تھا بلکہ وہ غربت سے تنگ آ کر بلوچستان سے ایران کے راستے ترکی میں داخل ہوئے۔ تاہم مقامی وکلا کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ایجنٹ کا نام نہیں لیا جاتا۔ 

ایک مریض نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ترک فورسز نے داخلے کے وقت ان کو پکڑ لیا، ان سے جوتوں سمیت سارا سامان چھین لیا اور پھر ان سے کہا کہ اب وہ ’جہاں جانا چاہیں چلے جائیں‘۔ تاہم اس بات کی کسی غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایک اور مریض نے بتایا کہ نہ تو وہ علاقے سے واقف ہیں اور نہ ان کو ناموں کا پتہ ہے لیکن ان کو پولیس سے چوری چپکے ترکی کی سرحد پر واقع پہاڑی علاقے سے گزرنا پڑا۔

ان کے مطابق: ’راستہ کٹھن تھا اور برف بھی پڑی ہوئی تھی۔ سردی کی شدت زیادہ تھی۔ ہم نڈھال ہو گئے تھے۔ ہمارے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں کالی ہونے لگی تھیں۔ ہماری توانائی ختم ہونے لگی۔ ہم نے آگ جلائی اور اپنے ہاتھ پاؤں گرم کرنے لگے جس سے وہ سوج گئے اور چھالے نکل آئے۔‘ 

پھر وہ اسی علاقے میں نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے جب ایک شہری نے ان کو ہسپتال پہنچایا۔ 

ان غیر قانونی تارکین وطن کا دعویٰ تھا کہ ان سب کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔ یاد رہے کہ ان سے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ گم ہو گئے تھے اور ان کے پاس سفری دستاویزات بھی نہیں ہیں اور حکام بھی فی الحال ان کے دعوؤں پر اکتفا کر رہے ہیں۔ 

ان پاکستانیوں کے علاوہ بنگلہ دیش، ایران اور افغانستان کے غیر قانونی تارکین وطن بھی اسی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔  

اس حوالے سے جب وزارت خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی سے رابطہ کیا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ سفارت خانے کو آگاہ کیا گیا ہے اور تفصیلات چیک کی جا رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا