آرمی پبلک سکول حملہ: ’کاش میری آنکھیں وہ منظر نہ دیکھتیں‘

اے پی ایس حملے میں زخمی بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرس صفیہ فضل کا کہنا ہے وہ آج بھی اس لرزہ خیز دن کو یاد کر کے رو پڑتی ہیں۔

(بشکریہ صفیہ فضل)

عالمی ادارۂ صحت نے 2020 کو نرس اور مڈوائف کا سال قرار دیا ہے۔ اسی کی مناسبت سے انڈپینڈنٹ اردو نے ایک خصوصی سیریز تیار کی ہے۔ مندرجہ ذیل رپورٹ اسی لڑی کا حصہ ہے۔ بقیہ حصے یہاں پڑھے جا سکتے ہیں۔

صفیہ فضل  نے اپنی زندگی کے 30 سال نرسنگ کے شعبے میں گزارے ہیں۔ ان 30 سالوں میں انہوں نے ہزاروں مریضوں کی تیمارداری کی۔ کبھی ان کی مرہم پٹی کی تو کبھی ان کو حوصلہ دیا۔ کئی مریضوں کو جان سے جاتے دیکھا، اور کئی مریضوں کو صحت یاب ہو کر خوشی خوشی الوداع کہہ کر گھر جاتے دیکھا۔ 

بعض پریشان حال مریضوں نے انہیں اپنے غصے کا نشانہ بنایا تو کئی مریضوں نے انہیں ’سسٹر‘ کہہ کر ان کا شکریہ ادا کیا۔

صفیہ بی بی نے ایک نرس کی زندگی کا خلاصہ بس چند ہی سطور میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک نرس کی زندگی جی کر انہیں مصیبت کے وقت حوصلے سے کام لینے کا ہنر آیا۔

45 سالہ صفیہ بی بی خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں آج کل سپر وائزر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں۔ ان سے رابطے کا موقع اس وقت ملا جب انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے نرسوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک ایسی نرس کا انتخاب کیا گیا جنہوں نے آرمی پبلک سکول کے زخمیوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کی ہو۔

آرمی پبلک سکول کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ یہ واقعہ اتنا لرزہ خیز تھا کہ ایک کمزور دل شخص کے لیے یہ خبر سننا بھی آسان نہ تھا، کہاں یہ کہ اس دوران متاثر ہونے والوں کے زخموں پر مرہم پٹی کرنا، ان کا بہتا خون روکنا اور انہیں ابتدائی امداد دینا۔ یہ کام جن لوگوں نے کیا ان میں نرسیں سب سے آگے تھیں۔

صفیہ فضل آج بھی اس واقعے پر بات کرتے ہوئے رو پڑتی ہیں۔

’کاش میری آنکھیں وہ منظر نہ دیکھتیں۔ مائیں بغیر دوپٹے ہسپتال میں بھاگ رہی تھیں۔ کچھ لوگ بدحواسی میں موبائل پر تصاویر دکھا کر اپنے بچوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ایمرجنسی وارڈ میں بیڈز پر جگہ نہ رہی، تو لاشوں اور زخمیوں کو فرش پر رکھا جانے لگا۔ میں اس تفصیل میں نہیں جا سکتی۔ بس ایک قیامت تھی۔ ‘

صفیہ کی طرح اس دن تمام نرسیں ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر ہسپتال پہنچ گئی تھیں۔

’اس لیے بہت سی نرسیں گھر کے کپڑوں میں ہی آ گئی تھیں۔ جن کی ڈیوٹی نہیں تھی وہ بھی رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دینے پہنچ گئیں۔ اس  دن آنسوؤں کو روکنا مشکل تھا۔ لیکن حالات کا تقاضا تھا کہ ہم حوصلے سے کام لیں۔ اس لیے زخمیوں کی مرہم پٹی سے لے کر وفات پانے والوں کو تابوت میں رکھنے تک ہم نے سب کچھ اپنے ہاتھوں سے کیا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے جو صدمے اٹھائے ہیں اس کے لیے کبھی کوئی کاونسلنگ لی ہے تو اس کے جواب میں نرس صفیہ فضل نے بتایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔

’بس اتنا کچھ دیکھا کہ اب ہمارے اعصاب ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر دماغ پر اثر بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد بہت عرصے تک میں خواب میں وہی چیخ و پکار اور حالات دیکھتی تھی۔ اور دوبارہ اس اذیت سے گزرتی تھی۔ لیکن کبھی سائیکاٹرسٹ کی مدد نہیں لی۔‘

صفیہ فضل کہتی ہیں کہ دوران ملازمت انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بڑے بڑے حادثات دیکھے ہیں جن میں پشاور چرچ اور مینا بازار کے دھماکے بھی کافی دل دہلا دینے والے تھے۔

انٹرویو کے اختتام میں انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ ہسپتال ایک نئے ولولے سے جاتی ہیں، جہاں ان کی طرح کئی اور نرسیں اور سٹاف دلیری سے روزانہ کے حالات سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ  اپنا خیال  بھی رکھتے ہیں تاکہ دوسروں کا خیال رکھ سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان