ایران جنگ: پاکستان کے فضائی شعبے کو 7 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث فضائی حدود کی بندش کے باعث پاکستانی ایئرلائنز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کا ایک طیارہ 10 جنوری، 2026 کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیرس روانہ ہونے کے لیے موجود ہے (اے ایف پی)

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے سبب مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے اب تک پاکستان کے فضائی شعبے کو سات کروڑ 20 لاکھ ڈالر (تقریباً 20 ارب روپے) کا نقصان ہو چکا ہے.

پی اے اے کے ترجمان سیف اللہ خان نے جمعرات کو بتایا کہ جنگ کے باعث فضائی حدود کی بندش کے باعث پاکستانی ’ایئرلائنز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ایوی ایشن سیکٹر کے مجموعی نقصانات تقریباً 20 ارب روپے (72 ملین ڈالر) تک پہنچ گئے ہیں۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی ہوائی اڈے اور فضائی حدود مکمل طور پر کھلی، محفوظ اور معمول کے مطابق آپریشنل ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر گذشتہ ماہ سے جاری حملوں کے بعد سے دنیا بھر کے اہم فضائی راستے متاثر ہوئے ہیں اور بہت سی ایئرلائنز نے پروازوں کے روٹس تبدیل کیے یا انہیں منسوخ کر دیا۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان اور خلیجی ممالک میں دبئی، دوحہ، ابوظبی، مسقط، شارجہ وغیرہ کے درمیان سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

سیف اللہ کے مطابق پروازیں منسوخ کرنے یا چلانے کا فیصلہ مکمل طور پر ایئرلائنز پر منحصر ہے، جو اپنی محفوظ پرواز کے معیارات اور آپریشنل ضرورتوں کے مطابق اقدامات کرتی ہیں۔

ایوی ایشن ماہر اسفر ملک کہتے ہیں کہ 28 فروری کے بعد سے پاکستان سے جڑی 500 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں، جبکہ 600 متاثر ہوئی ہیں۔

پاکستان انٹرنیشل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے بتایا کہ پاکستانی ایئرلائنز نے جنگ کے بعد سے تقریباً 350 پروازیں منسوخ کی ہیں۔

اگر ایک پرواز کی اوسط آمدنی ایک کروڑ روپے لی جائے تو صرف پی آئی اے کا مجموعی نقصان 3.5 ارب روپے (12.5 ملین ڈالر) کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا ’آپ زیادہ کچھ نہیں کر سکتے… کاروبار پر سکیورٹی کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔‘

حکومت کی جانب سے رواں ماہ تیل کی قیمتوں کے اضافے نے بھی ایئرلائنز کے اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اسفر ملک نے بتایا کہ پاکستان کی ایوی ایشن کا بہت زیادہ انحصار خلیجی ممالک پر ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محنت کشوں، زائرین، خلیج میں رہنے والی پاکستانیوں کی وجہ سے دبئی، دوحہ، ابوظبی اور جدہ جانے والی پروازیں پاکستان کی بین الاقوامی ٹریفک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہیں۔

انہوں نے کہا ’جب یہ راستے متاثر ہوتے ہیں تو نظام ڈھلتا نہیں ٹوٹ جاتا ہے۔‘

پی آئی اے کے سابق سربراہ ارشَد ملک نے کہا کہ ایندھن کی قیمتیں آپریٹنگ لاگت کا 40-45 فیصد ہوتی ہیں، اس لیے پاکستان کو فیول ہیجنگ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو ایمرٹس اور قطر ایئرویز جیسے بڑے گلف کیریئرز کو اضافی اور لچک دار فلائٹ سلاٹس تین ماہ کے لیے دینی چاہییں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ایئرلائنز دبئی وغیرہ سے اڑان بھرنے کی بجائے پاکستانی ایئرپورٹس سے براہِ راست یورپ اور دیگر ممالک تک پروازیں چلا سکتی ہیں۔

ان کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری کو لینڈنگ، پارکنگ، فیول چارجز کی مد میں بڑا فائدہ دے سکتا ہے اور مقامی ہوٹل انڈسٹری کو بھی سہارا ملے گا۔

پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کے سبب جیٹ فیول کی فراہمی سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر غیر ملکی ایئرلائنز کو احتیاطی تدابیر کے طور پر واپسی کا ایندھن ساتھ لانے اور ملک میں ری فیولنگ محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ ہدایت پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اس ماہ کے اوائل میں جاری کردہ نوٹس ٹو ایئر مین (NOTAM) کے ذریعے دی گئی۔

یہ اقدامات ایران جنگ کے باعث عالمی ایندھن سپلائی چین میں خلل کے بعد سامنے آئی، جس پر حکام نے پیشگی اقدامات اٹھاتے ہوئے ملکی ذخائر کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا۔

نوٹس میں غیر ملکی ایئرلائنز سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں جیٹ فیول پر انحصار کم کریں، جبکہ مقامی ایئرلائنز کو آپریشنل ضروریات کے مطابق ایندھن کی فراہمی جاری رہے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت