دو ’انکاروں‘ نے امجد خان کی قسمت بدل دی

’کتنے آدمی تھے؟‘سے شہرت پانے والے بالی وڈ کے منفرد اور اچھوتے ولن امجد خان کی برسی کے موقعے پر خصوصی تحریر۔

امجد خان بالی وڈ کے سب سے مقبول ولن ہیں (سپی فلمز)

یہ داستان ہے دو ’انکاروں‘ کی جو اگر نہ کیے جاتے تو ممکن ہے کہ بالی وڈ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ منفی کردار میں اس قدر جہت اور تبدیلی کا رحجان نہ آتا اور ولن کو دیکھ کر جو خوف اور دہشت طاری ہوتی ہے، اس سے بالی وڈ محروم رہتا۔

اس ’انکار‘ سے پہلے کئی اداکاروں نے منفی کردار نبھائے لیکن اپنی منفرد او ر اچھوتی شناخت قائم نہ کرسکے۔ پہلے ’انکار‘ سے قبل ذرا دوسرے ’انکار‘ کی داستان جان لیتے ہیں۔

منظر تھا ہدایت کار رمیش سپی کے دفتر کا جن کے سامنے ان کے سکرپٹ رائٹر سلیم جاوید بیٹھے تھے۔ دونوں کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ رمیش سپی بڑے پرسکون انداز میں ٹکٹی باندھ کر انہیں دیکھنے میں مصروف تھے۔ ’میرا خیال ہے کہ امجد کی جگہ آپ کسی اور کا انتخاب کر لیں۔‘ جاوید اختر نے گلا کھنکھارتے ہوئے کہا۔

’بالکل! کیونکہ جس قسم کا زور آور کردار ہے، اس کے مطابق امجد کی آواز میل نہیں کھا رہی۔‘ سیلم خان نے بھی جاوید اختر سے اتفاق کرتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔ دونوں اس سے قبل ’زنجیر‘ اور ’دیوار‘ کی کہانی اور مکالمے لکھ کر خود کو منوا چکے تھے اور ان کی بات وزن رکھتی تھی۔

'مانا کہ ہم نے امجد کی سفارش کی تھی لیکن اب ہمیں اپنے اس فیصلے پر شک ہو رہا ہے۔‘ جاوید اختر نے سلیم خان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’صرف ایک یہ کردار کمزور ہوا تو پوری فلم بیٹھ جائے گی بلکہ ہماری ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے گی۔‘ سیلم خان بولے۔

دونوں کہانی نویس بولتے جا رہے تھے اور ہدایت کار رمیش سپی دلچسپی سے دونوں کی گفتگو سن رہے تھے۔ آخر وہ کرسی پر سر ٹیکتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولے، ’آپ کو اس نئے لڑکے کی پرفارمنس پر اعتماد کیوں نہیں؟ جہاں کمزوری یا خامی ہے، ہم دور بھی تو کرسکتے ہیں۔‘

جاوید اختر نے اٹکتے ہوئے بولنا شروع کیا، ’دراصل اب تک ہم نے جو شوٹنگ دیکھی ہے، اس سے ہم امجد کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہو پا رہے۔ وہ رعب اور دبدبہ جو اس کردار کی ضرورت ہے وہ اب تک امجد کی طرف سے دیکھنے کو نہیں مل رہا۔‘

رمیش سپی کرسی سے اٹھتے ہوئے دونوں کے مقابل آکھڑے ہوئے، ’گھبرائیں نہیں، یہی کردار فلم کی شناخت بنے گا۔ میں کسی صورت اس کردار کے لیے اب کسی اور اداکار کا انتخاب نہیں کروں گا۔‘

یہ انکار رمیش سپی کی جانب سے ہوا تھا اور ان کے کہے ہوئے یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے کہ یہی کردار فلم کی شناخت بنے گا کیونکہ جب 1975 میں ’شعلے‘ ریلیز ہوئی تو جہاں ایک طرف فلم نے ہر طرف آگ لگا دی، وہیں گبر سنگھ خوف اور دہشت کی علامت بن کر ابھرا۔ امیتابھ بچن، دھرمیندر اور سنجیو کمار کے ہوتے ہوئے بھی یہ فلم امجد خان کی فلم کہلائی اور جب جب وہ سکرین پر آتے، دیکھنے والوں پر لرزہ طاری ہو جاتا۔

سلیم جاوید نے ان کی آواز کو نشانہ بنایا تھا، لیکن امجد خان کا لب و لہجہ آنے والی دہائیوں تک بالی وڈ ولن کی ایک مثال بن گیا۔۔ گبر کے ادا کیے ہوئے مکالمے ’کتنے آدمی تھے؟،‘ ’تیرا کیا ہوگا کالیا؟،‘ ’سوجا سوجا ورنہ گبر آ جائے گا،‘ ’کتنا انعام رکھا ہے سرکار ہم پر؟‘ زبان زد عام ہوئے جنہیں انہی کے انداز میں ہر کوئی بول رہا ہوتا۔

ذرا تصور تو کریں پوری فلم میں صرف نو مناظر اور یہی مناظر، فلم کو شہرہ آفاق بنا گئے۔ 45 برس کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن آج بھی ’شعلے‘ گبر سنگھ کی فلم ہی کہلائی جاتی ہے۔

یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ امجد خان تک سلیم جاوید کے خدشات تک پہنچ گئے تھے جنہوں نے انہیں غلط ثابت کرنے کے لیے اپنے کردار میں ان تھک محنت کی اور اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ میں خوف اور دہشت کا پہلو شامل کیا۔ ڈاکوؤں کا کیسا لب و لہجہ ہوتا ہے؟ وہ کس طرح خوف زدہ کرتے ہیں؟ ان کا کیا انداز ہوتا ہے؟ یہ امجد خان نے جیا بچن کے والد کے اُس ناول کا مطالعہ کرکے بخوبی سیکھا جو انہوں نے چمبل کے ڈاکوؤں پر لکھا تھا۔

امجد خان، سلیم جاوید پر تو فتح حاصل کر گئے لیکن انہوں نے تہیہ کرلیا کہ جس رائٹر کو اپنے اداکار پر اعتماد نہ ہو اس کے ساتھ کام نہیں کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ امجد خان نے اس جوڑی کے ساتھ ’شعلے‘ کے بعد کسی اور فلم میں کام نہیں کیا۔

کتنی عجیب بات ہے کہ گبر سنگھ کو ایک نئی جہت دینے والے امجد خان کو اس دور میں خطیر سرمائے ایک کروڑ روپے سے تخلیق کیے جانے والے ’شعلے‘ کے شاہکار کے لیے صرف 10 ہزار روپے کا معاوضہ دیا گیا، جو انہوں نے ہنسی خوشی اس لیے قبول کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ایک کردار کسی لاٹری کے نمبر کی طرح ہے، لگ گیا تو پھر تو ہن ہی برسے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور اب پہلے ’انکار‘ کی داستان سے بھی آشنا ہو جائیں۔ ممکن ہے کہ امجد خان کبھی بھی گبرسنگھ نہ بنتے، اگر فیروز خان اس کردار کے اولین انتخاب ڈینی کو اپنی فلم ’دھرآتما‘ کے علاوہ ’شعلے‘ میں بھی کام کی اجازت دینے سے انکار نہ کرتے۔ ممکن ہے کہ اگر یہ ہو جاتا تو امجد خان اپنے والد جینت یعنی زکریا خان اور بھائی امتیاز خان کی طرح بھارتی فلموں کے اوسط درجے کے ولن ہی رہتے۔

یہ بھی ہو سکتا تھا کہ رمیش سپی، سیلم جاوید کے اعتراضات اور خدشات پر بھروسہ کر کے امجد خان کو فلم سے آؤٹ کر دیتے تو اس کردار کی چاہ رکھنے والے امیتابھ بچن کو یہ کردار مل جاتا۔

کیا یہ کم کامیابی نہیں تھی کہ بسکٹ کے اشتہار میں ہیرو اور ہیروئن کی بجائے گبر سنگھ کو پیش کیا گیا۔ درحقیقت یہ سیلم جاوید کے اعتراضات اور خدشات کا موثر اور بھرپور جواب تھا۔ امجد خان نے صرف گبر سنگھ کے کردار تک خود کو محدود نہیں رکھا۔ آنے والے دنوں میں، خون پسینہ، کالیہ، دیش پریمی، نصیب، مقدر کا سکندر، سہاگ، ستہ پے ستہ اور رام بلرام کے منفی لیکن مختلف کردار ان کی اداکاری کو ایک نئے عہد میں شامل کر گئے۔

اسی طرح بھلا کون بھول سکتا ہے ستیہ جیت رائے کی ’شطرنج کے کھلاڑی‘ کو جو ’شعلے‘ کی نمائش کے دو برس سنیما گھروں میں لگی لیکن اپنے سنجیدہ نوعیت کے کردار کی بنا پر امجد خان‘ واجد علی شاہ کے کردار میں چھا گئے۔ اسی طرح قربانی‘ کا انسپکٹر خان یا پھر ’چمیلی کی شادی‘ کا ایڈووکیٹ ہریش، یا پھر لو، مالا مال اور ہمت والا کے ہلکے پھلکے مزاحیہ کردار امجد خان کی شان میں اور اضافہ کر گئے۔

1986 میں کار حادثے کے دوران وہ موت کو تو شکست دے گئے لیکن دوائیوں کے مسلسل استعمال نے ان کا وزن بڑھانا شروع  کردیا۔ اسی فربہی کی وجہ سے وہ فلموں سے دور ہوتے گئے اور پھر 27 جولائی، 1992 کو مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم