’مورا لال دوپٹہ ململ کا‘ کی اداکارہ نمی گزر گئیں

نمی کی فلموں کی فہرست بہت طویل نہیں لیکن تنوع، نفسیاتی پہلوؤں کی عکاسی اور اداکاری میں اپنی الگ روش کے بنا پر ان کا کام یادگار ہے۔

فلم برسات میں چرواہی کا کردار نمی کی پہچان بن گیا (آر کے فلمز)

نواب بانو یعنی فلم کی دنیا میں نمی کے نام سے مشہور بالی وڈ  سنہرے دور کی اداکارہ آج دنیا سے گزر گئیں۔ ان کی عمر 87 برس تھی۔

1949 کی کئی لحاظ سے عہد ساز فلم ’برسات‘ میں جہاں شنکر جے کشن کی موسیقی اور لتا کی آواز سماعتوں میں رس گھولتی ہے وہیں شوق نظارگی کی تسکین نرگس اور نمی کرتی ہیں۔ فلم کا سب سے مشہور ’گیت جیا بے قرار ہے‘ اور ’ہوا میں اڑتا جائے مورا لال دوپٹہ ململ کا‘ نمی پہ ہی فلمایا گیا تھا۔ 16 سالہ نمی اس فلم میں چرواہی کا کردار ادا کرتی ہے۔ آنکھوں میں مستی اور چہرے پہ معصومیت کے لیے نمی کو کبھی تردد نہ کرنا پڑا کہ یہ اس کی زندگی کا حصہ تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نمی کی پیدائش میرٹھ میں ہوئی تھی لیکن ان کے لڑکپن کا خاصا حصہ پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں گزرا جہاں وہ اپنی نانی کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کی نانی کی بمبئی کے فلم انڈسٹری کے کئی مشہور لوگوں سے تعلقات تھے، اس لیے وہ تقسیم کے بعد پاکستان چھوڑ کر بمبئی چلی گئیں اور نمی کو بھی ساتھ لے گئیں۔ 

نمی کی برسات میں انٹری بھی کسی فلمی سین کی طرح دلچسپ ہے۔ ان دنوں راج کپور، دلیپ کمار اور نرگس محبوب خان کی فلم ’انداز‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔ فلم کی شوٹنگ دیکھنے ایک نوخیز کلی بھی تماشائیوں میں شامل ہوتی۔ راج کپور برسات شروع کر چکے تھے اور ایک نوجوان لڑکی کی تلاش میں تھے۔

نواب بانو پہ نظر پڑی تو محبوب خان سے بات کی اور اس طرح اسی لڑکی کے  فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ نمی کا نام بھی راج کپور نے دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برسات میں شہری بابو پریم ناتھ کی محبت میں گرفتار پہاڑی لڑکی کے کردار سے نمی نے بہت داد سمیٹی۔

نمی اور دلیپ کمار نے دیدار، داغ، آن، اڑن کھٹولا اور امر میں ایک ساتھ کام کیا۔ مدھوبالا اور نرگس کی موجودگی میں نمی ثانوی کردار کے لیے ہی چنی جاتی لیکن اپنے منفرد انداز اداکاری اور معصومیت کے سبب فلم پہ چھائی رہتی۔ فلم ’امر‘ میں ایک گوالن کے روپ میں نمی نے اس زمانے کے لحاظ سے بہت بولڈ کردار کیا۔ فلم میں ہیرو کے ہاتھوں ریپ کے اس سین پہ جہاں بہت اعتراض ہوا وہاں نمی کی عمدہ اداکاری کی بہت تعریف کی گئی۔

کچھ عرصہ دلیپ کمار اور نمی کا پس پردہ تعلق بھی خبروں میں رہا۔ 1965 میں نمی نے ’مدر انڈیا‘ اور ’دس نمبری‘ جیسی فلموں کے سکرپٹ رائٹر ایس علی رضا سے شادی کر لی۔ دونوں کا سمبندھ بہت طویل رہا لیکن اولاد نہ ہو سکی۔

سزا، آن، اڑن کھٹولا، بھائی بھائی، کندن، میرے محبوب، پوجا کے پھول اور بسنت بہار نمی کی یادگار فلمیں ہیں۔ اگرچہ یہ فہرست بہت طویل نہیں لیکن تنوع، نفسیاتی پہلوؤں کی عکاسی اور اداکاری میں اپنی الگ روش کے بنا پر نمی کا کام یادگار ہے۔

یقین نہ آئے تو پوجا کے پھول میں اندھی لڑکی اور آکاش دیپ میں اشوک کمار کی گونگی پتنی کے روپ میں نمی کی پرفارمنس دیکھ لیجیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم