پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے آئندہ دور کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔
رواں ہفتے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ بات چیت کا آئندہ دور اس اختتام ہفتے میں ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے گذشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان براہ بات چیت کی میزبانی کی تھی تاہم اس میں فریقین کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے تھے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’اگلے مذاکرات کے دور کے حوالے سے فی الحال کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔۔۔ میں میڈیا سے درخواست کروں گا کہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور سرکاری اعلان کا انتظار کریں۔ جیسے ہی کوئی فیصلہ ہوگا، ہم اس سے آگاہ کریں گے۔‘
ترجمان نے کہا کہ بطور ثالثی کار اور سہولت کار ’ہمارا کردار صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک مسلسل عمل کا حصہ ہے۔ جیسا کہ نائب وزیر اعظم کے میڈیا بیانات میں بھی ظاہر کیا گیا، اور بعد ازاں ہونے والی پیش رفت جس میں بشمول تہران میں چیف آف ڈیفنس فورسز کی حالیہ آمد اور مختلف ممالک کے دورے شامل تھے، ان تمام اقدامات کو ایک تسلسل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔‘
طاہر اندرابی نے کہا کہ ہم امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اسی کے ساتھ ’ہم تہران اور واشنگٹن ڈی سی کے درمیان رابطوں کے دروازے کھلے رکھ کر اپنا سہولت کاری کا کردار بھی جاری رکھیں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہماری حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اپنے شراکت داروں، اتحادیوں اور دوست ممالک کو اعتماد میں رکھا جائے۔ جو بھی ملک امن کے عمل کی حمایت کرتا ہے، اسے ہماری کوششوں سے متعلق باقاعدگی سے بریفنگ دی جاتی ہے۔ یہ کوئی بند یا محدود عمل نہیں ہے بلکہ ایک کھلا اور inclusive عمل ہے جس کا مقصد امن کا قیام ہے۔‘
انہوں نے ثالثی اور مذاکرات کے اس حملے کے حوالے سے دیگر ممالک کے کردار کے بارے میں ’آپ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے بیانات سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ تمام فریقین کو ساتھ رکھا جائے اور ان کی حمایت کو سراہا جائے۔ یہ بات ہماری قیادت اور دیگر ممالک کی قیادت کے درمیان ہونے والے متعدد رابطوں سے بھی عیاں ہے۔‘
انہوں نے کہا جہاں تک مخصوص بات چیت کی تفصیلات کا تعلق ہے، چاہے وہ تہران میں ہوئی ہوں یا دیگر سفارتی ذرائع سے ہو، ’میں یہ دہرانا چاہوں گا کہ ہم ان کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کرتے۔ متعلقہ فریقین کے مؤقف ہمارے لیے امانت ہیں، اور ہم رازداری کو برقرار رکھنے کے پابند ہیں۔ ہمارا کردار غیر جانبدار ہے۔‘