جھوٹے مقدمے میں 20 سال قید: رانی کی مشکلات ختم نہ ہوئیں

تیرہ سال کی عمر میں اپنے شوہر کے قتل کے الزام میں 20 سال جیل کاٹنے والی رانی بی بی کی لرزہ خیز داستان۔

(اے ایف پی فائل فوٹو)

رانی بی بی کی شادی بچپن میں ہی کر دی گئی تھی، جس کے بعد ایک بھیانک زندگی ان کی منتظر تھی اور مشکلات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ان کے مقدر میں لکھ دیا گیا۔

رانی بی بی صرف 13 سال کی تھیں، جب پولیس نے ان کو اپنے شوہر کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

تقریباً 20 سال جھوٹے مقدمے میں قید کی سزا کاٹنے کے بعد رانی اب آزاد ہیں اور ان ہزاروں پاکستانی شہریوں کی طرح انصاف کی منتظر ہیں جن کو ملک میں انصاف کے کمزور نظام کے باعث غلط سزائیں دی گئی ہیں۔

صرف رانی کو ہی نہیں بلکہ ان کے والدین اور بھائی کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا کیونکہ ان سب کو آخری بار رانی کے شوہر کے ساتھ اس وقت دیکھا گیا جب وہ ان کے میکے میں موجود تھے۔

تاہم عدالتی دستاویزات کے مطابق ان کی لاش کو، جس کے سر پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا گیا تھا، رانی کے میکے سے تقریباً 25 میل دور ان کی اپنے گھر میں خفیہ طور پر دفن کیا گیا تھا۔مقتول کی باقیات کو پولیس نے بعد میں برآمد کر لیا تھا۔

اس واقعے کے بعد رانی نے 19 سال انتہائی تکلیف کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس جرم میں کاٹے جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔

ناقابل برداشت گرمی میں وہ جیل کے سینکڑوں قیدیوں کے لیے کھانا پکاتیں اور جیل کا فرش صاف کرتیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

35 سالہ رانی بی بی نے روئٹرز کو پنجاب کے ایک گاؤں سے فون پر بتایا کہ قید کے دوران انہوں نے بہت زیادہ مشقت کی۔

رانی کو 2001 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور پھر مزید کئی غلطیوں سے ان کی سزا میں اضافہ ہوتا گیا۔

جیل سپریٹنڈنٹ نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہائی کورٹ میں ان کی اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا۔ رانی بی بی کو سرکاری وکیل دستیاب نہیں تھا اور وہ نجی وکیل کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

تاہم 2014 میں ان کی آواز اس وقت سنی گئی جب غیر سرکاری خیراتی تنظیم کی ایک وکیل کی رانی سے جیل میں معمول کی ملاقات ہوئی اور وہ ان کی درد بھری داستان سن کر ان کی رہائی کے لیے جدوجہد کے لیے راضی ہو گئیں۔

2017 میں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ناکافی شواہد کی بنیاد پر رہا کیا اور غلط سزا پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ صرف جیل حکام کے غیرسنجیدہ رویے کی وجہ سے انہیں جیل کی اذیت برداشت کرنا پڑی۔

اس وقت جج نے اپنے حکم میں کہا: 'یہ عدالت انہیں (غلط سزا کے لیے) معاوضہ ادا کرنے سے قاصر ہے۔' لیکن ان کی رہائی ایک نئی قانونی جنگ کا آغاز تھا۔

پاکستان نے شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہد نامے پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1966 میں پاس کیا تھا، جس کے تحت غلط سزاؤں کے شکار افراد کو معاوضے کے حق کی ضمانت دی گئی ہے۔

ٹیسٹ کیس

تاہم پاکستان نے ابھی تک ان شرائط کو مقامی قوانین میں شامل نہیں کیا۔ رانی بی بی اور ان کی وکیل اب قانون میں تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں۔

مارچ میں 'فاؤنڈیشن فار فنڈامینٹل رائٹس' (ایف ایف آر)  تنظیم  نے رانی کے لیے پنجاب حکومت سے 'انصاف کے قتل' کے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک درخواست دائر کی تھی۔

انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں غلط سزاؤں کی روک تھام کے لیے نئی قانون سازی کرے۔ ایف ایف آر کے مطابق ملک میں رانی بی بی جیسے ہزاروں کیس موجود ہیں۔

2019 کی ایک رپورٹ میں اس تنظیم نے انکشاف کیا کہ 2010 سے 2018 کے درمیان سپریم کورٹ کی جانب سے سنائی گئیں 310 موت کی سزاؤں میں سے ہر پانچ میں سے دو قیدیوں کو غلط طور پر سزا سنائی گئی۔

اگرچہ رانی بی بی نے معاوضے کے طور پر کوئی خاص رقم طلب نہیں کی لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ معاوضے سے انہیں نیا بستر، کمبل اور کپڑے، واشنگ مشین، استری اور ایک چولہا خریدنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے روئٹرز کو بتایا: 'میں نہیں جانتی کہ میں کتنے معاوضے کا دعویٰ کرسکتی ہوں یا یہ کتنا ہونا چاہیے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ مجھے صرف اتنی رقم دے دیں کہ میں اپنے گھر کے لیے کچھ ضروری چیزیں خرید سکوں۔ میرے پاس ابھی کچھ بھی نہیں۔'

رہائی کے بعد رانی نے اپنی زندگی دوبارہ شروع کی کوشش کی۔ انہیں گھریلو ملازمہ کی نوکری مل گئی اور چار ماہ قبل ان کی دوبارہ شادی ہوگئی۔

شادی کے بعد بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا: 'میں جیل میں ہی ٹھیک تھی اور اکیلی بھی۔۔۔ میں سب پر بوجھ بن گئی ہوں۔ اپنے سسرالیوں اور یہاں تک کہ اپنے شوہر پر بھی بوجھ ہوں، جو مجھے میرے ماضی اور جہیز نہ لانے پر طعنے دیتے ہیں۔'

جب انہیں گرفتار کیا گیا تو پولیس نے رانی کے والدین اور اس کے بھائی کو بھی جیل بھیج دیا تھا۔

ان کی والدہ کو چھ ماہ بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن ان کے والد جیل میں تپ دق کے باعث ہلاک ہوگئے تھے۔ 15 سال بعد رہا ہونے کے فوراً بعد ان کے بھائی کی بھی ٹی بی کی وجہ سے موت ہوگئی۔ ان کو جہیز دینے کے لیے کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔

رانی بی بی نے کہا کہ وہ کمانا چاہتی ہیں تاکہ انہیں 'تھوڑا سا احترام' مل سکے۔ وہ اور ان کے دیہاڑی دار شوہر کرونا کی وبا کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن میں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد واپس گاؤں لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جہاں انہیں ہر روز کھانا کھانے کا انتظام کرنا بھی مشکل لگ رہا ہے۔

لاک ڈاؤن کے باعث ان کے مقدمے کی عدالت میں سماعت بھی روک گئی ہے۔

رانی نے اپنے بچپن کے بارے میں وہ وقت یاد کیا جب وہ خوشحال تھے، لیکن ان کے اہل خانہ کو قانونی فیس ادا کرنے کے لیے اپنی ساری جائیداد بشمول گائے اور مرغیاں تک بیچنا پڑ گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ زندہ دل اور قہقہے لگانے والی ایک شرارتی لڑکی تھیں لیکن دو دہائیوں تک جیل میں رہنے سے وہ چڑچڑی اور غصے میں رہنے لگی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی