جب کلاسک بالی وڈ فلم ’بازار‘ مکمل ہونے کے بعد خریدنے کو کوئی آمادہ نہ ہوا

بازار بھارتی فلموں کی کلاسک تصور کی جاتی ہے جس میں نصیر الدین شاہ، سمیتا پاٹل، سپریا پاٹھک اور فاروق شیخ نے دل کی گہرائیوں سے غیر معمولی اداکاری کا اظہار کیا۔ خاص کر یہ جانتے ہوئے بھی کہ انہیں معاوضہ انتہائی کم ملا ہے۔

بازار کو بنتے وقت ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرناپڑا (ساگر سرحدی)

وہ سنگل کالم کی خبر تھی جس کو پڑھ کر ساگر سرحدی جیسے سخت جان اور مضبوط اعصاب والے انسان ہل سے گئے تھے۔ وہ چند لمحوں تک گوں مگوں کی کیفیت سے دوچار رہے لیکن پھر اپنی تمام ترتوانائی اکٹھا کر کے ایک باریہ خبر پڑھنا شروع کی۔

خبر تھی حیدر آباد دکن کی جہاں پولیس نے ایک خاندان کے سربراہ کو گرفتار کیا تھا۔ جس نے اپنی نابالغ بیٹی کا ’جزوقتی نکاح‘ بھاری رقم کے عوض ایک غیر ملکی سے کرایا تھا۔

خبر کا متن اس جانب بھی اشارہ کر رہا تھا کہ اس شہر میں ایساعام ہے۔ ساگر سرحدی حیران اور پریشان تھے کہ ایسا بھی ہو رہا ہے۔ عورت کوکوئی چیز سمجھ کر اس کے بھاؤ تاؤ لگا ئے جارہے ہیں۔ گویا ان کو ایسا لگا کہ اس چھوٹی سے خبر نے انہیں جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ساگر سرحدی نے اخبار ایک جانب رکھا اور پھر گہری سوچ میں اپنے آپ کو کھوتے چلے گئے۔

یہی وہ لمحات تھے جب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس دکھتے اور حساس موضوع کے پس منظر میں فلم بنائیں گے کہ کس طرح غریب اور مجبور والدین ’پرکشش پیش کش کے عوض بے جوڑ شادیاں کررہے ہیں‘ کس طرح اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کو قربان کر رہے ہیں اور کیوں صرف غربت کی بنا پر اپنی بیٹیوں کے ارمانوں کا خون کررہے ہیں۔ 

ساگر سرحدی اس وقت تک کبھی کبھی ’نوری‘ اور ’سلسلہ‘ جیسی فلموں کے سکرین پلے لکھا کر غیر معمولی شہرت حاصل کر گئے تھے۔ جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ رومانوی مکالمات اور کہانیاں پیش کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ صنف نازک کی خوبصورتی اور دلکشی کو جس طرح وہ لفظوں میں ڈھالتے تو فلم بین تو جیسے سینیما ہال میں تالیوں کا طوفان لے آتے۔

وہ عام طور پر کہا کرتے تھے کہ ان کے اندر رومانس اور عشق بھرا پڑا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ وہ یہ بھی بیان کرتے کہ انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔ ساگر سرحدی سمجھتے ہیں کہ اگر بیاہ رچا لیتے تو ان کا قلم پھر پیار اور عشق کے مکالمات سے جیسے محروم ہو جاتا۔

ساگر سرحدی کو اردو زبان سے عشق رہا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی رہی کہ ان کا بچپن پاکستانی شہر ایبٹ آباد کے قریب آباد گاؤں بفہ میں گزارا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اور ان کا پورا ہندو گھرانہ دہلی اور پھر ممبئی آکر آباد ہوا۔ نوجوانی میں قدم رکھا تو پاکستانی صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) سے تعلق ہونے پر نام کے ساتھ ’سرحدی‘ کا اضافہ کر لیا اور سٹیج ڈرامے لکھنے شروع کر دیے اور اسی سفر کے دوران ان کا ایک سٹیج ڈراما ہدایت کار یش چوپڑہ کو اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے ساگر صاحب کو فلم ’کبھی کبھی‘ لکھنے کی پیش کش کی۔

اس کے بعد نوری اور سلسلہ اور پھر 90 کی دہائی کے آس پاس انہوں نے یش راج فلمز کی ہی ’چاندنی‘ اور ’فاصلے‘ جیسی رومانی فلموں کے سکرین پلے لکھ کر دھوم مچا دی۔ یش چوپڑہ تو جیسے ساگر سرحدی کے سب سے بڑے پرستار بن گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساگر سرحدی نے اخبار کو تہہ کر کے ایک طرف رکھا اور اب انہوں نے سوچنا شروع کردیا کہ کس طرح اس فلم کو بنایا جائے۔

وہ اس سلسلے میں ہوم ورک کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اسی لیے 1982کی ابتدا کے ساتھ ہی چند دنوں میں انہوں نے حیدر آباد دکن کا رخ کیا اور خود جا کر تحقیق کی تو کئی درد بھری اور دل دکھاتی کہانیاں ان کے سامنے آئیں۔ ممبئی کا رخ کرنے کے بعد انہوں نے اس فلمی منصوبے پر کام کرنا شروع کر دیا جو ان کے ذہن میں خبر پڑھنے کے بعد کلبلا رہا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ساگر سرحدی اس سے پہلے ڈائریکشن تو کیا، اس بات سے بھی لاعلم تھے کہ کیمرا کیسے آپریٹ ہوتا ہے۔ فلم کی کہانی ان کے ذہن میں تھی اور جب انہوں نے یار دوستوں کو اس بارے میں بتایا تو ہر کسی نے انہیں مذاق کا نشانہ بنایا۔ کئی اس بات پر متفق تھے کہ اس موضوع پر پہلی بات تو فلم بن ہی نہیں سکتی اور اگر بن بھی گئی تو کوئی دیکھے گا نہیں لیکن ساگر سرحدی کے اندر اسی موضوع پر فلم بنانے کا جنون ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔

جب انہوں نے اپنے دل کی بات یش چوپڑہ کے گوش گزار کی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے ساگر سرحدی کو یہ پیش کش کی وہ یہ فلم ان کے پروڈکشن ہاؤس کے بینر تلے بنائیں۔ ساگر صاحب کا جواب تھا کہ اب تک وہ ہدایتکاروں اور پروڈیوسروں کے اشاروں پر سکرین پلے لکھتے آئے ہیں، ان کی پسند اور ناپسند کے مطابق ان کا قلم چلتا رہا ہے لیکن اب وہ ایسا کام کرنا چاہتے ہیں جس میں ان کی اپنی مرضی شامل ہو کسی کی مداخلت نہ ہو۔

یش چوپڑہ ساگر صاحب کا بہت احترام اور عزت کرتے تھے۔ جبھی انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ کسی صورت عکس بندی کے دوران مداخلت نہیں کریں گے، لیکن ساگر صاحب بھی ڈٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے یش چوپڑہ سے بس یہی کہا کہ اگر وہ ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو کیمرا ریل کا خام ذخیرہ انہیں ادھار پر دلوا دیں۔ فلم جیسے ہی بنے گی وہ ان کا یہ قرض اتار دیں گے۔ یش چوپڑہ نے ہتھیار ڈالتے ہوئے سو فی صد ادھار پرساگر صاحب کی ضرورت پوری کروا دی۔

 ساگر سرحدی اب ششی کپور کے پاس پہنچے جن سے فلم بنانے کا سازو سامان مانگنے کی فرمائش کر ڈالی۔ ششی کپور نے بھی فراح دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ کر ساگر سرحدی کی خواہش پوری کر دی کہ جتنا سامان درکار ہے لے جائیں۔ جب رقم ہو کرایہ دے دیں، نہیں ہو تو نہ دیں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ ساگر سرحدی کے تیکینکی مسائل کم و بیش حل ہو چکے تھے۔

اداکاروں کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو نصیر الدین شاہ اور فاروق شیخ نے کہانی سننے کے بعد رضا مندی ظاہر کر دی اور سمیتا پاٹل کو صرف 40 ہزار روپے میں سائن کر لیا گیا۔ سپریا پاٹھک کو 11 ہزار روپے میں فلم میں اہم کردار دیا گیا۔

اس فلم جسے ساگر سرحدی نے ’بازار‘ کا نام دیا۔ اِس کے لیے انہوں نے اپنی تمام تر جمع پونجی لگا دی۔ حد تو یہ تھی کہ حیدر آباد دکن میں جب ’بازار‘ کی عکس بندی ہو رہی تھی تو سپریا پاٹھک سے ساگر صاحب نے یہ کہہ کر انہیں ممبئی سے بلایا کہ اگر وہ ٹکٹ خرید کر آ سکتی ہیں تو آ جائیں۔

بے وفا اور بے حس کی تصور کی جانے والی فلم نگری میں کچھ ایسے احباب ضرور تھے جو ساگر سرحدی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور انہوں نے یہ مقام اور اعزاز اپنے خلوص، اپنائیت اور حسن سلوک کے سات ساتھ بہترین کام کے ذریعے حاصل کیا تھا۔

موسیقار خیام بھی ساگر سرحدی کے سب سے بڑے قدر دان تھے۔ جو ’کبھی کبھی‘ سے ان کے فن کے معترف رہے۔ جبھی ’بازار‘ میں انہیں ساگر سرحدی نے یہ کھلی چھٹی دی کہ وہ جس طرح کے بھی گیت بنائیں لیکن فلم کی کہانی کو ذہن میں رکھیں۔

اور پھر وہ دن بھی آیا جب ساگر سرحدی نے کم و بیش 11 لاکھ روپے میں ’بازار‘ مکمل کر لی۔

اب ساگر سرحدی کے سامنے سب سے بڑی آزمائش یہ تھی کہ اس فلم کو کسی تقسیم کار کو فروخت کیا جائے۔ اب یہاں سے ان کی نئی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا۔ بدقسمتی سے کوئی بھی اس تخلیق کو خریدنے کو آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔ ساگر سرحدی عجیب ذہنی پریشانی سے دوچار تھے۔ جسے فلم دکھاتے وہ انکار کر دیتا۔ یہاں تک کہ ایک نے تو یہ کہہ کر ان کے ارمانوں پر اوس ڈال دی کہ فلم کا دوسرا حصہ بہت اچھا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سنیما میں پہلا حصہ دیکھنے کے لیے کوئی رکا جبھی تو دیکھ پائے گا۔

ساگر صاحب دل برداشتہ ہوتے جا رہے تھے۔ ایسے میں انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ ایک بار دس تقسیم کاروں کو جب ’بازار‘ دکھائی تو ان میں سے نو نے صاف انکار کر دیا۔ لیکن ایک نے جیسے ساگر صاحب کے اندر نیا جوش اور توانائی بھر دی جب اس نے فلم کو ریلیز کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

اور پھر 21 مئی 1982 کو جب یہ فلم سنیما گھروں کی زینت بنی تو ابتدا میں وہی ہوا جو نو تقسیم کاروں نے کہا تھا لیکن پھر ابتدائی ناکامیوں کے بھنور سے نکل کر بازار‘ نے دلوں میں جگہ بنانا شروع کر دی۔

فلم کے گانےمقبول ہونے لگے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی فلم جو مانگے تانگے کے سازو سامان اور تعلقات کے سہارے انتہائی کم بجٹ میں تخلیق کی گئی تھی، وہ سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ ساگر سرحدی کا جو خواب تھا وہ سچ ہو گیا۔ ان کے چہرے پر اطمینان اور سکون تھا۔

کیا عجیب بات ہے کہ فلم کی کامیابی کے بعد ساگر سرحدی نے سپریا پاٹھک کو باقاعدہ فون کرکے ان کا باقی معاوضہ ادا کیا جنہوں نے اسی فلم کے لیے اگلے برس بہترین معاون اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیا۔

’بازار‘ کی مقبولیت اور کامیابی کا اندازہ یوں لگائیں کہ فلم فیئر کے لیے اس تخلیق کی سات نامزدگیاں ہوئیں۔

بازار بھارتی فلموں کی کلاسک تصور کی جاتی ہے جس میں نصیر الدین شاہ، سمیتا پاٹل، سپریا پاٹھک اور فاروق شیخ نے دل کی گہرائیوں سے غیر معمولی اداکاری کا اظہار کیا۔ خاص کر یہ جانتے ہوئے بھی کہ انہیں معاوضہ انتہائی کم ملا ہے۔

 38 سال کا عرصہ بیتا لیکن آج بھی فلم اور موسیقار خیام کے تخلیق کردہ ’دیکھ لو آج ہم کو جی بھر کے،‘ ’دکھائی دیے یوں کہ بےخود کیا،‘ ’کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی،‘ اور پھر چڑھی رات بات پھولوں کی‘ کو بھلا کون بھلا سکتا ہے۔

ساگر سرحدی 87 برس کے ہوگئے ہیں۔ ’بازار‘ کے بعد انہوں نے 2004 میں نواز الدین صدیقی کو لے کر ’چوسر‘ بنائی لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کلاسک فلم کے ہدایت کار کی یہ تخلیق کوئی خریدنے کو تیار نہیں ہوا اور اب تک سنیما گھروں کی زینت نہ بن سکی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ