پاکستان: لڑکیوں کے علاوہ لڑکے بھی کھیلوں میں جنسی ہراسانی کا شکار

پاکستان ایک کرکٹ سے محبت کرنے والا ملک ہے۔ یہاں ہزاروں لڑکے کرکٹ میں اپنی مہارت کو بہتر کرنے کے لیے اکیڈمیز کا رخ کرتے ہیں، لیکن مقامی سطح کی کرکٹ میں بھی لڑکوں کو اس طرح سے ہراساں کیا جاتا ہے کہ انہیں برسوں تک اس کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔

پاکستان کے قوانین متاثرین کے ساتھ ہمدردی نہیں رکتھے۔ یہاں طاقتور افراد کی حکومت ہے اور اگر کوئی اشرافیہ کو للکارتا ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔ (تصویر: پکسا بے)

یہ 1997 کی بات ہے جب ایک نوجوان اور پرجوش لڑکی ’ب‘ آنکھوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا خواب لیے اپنے گھر والوں کو الوداع کرتی ہیں۔

وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ویمن ونگ کے زیر اہتمام پہلے دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹرائلز میں قومی کیمپ میں بطور بولر منتخب ہو گئی تھیں۔ انہیں اپنا سامان باندھنے کی ہدایت دی گئی کیوں کہ پہلے انہیں کراچی، جہاں وہ رہائش پذیر تھیں، کی ریجنل اکیڈمی میں رپورٹ کرنا تھا اور پھر وہاں سے ٹیم کی لاہور روانگی تھی۔

بظاہر یہ سب کسی بھی ںوجوان لڑکی کے لیے شاندار تھا لیکن اس کا اختتام اتنی جلدی ہو جائے گا، اس کے بارے میں تو انہوں نے امید بھی نہیں کی تھی۔

جب وہ اکیڈمی پہنچیں تو ان پر انکشاف ہوا کہ ان کی جگہ حیدرآباد کے ایک با اثر پولیس افسر کی بیٹی کو منتخب کر لیا گیا ہے۔

وہ مینیجر کے پاس اپنے کمرے کے بارے میں معلومات لینے گئیں تو اکیڈمی کی ناظم نے انہیں بتایا کہ وہ پہلے دیوار پر آویزاں لسٹ میں اپنا نام تو چیک کر لیں۔ ان کا نام اس فہرست میں شامل ہی نہیں تھا۔

’ب‘ کا فخرِ پاکستان بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی کیوں کہ ان کی کہانی نے ایک اور ڈراؤنا موڑ لیا۔

ان کی مینیجر، جن کے ساتھ انہوں نے ماضی قریب میں ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کھیلا تھا، نے انہیں اس وقت تک اپنے کمرے میں رہنے کے لیے کہا جب تک معاملات ٹھیک نہ ہو جائیں۔

’ب‘ نے بتایا: ’میری مینیجر نے مجھے کہا کہ مجھے علم ہے کہ تمہارے ساتھ غلط ہوا ہے۔ میں تمہیں (سکواڈ میں) واپس لا سکتی ہوں۔ انہوں نے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تو میں خوشی خوشی ان کے ساتھ رہنے کو تیار ہو گئی اور سوچا کہ وہ کتنی اچھی خاتون ہیں۔‘

2017 میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک ابھرتی ہوئی میکس مارشل آرٹسٹ ’ٹ‘ نے اپنی دوست کے مشورے کے بعد سپورٹس کوٹے پر لاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی میں بیچلرز پروگرام کے لیے درخواست دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ صحافت میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی تھیں تاہم ان کا داخلہ سپورٹس سائنسز میں ہوگیا۔ یونیورسٹی میں مارشل آرٹس ٹرینر نے انہیں یقین دلایا کہ انہیں ان کی مرضی کے شعبے میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔

’ٹ‘ نے ان کی بات پر یقین کرلیا اور اس احسان پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ کلاسز شروع ہونے سے پہلے ہی وہ یونیورسٹی کے ہاسٹل شفٹ ہوگئیں۔ ان کی ایک دوست کا ابھی تک یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ہوا تھا۔ کوچ نے ایک دن ان کو میسج بھیجا: ’آپ یقیناً اپنے گھر کو یاد کر رہی ہوں گئی۔ میں آپ کو باہر گھمانے اور شہر دکھانے لے جا سکتا ہوں۔‘

’ٹ‘ نے بتایا: ’مجھے یہ پیشکش کچھ عجیب سی لگی اور میں نے اس سے بچنے کے لیے ایک عذر پیش کر دیا۔‘

تقریباً 20 سالوں کے فرق کے باوجود ’ب‘ اور ’ٹ‘ دونوں ایک جیسے برے حالات کا شکار تھیں۔

ہراسانی کے پیچھے ہمیشہ ایک جیسی نفسیات کارفرما ہوتی ہے۔ وہ ایسی شخصیات کی مدد لے رہی تھیں جن کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

دونوں نے اپنے مینیجر اور کوچ کو فرشتوں کی حیثیت سے دیکھا, جو ان کی مدد کے لیے غیب سے بھیجے گئے تھے۔ لیکن حقیقت اس سے الٹ تھی۔ بدقسمتی سے وہ اس کے برعکس نکلے۔

آٹھ سالوں سے ذہنی امراض کے شعبے میں کام کرنے والی ماہر نفسیات ارم غازی کا کہنا ہے: ’جنسی طور پر ہراساں کرنا جسمانی تعلق کے حوالے سے کم اور طاقت کے اظہار کے بارے میں زیادہ اہم ہے جہاں مجرم متاثرہ شخص کو ڈرانے یا انہیں کمزور بنانے کے لیے یہ کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا صنف سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

جب اس دن کا سورج ڈھلنا شروع ہوا تو ’ب‘ کے لیے چیزیں عجیب و غریب ہونے لگیں۔ جب وہ اپنے بستر پر لیٹیں تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی مینیجر ان کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھیں۔

’ب‘ نے بتایا: ’میں نے ان سے پوچھا: ’کیا آپ ٹھیک ہیں؟‘ انہوں نے جواب دیا: ’مجھے ڈر لگ رہا ہے‘۔ میں نے کہا: ’ٹھیک ہے آپ سو جائیں،‘ مجھے اس میں کچھ عجیب نہیں لگا۔‘

درجنوں ایسے ستارے ہوتے ہیں جو چمکنے سے پہلے ہی برباد کر دیے جاتے ہیں۔۔۔

تاہم ’ب‘ کی مینیجر کی طرف سے بار بار اس طرح کے برتاؤ کے بعد انہیں پتہ چل گیا کہ وہ کیا چاہتی تھیں۔ ان کی مینیجر، جن کی عمر اُس وقت تقریباً 35 سال تھی، جو شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھیں، ’ب‘ سے قربت کی خواہش مند تھیں اور توقع کر رہی تھیں کہ ان کے ’احسان کے بدلے‘ ’ب‘ انہیں ایسا کرنے دیں گی۔

’میں اپنے سینے پر سٹار (پی سی بی کا لوگو) لگانے کا خواب دیکھتی تھی۔ میں نے سوچا کہ انہیں یہ تھوڑا سا کرنے دوں کیوں کہ بہرحال وہ خاتون ہی تو تھیں۔ پھر میں نے سوچا کہ اگر مجھے یہی کرنا تھا تو میں نے اتنی محنت کیوں کی۔‘

’ب‘ تنہائی کا شکار ہو گئیں کیوں کہ وہ اس بارے میں اپنے والد سے بھی بات نہیں کرسکتی تھیں جنہیں وہ اپنے دوستوں کی طرح سمجھتی تھیں۔

دوسری جانب ’ٹ‘ کی جانب سے اپنے کوچ کو ٹالنے کے کچھ دن بعد انہیں ایک بار پھر باہر گھومنے کے لیے میسج موصول ہوا۔

وہ بتاتی ہیں: ’میں نے انہیں جواب دیا کہ میرے دوست کو یونیورسٹی آنے دو پھر ہم تینوں اکٹھے باہر جائیں گے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ’ہم اسے اپنے ساتھ کیوں لے کر جائیں گے۔ یہ پہلا واقعہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔‘

کوچ نے ایک بار ان سے کہا کہ وہ انہیں اپنے ڈانس کی ویڈیو بھیجے۔

’میں نے ان سے کہا کہ جب آپ کی شادی ہوگی تو ہم سب مل کر ناچیں گے اور پھر آپ مجھے ناچتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔‘ اس کا کوچ نے جواب دیا: ’آپ بہت پیاری ہیں۔‘

یونیورسٹی شروع ہونے سے قبل ’ٹ‘ نے اپنے کوچ کی جانب سے موصول ہونے والے تمام پیغامات کو ڈیلیٹ کر دیا تھا کیوں کہ وہ ڈرتی تھیں کہ کوئی اور انہیں پڑھ نہ لے۔

جیسے جیسے ان کی پڑھائی شروع ہوئی ویسے ہی ان کی کھیلوں کی تربیت بھی اور اس دوران ان کے کوچ کا طرز عمل کافی مشکوک تھا۔ وہ دوسرے تمام کھلاڑیوں کے سامنے ان کی تعریف کرتے اور ان سے سیکھنے کو کہتے، یہاں تک کہ وہ سب کے سامنے ان کے جسم کی تعریف کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے جس کی وجہ سے وہ اچھا محسوس نہیں کرتی تھیں۔

’ٹ‘ کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ میکس مارشل آرٹس میں آگے بڑھنا اور اس کی پریکٹس کرنا چاہتی تھیں۔ اس کے بجائے وہ تمام غلط وجوہات کی بنا پر توجہ حاصل کر رہی تھی۔

ایک تربیتی سیشن کے دوران انہوں نے اپنے کوچ سے جھگڑتے ہوئے کہا: ’اگر آپ ہماری تربیت نہیں کرنا چاہتے تو آپ ہم سب کو یہاں بلاتے ہی کیوں ہیں اور وقت ضائع کیوں کرتے ہیں؟‘

کوچ کو ان کا لہجہ پسند نہیں آیا۔ وہ پہلے ہی ’ٹ‘ کی جانب سے توجہ نہ ملنے کے باعث  بے چین ہو رہے تھے اور یہ مایوسی غصے میں تبدیل ہوگئی۔

نامور پاکستانی تیراک اور اولمپیئن کرن خان کے خیال میں اگر سامنے والا اپنے حق کے لیے کھڑا ہو جائے تو کوئی کوچ یا کوئی بھی شخص کسی کو ہراساں نہیں کرسکتا۔

کرن خان گذشتہ 19 سالوں سے اس کھیل میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 2015 تک کبھی جنسی ہراسانی کے کسی ایک بھی واقعے کے بارے میں نہیں سنا۔

انہوں نے کہا: ’کوئی آپ کو ہراساں کرنے کی کیسے جرات کر سکتا ہے؟ جب آپ خود کسی کو اس کی اجازت دیتے ہیں تو ہی وہ ایسا کریں گے۔ میں چاہتی ہوں کہ (ہراسانی سے) متاثرہ افراد اسی جگہ اور اس وقت ہی بولیں جب انہیں ہراساں کیا جارہا ہو۔ میں نے انہیں خاموشی سے یہ سب جھیلتے ہوئے دیکھا ہے کیوں کہ وہ اپنے کیریئر کے حوالے سے خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ خاموش رہو گے تو آپ اپنی پہچان کھو دو گے۔‘

دوسری طرف ارم غازی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قدامت پسند معاشرے میں جنسی استحصال یا ہراساںی سے جڑی بدنامی اس قدر پریشان کن ہے کہ متاثرین اس کے بارے میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔

’ہمارا معاشرہ ابھی تک ہراسانی کا سامنا کرنے والوں کے لیے سازگار نہیں ہے۔ ایسے افراد کو ہی تمام مشکلات جھیلنا پڑی ہیں۔‘

نوجوان کرکٹر ’ب‘ اکیڈمی میں اپنی زندگی کا بترین وقت گزار رہی تھیں۔ ’ب‘ وہ کھیل کھیل رہی تھیں جو ان کا جنون تھا اور یہ سوچنا ان کے لیے رومانوی تھا کہ وہ ایک دن بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔

جیسا کہ وہ کہتی ہیں: ’میں دن کے وقت خود کو اس کرہ ارض پر سب سے زیادہ خوش و خرم شخصیت محسوس کرتی تھی لیکن جوں ہی شام ڈھل جاتی میرا جوش و خروش ختم ہوجاتا تھا۔ میری خوشی خوف میں تبدیل ہو جاتی کیوں کہ مجھے دوبارہ اپنی مینیجر کا سامنا کرنا اور ان کی جنسی خواہش اور ناراضگی سے خود کو بچانا ہوتا۔‘

دریں اثنا ’ٹ‘ کو بھی اسی قسم کی صورت حال کا سامنا تھا۔ ان کو تربیتی سیشنز کے دوران ہر روز اپنے کوچ سے نمٹنا پڑتا۔ وہ اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پا رہی تھی جب کہ ان کا کھیلوں میں کیریئر بھی رکا ہوا تھا۔

’ب‘ کو شہرت مل رہی تھی، وہ پاکستان کرکٹ کے بڑے ستاروں سے مل رہی تھیں اور یہ کسی بھی قیمت پر ایک نوجوان کھلاڑی کے لیے ان کی خواہشات کی تکمیل کا واحد راستہ تھا۔

’ب‘ کا کہنا تھا: ’سچ پوچھیں تو میں ان (مینیجر) کی وجہ سے کرکٹرز سے ملنے والی توجہ سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ وہ (مینیجر) توجہ حاصل کرانے میں میری مدد کر رہی تھیں۔‘

جب کہ ’ٹ‘ کے لیے کوئی چیز خوش آئند نہیں تھی۔ وہ (کوچ) چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کی مسلسل تذلیل کررہا تھا۔ معاملات مزید بگڑ گئے اور ان کی ذہنی اور جذباتی تکلیف جسمانی استحصال میں بدل گئی کیوں کہ وہ ان (کوچ) کی خواہشات کی تکمیل نہیں کر پا رہی تھی۔

مارشل آرٹس ٹریننگ سیشنز کے دوران کوچ اور کھلاڑی ایک دوسرے کو اس طرح مارتے ہیں کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے تاہم ان کے کوچ نے انہیں جان بوجھ کر زیادہ زور سے مارنا شروع کر دیا اور ایسا کرنے کے بعد وہ انہیں بہادر اور مضبوط کہتے۔

’ٹ‘ کا کہنا تھا: ’کوچ کی مار سے میرے پورے جسم پر نشانات پڑ گئے تھے، درد ہونے کے باوجود میں ان کے سامنے رو نہیں سکتی تھی۔ میں کمزور نہیں لگنا چاہتی تھی اور نہ ہی انہیں یہ دکھانا چاہتی تھی کہ وہ مجھ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔‘

’ٹ‘ یہ سب کچھ خاموشی سے سہہ رہی تھیں کیوں کہ انہیں لگتا تھا کہ اگر انہوں نے یہ بات اپنے گھر والوں کو بتائی تو وہ ان کی تعلیم ختم کرا دیتے۔

’ٹ‘ کو وہ دن خاص طور پر یاد ہے جب یونیورسٹی کے احاطے میں ٹریننگ سیشن کے دوران ان کے کوچ نے انہیں چیلنج کیا کہ وہ اپنا ٹریک سوٹ اتار کر ان سے لڑیں۔

’ٹ‘ نے اس سے فوراً ہی انکار کردیا۔ کچھ دن بعد ایک اور تربیتی سیشن کے دوران کوچ نے انہیں اتنی زور دار کک ماری کہ وہ ایک دو گز دور جا گریں۔

’مجھے اپنے آنسوؤں کو روکنا پڑا۔ میں کھڑی ہوئی اور ریسٹ روم کی جانب بھاگ پڑی جہاں میں نے رو کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا۔‘

’ب‘ کو اپنی منیجر اور ’ٹ‘ کو اپنے کوچ کے ہاتھوں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دونوں نے ایک بار ہی اس ذہنی، جسمانی اور جذباتی اذیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

آسٹریلیا کے دورے کے لیے قومی ٹیم کے سکواڈ کے اعلان سے محض دو دن قبل ’ب‘ نے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب ’ٹ‘ نے بھی اپنے دوستوں کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا جنہوں نے انہیں کوچ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مشورہ دیا۔

’ب‘ کہتی ہیں: ’مجھے اپنے آپ سے گھن آرہی تھی۔ اگر میں نے ایسے مطالبات پورے کرنے تھے تو میں پاکستان کے رنگوں میں سامنے نہیں آنا چاہتی تھی۔‘

انہوں نے جنسی عمل سے پرہیز کیا لیکن بعض اوقات وہ ان (مینیجر) کی خواہش بھی پوری کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میں ذہنی دباؤ کا شکار تھی لیکن میں خود کو تسلی دیتی تھی کہ میں خوش ہوں اور میں اپنے خواب پورے کروں گی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔‘

انہوں نے انتظامیہ کو بتایا کہ وہ کیوں ٹیم چھوڑ رہی ہیں لیکن اپنی مینیجر کا نام نہیں بتایا۔ وہ کہتی ہیں: ’میں نے انہیں بتایا کہ میں وہ مطالبات پورے نہیں کر سکتی جو کچھ افراد کر رہے ہیں۔ میں نے بورڈ کو اتنا سب بتایا لیکن بورڈ نے دوبارہ کبھی رابطہ نہیں کیا۔‘

لیکن ’ٹ‘ نے اپنے کوچ کے خلاف کیس درج کروانے سے پہلے یہ معاملہ اپنی یونیورسٹی کے اندر ہی حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خط لکھا اور بیان کیا کہ کیسے ان کے کوچ کی جانب سے ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ یونیورسٹی نے ایک کمیٹی بنائی اور ’ٹ‘ کو طلب کیا کہ وہ اپنا مقدمہ ان کے سامنے پیش کریں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔

انہوں نے بتایا: ’میں نے انہیں کہا میرے جسم پر موجود نشان دیکھیں اور وہ خراشیں بھی جو پورے جسم پر تھیں۔‘ لیکن انہوں نے ’ٹ‘ کو ٹریننگ جاری رکھنے کا کہا کیوں کہ انتظامیہ یونیورسٹیز کے مقابلے میں ان کی جیت کے لیے پرامید تھی۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نے انہیں کہا کہ انہیں کوچ کو ہٹانا پڑے گا اگر وہ چاہتے ہیں میں کھیلنا جاری رکھوں۔‘ لیکن آخر کار ’ٹ‘ کو ہی اس کھیل کو خیرآباد کہنا پڑا جو وہ دس سال سے کھیل رہی تھیں۔ ٹ نے اپنا فون نمبر بھی بدل لیا، انہوں نے اپنا ڈیپارٹمنٹ بھی تبدیل کر لیا اور اپنے کوچ اور ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ تمام رابطے ختم کر دیے۔

ان دو واقعات نے کھیلوں کو دو ممکنہ بہترین ستاروں سے محروم کر دیا۔ کھیلوں کی دنیا میں جنسی ہراسانی اتنی زیادہ ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ لعنت صرف نیشنل یا یونیورسٹی کی سطح تک نہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی ہے۔ پوری دنیا میں نو عمر لڑکے اور لڑکیاں اس کا نشانہ بنتے ہیں اور درجنوں ستارے چمکنے سے پہلے ہی ماند پڑ جاتے ہیں۔

جیکب آباد کے چھوٹے سے گاؤں ڈیرہ اللہ یار کے سرکاری سکول کے استاد سلیم اختر ایک ابھرتے ہوئے فٹ بال سٹار تھے۔ انہوں نے کئی سال اکیڈمیز میں گزارے اور قومی سطح تک پہنچے لیکن وہ قومی ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔ سلیم اختر کہتے ہیں: ’جنسی ہراسانی کا یہ رجحان نیا نہیں ہے۔ جب میں 70 کی دہائی میں اکیڈمی لیول پر کھیلتا تھا تو یہ تب بھی عام تھا۔‘

کوچز اور مینیجرز بچوں کو لالچ دے کر استحصال کرتے تھے۔ وہ ایسے کئی واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم شام تک پریکٹس کیا کرتے تھے۔ ایک دن میں اور چند اور لڑکے کچھ دیر تک اکیڈمی میں رکے رہے۔ جب اندھیرا ہوا تو ہم نے ایک لڑکے کو میدان میں چیختے ہوئے سنا۔ جب وہاں بھاگ کر پہنچے تو دیکھا کہ ایک 15-14 سال کے لڑکے کے ساتھ کوچ زبردستی کر رہا تھا۔ ہمیں دیکھ کر اس نے اس لڑکے کو چھوڑ دیا۔‘

وہ کہتے ہیں اس کے بعد وہ کبھی اکیڈمی واپس نہیں گئے۔

انہوں نے ایک اور واقعہ بھی بتایا کہ جب وہ اپنی ٹیم کے ساتھ سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر میرپور خاص گئے تاکہ ایک ٹورنامنٹ میں حصہ لے سکیں۔ تربیتی مشق کے بعد ان کے کوچ ایک لڑکے کو شہر گھمانے کے بہانے ریڈ لائٹ ایریا لے گئے۔ وہ کہتے ہیں: ’ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ استحصال کرنے والا شخص ایسا کرنے کے لیے خود قدم اٹھائے کبھی وہ اپنی خواہشات کو ڈھکے چھپے انداز میں بھی پورا کرنا چاہتا ہے۔‘

سلیم اختر دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے کوچ اور سینئیر کھلاڑیوں کو اس بارے میں فخر سے بات کرتے دیکھا ہے کہ وہ کیسے بچوں کا استحصال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں کلبوں اور اکیڈمیوں کی اعلیٰ انتظامیہ میں ملوث ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’اعلیٰ انتظامیہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی بلکہ وہ ایسا کرنے والے افراد سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔‘

پاکستان کے قوانین متاثرین کے ساتھ ہمدردی نہیں رکتھے۔ یہاں طاقتور افراد کی حکومت ہے اور اگر کوئی اشرافیہ کو للکارتا ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔

سال 2013 میں پانچ لڑکیاں جن میں سیما جاوید، کرن ارشاد، حنا غفور، صبا غفور اور حلیمہ رفیق شامل ہیں ملتان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین مولوی سلطان عالم اور سلیکٹر محمد جاوید کے خلاف سامنے آئیں۔ ان لڑکیوں کے مطابق یہ اشخاص ٹیم میں سلیکشن کے بدلے ان سے جنسی خواہشات پوری کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔

ایک مقامی صحافی، جنہوں نے ابتدائی طور پر یہ انکشاف کیا تھا، نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا: ’مولوی سلطان عالم ایک طاقتور شخص تھے۔‘ کرکٹ کلب سے تعلق رکھنے والی کئی اور خواتین نے بھی سلطان عالم پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ لیکن وہ سامنے آنے اور نتائج سے خوفزدہ تھیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک کمیٹی قائم کی تاکہ اس معاملے کی تحقیق کی جاسکے لیکن توقعات کے مطابق انہیں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔ بورڈ کی جانب سے الزام لگانے والی لڑکیوں پر جرمانے اور نو ماہ کی پابندی عائد کر دی گئی۔

اگر سسٹم کے خلاف جانے کی ان کی سزا کم نہیں تھی تو سلطان عالم نے ان پر ہتک عزت کا مقدمہ کر دیا۔ ہر لڑکی پر پابندی کی سزا ختم ہونے کے بعد 20 لاکھ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا۔ 17 سالہ حلیمہ قانونی نوٹس ملنے کے بعد گھبرا گئیں اور انہوں نے تیزاب کی پوری بوتل پی کر خود کشی کر لی۔ تقریباً تمام ہی لڑکیاں جنہوں نے اس نظام میں موجود طاقتور افراد کے خلاف آواز اٹھائی منظر عام سے غائب ہو گئیں۔ مقامی صحافی کے مطابق حلیمہ کے خاندان نے مقدمے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن اطلاعات کے مطابق مولوی سلطان ان سے ’عدالت سے باہر معاملہ طے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘ حلیمہ کا خاندان بھی اس علاقے سے کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہو گیا۔ ان کے رشتہ داروں نے ان سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لیے اور ہلاک ہونے والی لڑکی کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نہ رہا۔

ہم حنا منظور کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے اور ان سے اس واقعے کے بارے میں بات کرنا چاہی لیکن وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

سابقہ اولمپیئن کرن خان، جو درجنوں میڈل جیت چکی ہیں، کا کہنا ہے: ’پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ غریب افراد کھیل کے اخراجات نہیں برداشت کر سکتے اور اگر وہ اس شعبے میں اپنی جگہ بنا لیں تو انہیں طاقتور افراد کے ہاتھوں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر غریب والدین کے بچے اس مشکل کا سامنا کریں تو وہ قانونی کارروائی نہیں کر سکتے۔ جب ایک لڑکی نے خود کشی بھی کی تو کوئی کچھ نہ کر سکا۔ اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے اور بااثر افراد نے قانون کا مذاق بنا رکھا ہے۔ کسی حکومتی عہدیدار کی طرف سے ایک کال آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔‘

اس افسوناک واقعے کے باوجود پی سی بی نے ہراسانی کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں لیے۔ پی سی بی کے نمائندے نے ہراسانی کے حوالے سے بورڈ کی پالیسی جاننے کے لیے کیے جانے والے والے سوال پر کہا: ’ہم ایسے معاملات پر بات نہیں کرتے۔ ہمارے ہیومن ری سورس شعبے کی جنسی ہراسانی پر پالیسی موجود ہے اور اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں قائم کی گئیں ہیں۔‘

وکلا کی جانب سے متاثرین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ سامنے آئیں اور قانونی راستہ اختیار کریں تاکہ ملوث افراد کو سزا دلوائی جا سکے گوکہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ سول وکیل محمد شیخ کہتے ہیں: ’پاکستان میں جنسی ہراسانی کے قوانین بہت نئے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں رائج پدرشاہی ہے جو متاثرین کو شکایت درج کروانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔‘

عدالت میں جنسی ہراسانی کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’متاثرین کو چاہیے کہ وہ ہراسانی کے ثبوت اور شواہد جمع رکھیں، یہ پیغامات ہوں یا وائس ریکارڈنگ یا چاہے ویڈیو ریکارڈنگ ہو۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کے گواہوں سے رابطے میں رہیں تاکہ ان پر دباؤ ڈال کر ان کا موقف نہ تبدیل کروایا جا سکے۔‘

اس کا مطلب ہے کہ ’ب‘ اور پانچ خواتین کرکٹرز جنہیں جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا کبھی اپنا مقدمہ نہیں جیت سکتی جب تک وہاں گواہ نہ ہوں جو عدالت میں بھی اس حوالے سے بیان دینے پر رضامند ہوں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پینل کوڈ میں ہم جنس ہراسانی اور مردوں کی ہراسانی سے متعلق صرف ایک شق موجود ہے۔ جو کہ سیکشن 509 ہے جس کے مطابق دست درازی، جنسی تسکین کی خواہش، زبانی یا غیر زبانی، یا جنسی نوعیت کے جسمانی اشارے جس کا مقصد ’کسی انسان‘ کو تنگ کرنا، دھمکی دینا، تذلیل کرنا یا ڈرانا ہو۔ اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کے تمام قوانین خاص طور پر خاتون کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں سیکشن 509 کے استعمال کا ایک واقعہ بھی نہیں ہے۔ وکیل ہادی علی سے جب سیکشن 509 کا پوچھا گیا تو انہوں نے محمد شیخ کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایسے شخص سے نہیں ملے جس کے مقدمے میں سیکشن 509 کا ذکر کیا گیا ہو۔

پاکستان میں جنسی ہراسانی کو خواتین کو اپنے خواب پورے کرنے سے روکنے کے ایک طریقے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کراچی کے علاقے لیاری میں جافا فٹ بال کلب وہ واحد کلب ہے جہاں خواتین کو فٹ بال کھیلنے کی اجازت ہے۔ لیاری کی شہرت منشیات، گینگ وارز اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہے۔ کھیلوں کی وسیع تاریخ کے باوجود لیاری میں کچھ ایسے عناصر ہیں جو خواتین کے فٹ بال کھیلنے کے مخالف ہیں۔ لیاری میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ہانی بلوچ کہتی ہیں: ’یہاں خواتین باکسرز ہیں، کراٹے اور مارشل آرٹس کھیلنے والی خواتین ہیں لیکن کچھ لوگ چاہتے ہیں وہ فٹ بال نہ کھیلیں۔‘

جافا اکیڈمی میں لڑکوں کی ٹیم تھی لیکن انہوں نے فیصلہ کیا وہ لڑکیوں کی ٹیم بھی بنائیں گے۔ ان کے اس فیصلے نے معاشرتی روایات کو للکارا۔ وہ چاہتے تھے کہ خواتین کی تربیت کے لیے الگ جگہ مختص ہو تو انہوں نے زمین کا ایک حصہ پسند کیا جہاں وہ بدھ سے ہفتے تک شام پانچ سے آٹھ کے درمیان پریکٹس کرتی ہیں۔ ضلعی فٹ بال فیڈریشن کو یہ خیال پسند نہیں آیا اور انہوں نے اس کی مخالفت کرنا شروع کر دی۔ ایک کھلاڑی کہتی ہیں: ’وہ نہیں چاہتے کہ ہم اس میدان میں کھیلیں۔‘

ضلعی انتظامیہ جو کہ کراچی کی میٹروپولیٹن کا زیریں ادارہ ہے، نے لڑکیوں کی ٹیم کو ایک الگ جگہ پر نیٹ لگا کر پریکٹس کی اجازت دے دی لیکن مقامی سیاسی قوتیں اس کام کو مکمل کرنے کی اجازت نہیں دے رہیں۔ اس علاقے کے سابقہ کونسلر جو خود فٹ بال کے کھلاڑی رہے ہیں، نے ہی اس نیٹ کی تنصیب کو روک رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لڑکیاں شارٹس میں کھیل رہی ہیں یہ کیا بے حیائی ہے۔‘ لڑکیوں کو کھیلنے سے روکنے کے لیے مقامی سیاسی قوتوں نے ان کو جنسی ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایک دن ٹریننگ کے بعد کچھ لڑکوں نے موٹر سائیکل پر لڑکیوں کا پیچھا کیا جب وہ اپنے گھر جا رہی تھیں۔ پہلے انہوں نے نازیبا جملے کہے اور پھر انہوں نے ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس واقعے کی عینی شاہد ایک لڑکی کا کہنا تھا کہ ’جس لڑکی کا ہاتھ پکڑا گیا تھا اس نے فوراً ہاتھ پکڑنے والے کو ایک تھپڑ لگا دیا۔ وہ لڑکا اس لڑکی کو اغوا کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکی دینا شروع ہوگیا۔ وہ واپس اکیڈمی بھاگی اور رونے لگی اور پھر اس نے کھیلنا چھوڑ دیا۔

یہاں تک کہ تربیتی سیشنز کے دوران بھی لڑکیوں کو کھیلتے دیکھنے کے لیے ایک ہجوم جمع ہو جاتا ہے جو لڑکیوں کے بارے میں نازیبا جملے بازی کرتا ہے۔ اکثر اوقات کھیل کے دوران کچھ افراد میدان میں آ کے ان کے سامنے پیشاب کرتے ہیں۔ جافا اکیڈمی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ طریقے اس لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ لڑکیوں کو فٹ بال کھیلنے سے دور رکھا جا سکے۔‘

پاکستان ایک کرکٹ سے محبت کرنے والا ملک ہے۔ یہاں ہزاروں لڑکے کرکٹ میں اپنی مہارت کو بہتر کرنے کے لیے اکیڈمیز کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن مقامی سطح کی کرکٹ میں بھی لڑکوں کو اس طرح سے ہراساں کیا جاتا ہے کہ انہیں برسوں تک اس کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ اسامہ خالد 2012 میں کراچی میں انڈر 15 کرکٹ کھیلتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کوچ اور سینئیر کھلاڑی کسی نوجوان کھلاڑیوں کو ہراساں کرتے تھے۔ ’وہ بغیر کسی وجہ سے آپ کو پشت پر تھپڑ لگاتے تھے۔ آپ کا نام بگاڑتے تھے اور کوچ اپنے پسندیدہ لڑکوں کو اپنے پاس بیٹھنے کا کہتے تھے۔ وہ بغیر کسی وجہ کے ان کے ہاتھ پکڑ کر بیٹھے رہتے تھے جو کہ عجیب لگتا تھا اور ان لڑکوں کو پریشان کرتا تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ لڑکے اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں بچوں کی جسمانی سرگرمیاں بہت کم ہو چکی ہیں۔ وہ بس اپنی سمارٹ ڈیوائسز پر ایپس استعمال کرنا چاہتے ہیں اور گیمز کھیلنا چاہتے ہیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کسی کھیلوں کی اکیڈمی کا رخ کریں چاہے یہ کرکٹ کی ہو، فٹ بال یا مارشل آرٹس کی یا کوئی بھی لیکن جو انہیں فعال رکھے۔ لیکن پھر ہراسانی کا جن یاد آجاتا ہے جو ان کے تاک میں ہے۔

ایڈم جاما وابری جن کا تعلق افریقہ سے ہے گلشن ساکر اکیڈمی چلاتے ہیں۔ وہ والدین کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ٹریننگ پر ان کے ساتھ جائیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میں جانتا ہوں یہ بہت مشکل ہے لیکن اگر والدین یہ کر سکیں تو انہیں اپنے بچوں کو خود اکیڈمی چھوڑنا چاہیے۔ انہیں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہیے اور واپس گھر لے کر جانا چاہیے۔‘

ایڈم والدین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی بات سنیں۔ ان کا کہنا ہے: ’اگر آپ کے بچے آپ کو بتاتے ہیں کہ انہیں اکیڈمی میں مسائل کا سامنا ہے تو آپ کو جلد سے جلد اکیڈمی میں شکایت درج کروانی چاہیے۔ اس کو چھوٹی بات مت سمجھیں کیوں کہ ہراسانی دنیا بھر میں عام ہے۔‘ انہوں نے اپنی اکیڈمی کے اصول بتاتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں کوچ یا سینئیر کھلاڑی کے خلاف شکایت آئے تو وہ اس کی کڑی نگرانی کرتے ہیں اور اگر الزام ثابت ہو جائے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔

ماہر نفسیات ارم غازی چاہتی ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو معاشرے میں پائے جانے والے ریپ کلچر اور مخالف یا اپنی ہی جنس کے خلاف ہونے والے تشدد سے آگاہ رکھیں۔ ان کا کہنا ہے: ’اپنے بچوں کو بتائیں کہ کسی ایسے رجحان کا حصہ بننا درست نہیں ہے اور ہمیں باقیوں کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے۔‘

پاکستان کے لیے کئی گولڈ میڈلز جیتنے والی کرن خان نوجوان کھلاڑیوں سے کہتی ہیں کہ وہ معطلیوں اور پابندیوں سے نہ گھبرائیں جب بات ان کی عزت کی ہو۔ ان کا ماننا ہے کہ عزت اور کامیابی تب ہی ملتی ہے جب ہم دیانتداری سے سچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ متاثرین اپنے حقوق کے حوالے سے خوف زدہ ہیں حتیٰ کہ وہ تب بھی خوف زدہ رہتے ہیں جب کوئی اور ان کے حقوق کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’کئی ایسے واقعات ہیں جب ایتھلیٹ میرے سامنے روتے رہے ہیں، لیکن جب میں نے ان کے لیے آواز اٹھائی میں نے خود کو اکیلا ہی پایا۔ حتیٰ کے متاثرین بھی مجھے اکیلا چھوڑ جاتے تھے۔ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو آپ کبھی طرف داری نہیں کر سکیں گے ، ہراسانی اور ایسے باقی معاملات کے خلاف نہیں لڑ سکیں گے۔‘


ناموں کے پہلے حروف متاثرین کی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔*

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل