جب فلم تیزاب کا گیت ’ایک دو تین‘ تین عورتوں کی پہچان بن گیا

اس فلم سے پہلے مادھوری ایک اوسط درجے کی اداکارہ تھیں، لیکن اس گیت نے انہیں راتوں رات سپر سٹار بنا دیا۔

وہ گیت جس نے مادھوری کو مادھوری بنا دیا (آرتی انٹرپرائزز)

موسیقار لکشمی کانت اور پیارے لال بے چینی کے ساتھ نغمہ نگار جاوید اختر کا انتظار کر رہے تھے جنہیں ہدایتکار این چندرا نے اپنی نئی فلم کے لیے گانا لکھنے کا کہا تھا۔

سچویشن یہ تھی کہ ہیروئن سٹیج پر گانا گا رہی ہے جس کے بعد ولن اسے اٹھا کر لے جاتا ہے۔ این چندرا چاہتے تھے کہ یہ گیت چلبلا سا پھڑکتا ہوا ہو۔ دھن لکشمی کانت پیارے لال بنا چکے تھے۔ جس پر ’ڈمی الفاظ‘ میں ایک نمونہ بھی تیار تھا۔ اب انتظار ہورہا تھا کہ کب جاوید اختر آئیں اور دھن کو سن کر این چندرا اور لکشمی کانت پیارے لال کی پسند کے مطابق گیت لکھیں۔

اس ایک گانے کے لیے دو مرتبہ جاوید اختر کے ساتھ بیٹھک ہو چکی تھی لیکن وہ سچویشن سمجھنے کے باوجود اب تک بول نہیں لکھ پائے تھے۔ دوسری جانب ہدایتکار این چندرا کے لیے یہ فلم خاصی اہمیت رکھتی تھی کیونکہ اس سے پہلے وہ انکوش اور پرتیا گھات بنا چکے تھے اوربدقسمتی سے ’انکوش‘ ہی کامیاب فلم تصور کی جاتی تھی۔

ہدایت کار بننے سے پہلے وہ ’وہ سات دن،‘ ’دھرم اور قانون‘ اور ’محبت‘ جیسی فلموں کے ایڈیٹر رہے تھے۔ این چندرا کیسے بھول سکتے تھے کہ وہ 1972میں گلزار کی فلم ’پریچے‘ کے کلپ بوائے تھے اور پھر دھیرے دھیرے انہوں نے ایک کے بعد ایک پائیدان پار کیا۔ اب ’انکوش‘ کے بعد انہیں اچھا ہدایتکار مانا جاتا تھا، لیکن وہ کسی ہٹ فلم کے بڑے ہدایت کار بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے۔

جبھی انہوں نے 1987 میں اس دور کے سپر سٹار انیل کپور اور مادھوری ڈکشٹ کی جوڑی کو لے کر ’تیزاب‘ بنانے کی تیاری کی تھی۔ یہ وہی فلم تھی جس کے لیے انیل کپور نے ابتدا میں تاریخیں نہ ہونے کی وجہ سے دو ٹوک لفظوں میں انکار کر دیا تھا۔ ایندچندرا بھی ضد پکڑ چکے تھے کہ اگر یہ مووی بنائیں گے تو صرف انیل کپور کے ساتھ ہی۔ اسی لیے انہوں نے انیل کے بڑے بھائی بونی کپور تک رسائی کی، جنہوں نے جب ’تیزاب‘ کی کہانی سنی تو انیل کپور کو کام کرنے کے لیے کسی طرح قائل کر ہی لیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’تیزاب‘ کی عکس بندی انیل کپور تب ہی کراتے جب ان کی دیگر فلموں کی عکس بندی مؤخر ہوجاتی۔ این چندرا بھاگم بھاگ انیل کپور جہاں ہوتے یونٹ کے ساتھ پہنچ جاتے اور جتنا وقت ملتا، اس میں کسی نہ کسی حد تک دو چار سین ریکارڈ کر ہی لیتے۔ بہرحال اس وقت ان کی اور موسیقار لکشمی کانت پیارے لال کی نگاہیں دروازے کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ دیوار پر ٹنگے گھڑیال کو تواتر کے ساتھ دیکھا جا رہا تھا۔ بے چینی اور بے قراری کے ساتھ جاوید اختر کے لیے نگاہیں ترس رہی تھیں۔

اچانک ہی دروازہ کھلا اور جاوید اختر مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ این چندرا کی تو سمجھیں جان میں جان آئی اور کچھ ایسی ہی صورتحال لکشمی کانت پیارے لال کی بھی۔ جاوید اختر کرسی کھینچ کر اب بیٹھ چکے تھے ۔ لکشمی کانت نے ہارمونیم نکالا اور پہلے سے بنی بنائی دھن پر ڈمی گیت گانا گنگنایا، ’ایک دو تین چار پانچ چھ سات آٹھ نودس گیارہ بارہ تیرہ۔‘

تیرہ پر آ کر وہ رک گئے اور جاوید اختر کی جانب دیکھ کر بولے، ’جاوید صاحب یہ میں نے ایسے ہی لفظ دھن پر بٹھا دیے تھے۔‘

جن لوگوں کو نہیں معلوم، ان کے لیے عرض ہے کہ بالی وڈ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ موسیقار پہلے سے دھن تیار کر لیتے ہیں، اور پھر شاعر سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس دھن پر شاعری فٹ کریں۔ جاوید اختر نے لکشمی کانت کو تعریف بھری نگاہوں سے دیکھا اور بے ساختہ کہا، ’ارے واہ۔۔ لکشمی کانت یہ گنتی تو اس دھن پر فٹ بیٹھ رہی ہے۔ کیوں نہ اِسی کو مکھڑا بنا دیا جائے؟‘

جاوید صاحب کی بات سن کر لکشمی کانت گھبرا گئے۔ جنہوں نے حیران و پریشان ہو کر کہا، ’کیا بات کر رہے ہیں جاوید صاحب؟ یہ تو میں نے ایسے ہی آپ کو دھن سمجھانے کے لیے گنتی بٹھائی تھی۔‘

جاوید صاحب نے ایک بار پھر مسکراتے ہوئے پوچھا، ’تو اِس میں کیا خرابی ہے بھائی؟‘ لکشمی کانت نے تھوڑے توقف کے ساتھ کہنا شروع کیا، ’دیکھیں یہ گنتی تیرہ تک پہنچ کر ہی بے معنی ہوجائے گی۔‘

جاوید اختر نے ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے کہا، ’یہ جو تیرہ تک جو آپ نے گایا ہے نا، اسے ایسا ہی رکھتے ہیں، اس کے بعد کے بول میں ایسے لکھوں گا کہ وہ اس مکھڑے کے ساتھ انصاف کرجائیں گے۔‘

لکشمی کانت ہی نہیں این چندر ا بھی کسی صورت مان ہی نہیں رہے تھے لیکن جاویدا ختر نے کاغذ قلم سنبھالا اور پھر لفظوں کی جادوگری دکھانے میں مصروف ہو گئے۔ اِدھر لکشمی کانت پیارے لال اور این چندرا کی وہی کیفیت تھی جو جاویدا ختر کے آنے سے پہلے تھی۔ کمرے میں ٹہل رہے تھے اور کبھی کبھار جا کر جاوید اختر کو دیکھ بھی لیتے جو سر جھکا کر کچھ نہ کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔ انتظار کی یہ گھڑیاں بیت ہی گئیں اور ایک بار پھر جاوید اخترکی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔ جو کہہ رہے تھے، ’جیسا کہ آپ نے بتایا کہ ہیروئن ہیرو سے دور ہے اور سٹیج پر پرفارم کررہی ہے تو میں نے بولوں کے ذریعے اس کی مہینے بھر کی کیفیت بیان کی ہے یعنی اس پر ہیرو کی جدائی میں کیا بیت رہی ہے۔‘

جاوید اختر چند لمحوں کے لیے رکے اور پھربولے، ’ایک دو تین چار پانچ چھ سات آٹھ نو دس گیارہ بارہ تیرہ، تیرا کروں دن گن گن کے انتظار، آ جا پیا آئی بہار۔‘

جاوید اختر اب پورا گانا سنا رہے تھے اور جوں جوں وہ سناتے کمرے کا تناؤ والا ماحول بدلنے لگا۔ 26 تک پہنچنے کے بعد جاوید اختر نے پھر اپنی شاعری کا فن دکھایا اور بولے، ’دن بنے ہفتے رے ہفتے مہینے، مہینے بن گئے سال، آکے ذرا تو دیکھ تو لے کیا ہوا میرا حال۔‘

اور یوں جاوید اختر اس گیت کے اختتام تک پہنچ گئے۔ جس میں دنوں سے شروع ہونے والا جدائی اور دوری کا غم ہیروئن نے سال تک میں بیان کر دیا تھا۔ لکشمی کانت تو دنگ ہی رہ گئے۔ انہیں تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا ایسے بیٹھے بیٹھے جو انہوں نے ’ڈمی الفاظ‘ پر دھن بنائی تھی اس پر اس قدر خوبصورت بول بھی بٹھائے جا چکے ہیں۔

یہ گانا الکا یاگنک کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا جسے زبردست بنانے میں موسیقار لکشمی کانت پیارے لال نے اپنی تما م تر زندگی کے تجربے کو استعمال کیا۔ این چندرا نے اس چلبلے نٹ کھٹ شرارتی گیت کو مادھوری ڈکشٹ پر عکس بند کیا۔ جن کی کوریوگرافی سروج خان نے کی جنہوں نے ایسے ایسے ڈانس اسٹیپ متعارف کرائے کہ مادھوری دیکشت کا رقص اور دل نشین ہو گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

این چندرا کی فرمائش پر جاوید اختر نے تھوڑے سے ردوبدل کے بعد یہ گیت انیل کپور کے لیے بھی لکھا۔ تیزاب 1988 میں جب پردۂ سیمیں کی زینت بنی تو ‘ نے کامیابی کے کئی نئے ریکارڈ بنا ڈالے۔

این چندرا نے بڑا ہدایت کار بننے کا جو سپنا دیکھا تھا اسے تعبیر مل گئی جبکہ ’ایک دو تین‘ گانا تو ہر ایک کی زبان پر رہا۔ مادھوری دیکشت کی اداؤں اور رقص نے سنیما گھروں میں تہلکہ مچادیا۔ بیشتر فلم بین جو ’تیزاب‘ دیکھ چکے تھے، صرف اس گیت کو دیکھنے کے لیے بار بار سنیما گھروں کا رخ کرتے۔ فلم کے گیتوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ’قیامت سے قیامت کے تک‘ کے بعد ’تیزاب‘ کے ہی سب سے زیادہ یعنی 80لاکھ آڈیو البم فروخت ہوئے۔

’ایک دو تین‘ نے تین خواتین مادھوری، الکا یاگنگ اور سروج خان کی شہرت اور مقبولیت میں پلک جھپکتے میں آسمان تک پہنچا دی۔ یہ کہا جائے تو غلط بھی نہ ہوگا یہ گیت ان خواتین کی شناخت بن گیا۔

مادھوری دیکشٹ جو اس وقت تک اوسط درجے کی اداکارہ تھیں، سپر سٹار بن گئیں۔ پرستار تو ان کی ایک ایک ادا پر مرمٹے۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں جب ’تیزاب‘ ریلیزہوئی تو مادھوری بھارت سے باہر تھیں اور جب ان کی واپسی ہوئی تو ہوائی اڈے پرہزاروں افراد کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جو فلم کے کردار ’موہنی موہنی‘ کے نعرے لگا کر استقبال کر رہا تھا۔

’تیزاب‘ کے اس گیت کی مدھر اور چلبلے انداز میں گلوکاری کرنے پر الکا یاگنگ کو بہترین گلوکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ یہ کیسی دلچسپ بات ہے کہ فلم فئیر ایوارڈ انتظامیہ نے1988 کے بعد ہی اپنی کیٹگری میں پہلی بار بہترین کوریوگرافر کا اضافہ کیا جو ’تیزاب‘ کے اسی گیت پر ڈانس ڈائریکٹر سروج خان کے حصے میں آیا۔

بہترین نغمہ نگار کی کیٹگری میں تین بڑے فلمی شاعر گلزار، جاویداختر اور مجروح سلطان پوری مقابلے پر تھے۔ جاویداختر کی نامزدگی ’ایک دو تین‘ کے لیے ہی ہوئی تھی لیکن ایوارڈ کے حقدار گلزار فلم ’اجازت‘ کے گیتوں کے لیے ٹھہرے۔ لکشمی کانت پیارے لال بہترین موسیقار اور امیت کمار جنہوں نے انیل کپور کے لیے یہ گانا گایا، ان کی بھی نامزدگی ہوئی۔ لیکن وہ ایوارڈ کے حصول میں ناکام رہے، کیوں کہ گیت تین عورتوں کے لیے تھا، اور انہی کے نام رہا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم