میری شناخت صرف ٹرانس جینڈر ہونا نہیں: بیلجیئم کی نائب وزیرِ اعظم

بیلجیئم کی نئی نائب وزیر اعظم اپنے کیریئر پر روشنی ڈالتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ وہ کیوں جے کے راؤلنگ کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتیں۔

پیٹرا ڈی سٹر (جیسی ڈی میولینیئر)

بیلجیئم کی نئی ڈپٹی پرائم منسٹر پیٹرا ڈی سٹر جانتی ہیں کہ اس کا انٹرویو کیوں کیا جا رہا ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں ’اگر میں ٹرانس جینڈر نہ ہوتی تو آپ میرے سامنے نہ بیٹھے ہوتے۔ ایسا ہی ہے نا؟ دراصل یہ تو سرے سے کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے۔‘

ان کی بات میں وزن ہے۔ یورپ کی پہلی اعلانیہ ٹرانس جینڈر منسٹر 57 سالہ سٹر نے تاریخ رقم کی ہے۔ اگرچہ وہ 2003 کے بعد بیلجیئم کی پہلی گروئن گورنمنٹ منسٹر یا تولیدی حقوق پر ابتدائی کام کرنے کے سبب شہ سرخیوں میں آ سکتی تھیں لیکن ان کی صنفی شناخت نے ان کی تقرری کو ایک عہد ساز پہچان دی۔ سیاست میں کسی ٹرانس جینڈر کا اس سطح پر پہنچنا ایک واقعہ ہے جسے وہ قبول کرتی ہیں اگرچہ ڈی سٹر کی خواہش ہے لوگ ان کی سائنسی تحقیق یا وزارتی پورٹ فولیو پر زیادہ توجہ دیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’میرے ملے جلے جذبات ہیں۔ میں صرف اسی پہلو سے اپنی پہچان نہیں چاہتی کیونکہ یہ میرے دائرے کو محدود کر دیتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ رول ماڈل بننا اور ان لوگوں کے دماغ تبدیل کرنا کتنا ضروری ہے جو سمجھتے ہی نہیں۔ میں بطور ٹرانس جینڈر وزیر دنیا بھر میں سفر نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن اگر یہ لوگوں کے لیے امید کی کرن یا تحریک ثابت ہو سکتی ہے تو میں یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہوں۔‘ 

ڈی سٹر برسلز میں اپنے آفس سے بات کر رہی ہیں جہاں پانچ مختلف وزارتیں قائم ہیں۔ حال ہی میں سات جماعتی حکومتی اتحاد کے سات نائب وزرائے اعظم میں ان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ بیلجیئم کی پبلک ایڈمنسٹریشن اور عوامی کاروبار کی نگرانی انہیں سونپی گئی ہے۔ ان کی ٹرانس جینڈر شناخت نے بیلجیئم میں کسی طرح کی کوئی ہلچل پیدا نہیں کی۔ ڈی سٹر نے عہدہ سنبھالتے ہی ٹویٹ کی، ’مجھے فخر ہے کہ بیلجیئم اور یورپ کے اکثریتی علاقوں میں کسی کی صنفی شناخت کوئی مسئلہ نہیں اور بطور انسان اس کی پہچان نہیں بنتی۔‘

یہ بات کسی حد تک ٹھیک تھی کیونکہ وہ بیلجیئم کے عوام میں پہلے ہی معروف تھیں۔ گینٹ یونیورسٹی ہاسپٹل کے شعبہ تولیدی طب کے سربراہ کی حیثیت سے بطور گائنکالوجسٹ اور ماہر تولید وہ اپنا نام بنا چکی تھیں۔ 

2014 میں بیلجیئم کی گرین پارٹی گروئن کی طرف سے یورپین پارلیمنٹ کا الیکشن لڑتے ہوئے ڈی سٹر نے سیاست میں قدم رکھا۔ اگرچہ وہ اس وقت منتخب نہ ہو سکیں لیکن اسی سال بیلجیئم کی سینیٹر بن گئیں۔ جب وہ 2019 میں یورپین پارلیمنٹ کی رکن بنیں تو انہیں فوراً انٹرنل مارکیٹ اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کے سربراہ کی حیثیت سے اسمبلی کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری دی گئی۔ 

وہ مذاقاً کہتی ہیں، ’اس قسم کی تبدیلی سے گزرنا روایتی سیاسی کیریئر کا راستہ نہیں ہے۔ کوئی بھی ایسی منصوبہ بندی نہیں کرتا۔

’میرا نہیں خیال کہ آپ صنفی امتیاز اور صنفی بنیادوں پہ نائب وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں جب اوباما امریکہ کے صدر بنے تو وہ سیام فام ہونے کے علاوہ بہت کچھ تھے۔ الیو ڈی روپو جب دس سال پہلے بیلجیئم کے وزیر اعظم بنے تو وہ ہم جنس پرست سیاستدان ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ تھے۔‘

 صنفی امتیاز کے مسائل پر بیلجیئم نسبتاً بہتر ریکارڈ رکھتا ہے۔ 2003 میں نیدرلینڈز کے بعد یہ دنیا کا دوسرا ملک تھا جس نے ہم جنس جوڑوں کو شادی کی اجازت دی۔ حالیہ برسوں میں بیلجیئم کی بہترین فلموں میں سے میں کین فلمی میلے میں ’کیمرا ڈی اور‘ کی 2018 کی فاتح فلم ’گرل‘ ایک ٹرانس جینڈر لڑکی کی تربیت کے بارے میں ہے جو جنسی تبدیلی کے آپریشن کی تیاری کرتے ہوئے رقاصہ بن جاتی ہے۔

پچھلے ہفتے ووٹروں سے ملاقات کے ایک ٹی وی ایونٹ کے دوران ایک فلیمش عورت نے امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن سے پوچھا کیا وہ اپنی بیٹی کی طرح ٹرانس جینڈرز کے خلاف امتیازی اقدامات کو رد کریں گے؟ (بائیڈن نے کہا: ’میں سب سے پہلے فوری طور پر قانون تبدیل کروں گا اور ایسے انتظامی فیصلے منسوخ کر دوں گا۔‘)

تاہم وہ خود کو ٹرانس جینڈرز کے مسائل پر تبصرہ کرنے کے لیے سب سے زیادہ مناسب نہیں سمجھتیں۔ مثال کے طور پر وہ ہیری پوٹر کی مصنف جے کے رولنگ نے ٹرانس جینڈرز کے حقوق کے متعلق جو کہا وہ اس گرما گرم بحث کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔ ’اس سلسلے میں ہر چیز کے متعلق رائے دینا میں ضروری نہیں سمجھتی ۔ یہ میری ذمہ داری نہیں۔‘ 

جیسے کھیل کے شعبے میں یہ بحث جاری ہے کہ ٹرانس جینڈرز کو مقابلے کی اجازت ہونی چاہیے (انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی اس کی اجازت دیتی ہے لیکن ورلڈ رگبی کی طرف سے نو اکتوبر کو یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ان پر پابندی ہو گی)، وہ دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتی ہیں، ’جب لوگ پوچھتے ہیں تو میں ان سے کہتی ہوں ماہرین تعلیم ان مسائل پر کام کر رہے ہیں ان سے پوچھو۔ میں اس شعبے کی ماہر نہیں بس ایک فرد ہوں جس کے پاس محض ذاتی تجربہ ہے جو شاید بہت مختلف ہے۔‘

 ڈی سٹر نے کبھی اپنی مخنث شناخت کو چھپایا نہیں۔ پیٹر ڈی سٹر کے نام سے انہوں نے مشرقی فلینڈرز کے ایک چھوٹے سے شہر اوڈناڈا میں جنم لیا۔ بچپن بہت مشکل گزرا اور انہیں حساسیت کے باعث بہت تنگ کیا گیا۔ وہ اس موقعے کو یاد کرتی ہے جب ایک بار اس کا سر زبردستی زمین سے لگا کے انہیں گھاس کھانے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ’میں چھوٹی سی بچی تھی۔ خود کو دوسروں سے الگ محسوس کرتی لیکن کچھ بھی سمجھنے سے قاصر کہ میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے۔ مجھے بہت برا محسوس ہوا۔ میں خود کو گناہ گار سمجھنے لگی۔‘

انہوں نے بطور کیتھولک پرورش پائی تھی اس لیے محسوس کرنے لگیں کہ وہ خود وہی ہیں جن سے مبلغ ڈرایا کرتے تھے۔ ’میں ناکارہ، غیر اہم، حیوان، انوکھی اور خطرناک چیز تھی۔ لیکن اس نے مجھے انوکھے لوگوں کو برداشت کرنا سکھایا ہے۔ اس نے مجھے بالکل تبدیل کر دیا اور اس نے مجھے بہت بہتر ڈاکٹر بنایا ہے۔ کیونکہ اچانک ہی میں خود مریض تھی۔‘

 بیلجیئن سپیریئر ہائی ہیلتھ کونسل اور بیلجیئن رائل اکیڈمی آف میڈیسن جوائن کر نے کے بعد آخرکار ڈی سٹر 1987 میں ڈاکٹر بن گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تین کتابیں لکھیں اور 550 سے زیادہ پیئر ریویوڈ مقالہ جات شائع کروائے۔ ڈپریشن اور خودکشی کی بلا سے چھٹکارا پانے کے بعد جب وہ 40 سال کی تھیں تب انہوں نے ’مکمل عورت بننے کا فیصلہ کیا جو میں ہمیشہ سے تھی۔‘ انہوں نے پیٹرا نام پسند کیا جس کا یونانی میں مطلب پتھر ہے۔

’میں ناکارہ، غیر اہم، حیوان، انوکھی اور خطرناک تھی۔ لیکن اس نے مجھے مختلف لوگوں کو برداشت کرنا سکھایا ہے۔ اس نے مجھے مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں صنفی عدم مطابقت کوئی بیماری یا گناہ نہیں بلکہ صنفی تسلسل میں ایک اضافہ ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’آپ اپنی جنس تبدیل نہیں کرتے۔ آپ اپنے جسم کو اپنی صنف کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ میں نے خود کو کبھی مرد محسوس نہیں کیا کیونکہ میرا جسم اس سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

’ظاہر ہے جینڈر اور حیاتیاتی جنس ایک چیز نہیں ہے۔ بہت سارے لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ صنف نامی کسی چیز کا وجود ہی نہیں بس حیاتیاتی جنس ہوتی ہے، لیکن میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر آپ کو بتا سکتی ہوں کہ یہ بات غلط ہے۔‘ 

اب وہ شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں ہیں۔ لیکن ابھی بھی وہ اپنی کہانی سنانے میں محتاط ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت خوش قسمت تھی کیونکہ بہت سے لوگ جو میرے جیسے طرز زندگی سے گزرے وہ زندہ نہ رہ سکے۔‘ برازیل کے ٹرانس جینڈرز کی اوسط عمر 35 برس ہے۔ اور ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو معاشرے سے الگ تھلگ ہیں اور جسم فروشی کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’وہ اس لیے یہ کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی ادویات، اپنے علاج اور دوسری بہت ساری ضرورتوں کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ خودکشی کے رجحانات بھی بہت زیادہ ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امیر ممالک میں بھی صورت حال کوئی بہت اچھی نہیں۔ امریکہ میں کم سے کم 31 ٹرانس جینڈرز یا مختلف صنف والے لوگوں کو گولی مار کر یا کسی اور پرتشدد طریقے سے قتل کیا گیا۔ اگرچہ اصل تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ بہت سارے کیس رپورٹ ہوتے نہیں یا غلط رپورٹ ہوتے ہیں۔ یورپ، رومانیہ، بلغاریہ، پولینڈ اور ہنگری نے سکول کی سطح پر صنفی شناخت کے متعلق مباحثوں پر قانوناً پابندی لگا دی ہے۔ 

سائنس فکشن کو جنوں کی حد تک پسند کرنے والی ڈی سٹر 1999 کی فلم ’دا میٹرکس‘ کا حوالہ دیتی ہیں۔ اس فلم کی شریک ہدایت کارہ للی واچاؤسکی کہتی ہیں کہ یہ فلم ان کی ٹرانس جینڈر شناخت کی طرف سفر کا استعارہ تھی۔ کیانو ریوز کا ادا کردہ مرکزی کردار فلم میں ایک لال رنگ کی گولی نگل لیتا ہے جس کے بعد وہ دیکھ سکتا ہے کہ حقیقت دراصل کیا ہے۔

مسز ڈی سٹر گولی نگلنے کی علامت کو ایک قدم مزید آگے لے جاتی ہیں، ’فرض کریں آپ میرے سامنے نیلی گولی رکھ دیں اور بتائیں کہ اگر یہ لے لی تو میں ایک لڑکی پیدا ہو سکتی ہوں۔ کیا مجھے لے لینی چاہیے؟ کیا مجھے کہنا چاہیے میری زندگی بیکار ہے اور ماضی کی طرف لوٹ کر سب کچھ دوبارہ شروع کرنا چاہیے؟ یقیناً اگر میں 12 سال کی عمر میں ہوتی تو یہ لے لیتی۔ لیکن زندگی کے اس مرحلے پر میں یقین سے کچھ کہہ نہیں سکتی۔ میں آج جو بھی ہو اس کی وجہ سے ہوں۔ اور میں جس مقام پر ہوں بہت خوش ہوں۔‘ 

جینز میں رد و بدل کی اہلیت کی بدولت اب ایسے آپریشنز محض خواب نہیں رہے۔ مسز ڈی سٹر پوچھتی ہیں، ’کیا آپ نیلی آنکھوں والے لمبے اور طاقتور بچوں کے لیے جینوم میں رد و بدل کر سکتے ہیں؟ کیا ہم انہیں زیادہ ذہین بنا سکتے ہیں؟ کیا ہم انہیں زیادہ اچھا مدافعتی نظام دے سکتے ہیں۔ معذور بچے پیدا ہونے سے روکنا یقیناً بہت اچھی چیز ہے۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بڑے، مضبوط اور زیادہ خوبصورت بچے پیدا کرنا؟ نہیں۔‘

 ابھی تک وہ کوئی واضح لائن کھینچنے سے جھجکتی ہیں۔ وہ اس قدر ایماندار اور کھلی ضرور ہیں کہ اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کر سکیں۔ اور وہ کہتی ہیں کہ یہ خصوصیت ان کی تجربے کی بدولت ملی۔ ’میرے پاس تمام سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ لیکن مجھے یہ نہیں لگتا کہ ابھی مجھے کچھ اور ثابت کرنا ہے۔ میں نے 40 سال ان رازوں کے ساتھ بسر کیے اور یہ قید کی سزا تھی۔ میں ابھی آزاد محسوس کرتی ہوں اور ہر دن ایک خوبصورت تحفے کی طرح ہے۔ یہ مجھے طاقت اور اخلاقی ذمہ داری دیتا ہے کہ میں مسائل کے حل کے لیے کوشش کروں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی