ایرانی گارڈز پر درجنوں افغان شہریوں کو دریا میں ڈبونے کا الزام

افغانستان نے ہرات کے دریا میں اُن لوگوں کی لاشوں کی تلاش شروع کر دی ہے، جن کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ انہیں ایرانی سرحدی گارڈز نے تشدد کرنے کے بعد دریا میں پھینک دیا تھا۔

ضلعی ہسپتال ہرات کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں افغان شہریوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے کچھ کی موت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی (اے ایف پی)

افغان حکام نے اتوار کو مغربی صوبے ہرات کے دریا میں اُن لوگوں کی لاشوں کی تلاش شروع کر دی جن کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ انہیں ایران کے سرحدی گارڈز نے تشدد کرنے کے بعد دریا میں پھینک دیا تھا۔

ایرانی گارڈز کے اس اقدام کا مقصد ان افغان شہریوں کو ایران میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان وزارت خارجہ نے ہفتے کو ایک بیان کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

کابل میں صدارتی محل کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا کہ ابتدائی اندازوں سے لگتا ہے کہ کم از کم 70 افغان شہری جو سرحدی صوبے ہرات سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے انہیں مارا پیٹا گیا اور اس کے بعد دریائے ہاری رد میں دھکیل دیا گیا۔

ترکمانستان سے آنے والا دریائے ہاری رد افغانستان سے گزر کر ایران میں داخل ہوتا ہے۔

ضلعی ہسپتال ہرات کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں ترک وطن کرنے والے افغان شہریوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے کچھ کی موت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی۔

ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سربراہ عارف جلیلی نے کہا: 'اب تک پانچ لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ ان میں سے چار لوگوں کی موت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب ہرات میں ایرانی قونصل خانے نے ایرانی گارڈزکی جانب سے درجنوں افغان شہریوں پر تشدد اور انہیں دریا میں ڈبونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

ہفتے کو ایرانی قونصل خانے نے اپنے بیان میں کہا: 'ایرانی سرحدی گارڈز نے کسی افغان شہری کو گرفتار نہیں کیا۔'

دارالحکومت کابل میں ایرانی سفارت خانے کے حکام اس معاملے پر تبصرے کے لیے فوری طور پر نہیں مل سکے۔

افغان شہری نورمحمد نے بتایا کہ وہ اُن 57 افغانوں میں شامل تھے جنہیں ہفتے کو ایرانی سرحدی گارڈز نے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ کام کی تلاش میں ہرات کے ضلع گلران سے سرحد پار کر کے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے روئٹرز کو بتایا:'ایرانی فوجیوں نے ہم سب کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد دریائے ہاری رد میں پھینک دیا۔'

تشدد کے اس واقعے میں بچ نکلنے والے شیرآغا نے کہا کہ وہ 57 لوگ جنہیں ایرانی فوجیوں نے دریا میں دھکیلا ان میں کم از کم 23 ہلاک ہو چکے ہیں۔

شیر آغا نے کہا: 'ایرانی فوجیوں نے ہمیں خبردار کیا کہ اگر ہم نے خود کو پانی میں نہ گرایا تو ہمیں گولی مار دیں گے۔'

مقامی افغان حکام نے کہا کہ پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ 920 کلومیٹر طویل سرحد پر تعینات ایرانی سرحدی گارڈز نے افغان شہریوں کو تشدد کے بعد قتل کیا ہو۔

ہرات کے گورنر سید واحد قتالی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں ایرانی حکام سے کہا کہ 'ہمارے محض کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ نے انہیں دریا میں پھینکا۔ ایک دن ہم حساب برابر کریں گے۔'

اس واقعے کے بعد ایران اور افغانستان کے درمیان ایک ایسے وقت میں سفارتی بحران پیدا ہوسکتا ہے جب کرونا وبا کی وجہ سے افغان تارکین وطن بڑی تعداد میں ایران سے جا رہے ہیں۔

ان تارکین وطن میں بعض کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ روزانہ دوہزار تک افغان شہری سرحد عبور کر کے ایران سے ہرات واپس جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا