آئرن مین کی طرح ہوا میں اڑنا کب تک ممکن ہو گا؟

جیٹ پیکس کا خیال 19ویں صدی سے چلا آتا ہے لیکن 1960 تک یہ عملی شکل میں سامنے نہیں آیا اب ممکن ہے یہ زندگی کا حصہ بن جائے

(GWR)

 دیکھتے ہی دیکھتے جیٹ پیکس حقیقت بننے لگے ہیں۔ ایک خیال جو خواب و خیال کی دنیا سے تعلق رکھتا تھا، اب حقیقی روپ دھار چکا ہے اور اب جیٹ پیکس کی کارکردگی اور رفتار چونکا دینے والی ہے۔

الیگزینڈر فیدورووچ نامی روسی موجد غالباً پہلا شخص تھا جس نے پہلا ایسا ایندھن سے چلنے والی مشین ایجاد کی جو ایک ہواباز کو اس کے اپنے زور کی بنا پر اوپر لے کر جا سکتی تھی۔ اپنے عہد سے کئی دہائی آگے فیدورووچ نے اپنے خیال کو عملی شکل میں کبھی نہیں دیکھا اور حقیقی جیٹ پیکس سامنے آنے میں ابھی مزید 50 برس باقی تھے۔ 

امریکی کمپنی بیل ایرو سسٹمز نے 1962 میں ’بیل راکٹ بیلٹ‘ کے نام سے جیٹ پیک کا پیٹنٹ حاصل کیا۔ راکٹ سے چلنے والے ابتدائی جیٹ پیکس ہائیڈروجن پروآکسائیڈ کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس میں سے گزرتے ہوئے یہ غیر معمولی مادہ بھاپ اور آکسیجن میں تبدیل ہو کر اتنی قوت فراہم کرتا کہ انسان 30 سیکنڈوں تک ہوا میں اڑ سکتا تھا۔

اس کے بعد جیمز بانڈ کی ابتدائی فلموں میں سے ایک فلم میں شان کونری کے کردار کی مشہور پرواز سے جیٹ پیکس ایکشن فلموں میں نظر آنا شروع ہوئے۔ ہوا میں اڑنے کے مظاہرے کے لیے سٹنٹ مین استعمال ہوتے تھے اور 1984 کے امریکہ میں ہونے والے عالمی اولمپکس مقابلوں کی ابتدائی تقریب میں ایک جیٹ پیک کی اڑان بھی شامل تھی۔

ماضی قریب میں ہالی وڈ کے اداکار رابرٹ ڈاؤن جونیئر نے اپنے آئرن مین کے کرتبوں سے جیٹ پیکس کو لوگوں کے دلوں میں زندہ کر دیا ہے۔ ایسی چیزیں ٹی وی شوز کو بہت کامیاب بناتی اور ذہنوں کو لبھاتی ہیں لیکن محتاط طریقے سے کیے گئے سٹنٹس اور حقیقی دنیا میں ان کے تجارتی استعمال میں بہت فرق ہے اور سوال اٹھتا ہے کہ جیٹ کی مدد سے اڑنے والا سوٹ حقیقت سے کس قدر قریب ہے۔  

دراصل اس وقت دنیا بھر میں جیٹ پیکس کی تیاری کے بہت سے حقیقی منصوبے چل رہے ہیں اور جیٹ سوٹ ٹریول کا مستقبل خاصا تابناک نظر آتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1960 کی دہائی میں جو ابتدائی جیٹ پیکس سامنے آئے وہ انسان کو ایک منٹ سے بھی کم دیر کے لیے ہوا میں رکھ سکتے تھے۔ لیکن یہ مدت منٹ بھر ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی ان کی ٹیکنالوجی شاندار تھی۔ یہ مشینیں راکٹ کے سہارے چلتی تھیں۔ ایک راکٹ انجن کو اڑان بھرنے کے لیے ایندھن اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے تمام راکٹوں کو ایندھن اور آکسیجن اپنے ساتھ تیار رکھنی پڑتی تھی۔ یہاں تک کہ ہائیڈروجن پرآکسائیڈ پر مبنی نمونے بھی اصل میں راکٹ ہی تھے اگرچہ اس میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادے زیادہ خرچ نہیں ہوتے تھے۔ 

امریکی فوج نے جیٹ پیکس کو میدان جنگ تک فوجیوں کی رسائی اور ویت نام کی جنگ میں اس کے استعمال پر بہت سنجیدگی سے سوچا۔ آخرکار اس خیال کو ترک کر دیا گیا کیونکہ راکٹ کو استعمال کرنے کے لیے درکار وقت میسر نہیں تھا۔ 

اس کے علاوہ کچھ اور بھی مسائل ہیں۔ ایک ہوائی جہاز فضا میں اس لیے ٹھہر سکتا ہے کہ اس کے پر ہوتے ہیں۔ جیسے ہی مشین آگے کو بڑھتی ہے ہوا پروں کے ساتھ سہارا بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جیٹ پیکس میں انسان کے ساتھ پر نہیں ہوتے۔ جیسے ہی اس کی جیٹ پیکس کا زور ختم ہوتا ہے (ایندھن کے ساتھ اس کا زور بھی اچانک ختم ہو جاتا ہے) وہ زمین کی جانب آنے تیزی سے آنے لگے گا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ عمل نہایت مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

جیٹ پیک پائلٹ کو ایندھن ختم ہونے سے پہلے توازن کے ساتھ زمین پر اترنا ہوتا ہے۔ کیونکہ پرواز کا وقت بہت کم ہوتا ہے اس لیے کم و بیش ہوا میں اُڑتے ساتھ ہی اسے فکر کرنا پڑتی تھی کہ اسے کہاں اترنا چاہیے۔ پیشہ ور سٹنٹ پائلٹس بڑی آسانی سے اسے چلاتے دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں ٹیکنالوجی بہت محدود اور بڑی سطح پر اس کا استعمال بہت خطرناک تھا۔ 

اب 21ویں صدی میں جیٹ پیکس کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوتا ہے۔ الیکٹرونکس اور مواد میں ترقی کے ساتھ جٹ پیکس کی کارکردگی بھی بہت بہتر ہو گئی ہے لیکن مزید بہتری کے لیے انجینئروں نے جیٹ انجنوں کی بلندی برقرار رکھنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

جیٹ انجن راکٹ کی طرح کام کرتا ہے سوائے اس کے کہ ایندھن استعمال کرنے کے عمل کو سہارا دینے کے لیے آکسیجن زمینی ماحول سے فراہم ہوتی ہے۔ اس وجہ سے تمام کیمیائی مادہ جو پائلٹ اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے وہ ایندھن ہے جس کی وجہ سے وہ ہوا میں زیادہ دیر بلکہ برطانوی کمپنی ’گریوٹی انڈسٹریز‘ کے تیار کردہ جیٹ سوٹ کے استعمال سے فضا میں تین تا چار تک پرواز کر سکتا ہے۔ یہ ابھی تک بھی پرواز کا بہت کم وقت ہے لیکن یوٹیوب پر ویڈیوز اور چند عملی اہداف کو ممکن ہوتا دیکھنا پرامید مستقبل کے لیے کافی ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ کی رائل نیوی نے چھوٹی مشین سے بڑے بحری جہاز پر جیٹ پیک کی مدد سے ایک سپاہی کو منتقل کرنے کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ خود قریب جائے بغیر یا ہیلی کاپٹر استعمال کیے بغیر دشمن کے جہاز پر سوار ہو سکتے ہیں۔

اس لیے اگر آپ اپنی جیٹ پیک کمپنی شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں اور آپ نے راکٹ ٹیکنالوجی کے بجائے اس وقت رائج جیٹ استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو آپ ایسا جیٹ انجن کہاں سے لائیں گے جو آپ کو بلندی پر پہنچا سکے؟

اچھا یہ اتنا مشکل نہیں جتنا بظاہر لگ رہا ہے۔ جیٹ پیکس بنانے والوں کی موجودہ کھیپ پہلے سے موجود وہ انڈسٹری ڈھونڈنے میں کامیاب رہی جو ریڈیو سے قابو کیے جانے والے جہازوں کے چھوٹے جیٹ انجن بناتی تھی۔ دراصل آپ پہلے سے تیارہ شدہ چھوٹے جیٹ انجن خرید لیں اور جیٹ انجن کی ساخت کی پروا کیے بغیر اپنے باغیچے کی چھاؤں میں بیٹھ کر انہیں آپس میں جوڑنا شروع کر دیں۔ اگر آپ دو انجن ایک ساتھ جوڑ سکتے ہیں جن کی متوقع طاقت 50 کلو تک ہو تو آپ زمین سے اوپر جا سکیں گے۔

یاد رہے کہ ایندھن بہت وزنی اور پائلٹ کے اوپر رکھا جانا ہے۔ گریوٹی انڈسٹری کا تیار کردہ ’ڈیڈلس‘ سوٹ جیٹ انجنوں میں ماحولیاتی آکسیجن کے ساتھ مٹی کا تیل جلاتا ہے۔ سمت بدلنے اور کمر سے بندھے بستے سے آنے والی طاقت کو بڑھانے کے لیے پائلٹ اپنے بازو پر بندھے اضافی انجنوں کو استعمال کرتا ہے۔ گریوٹی انڈسٹریز کی بنیاد رچرڈ براؤننگ نے رکھی جو سابقہ BP انجینیئر ہیں۔

انہوں نے جیٹ پیک بنانے کا خواب اس وقت دیکھا جب وہ بڑی آئل کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ جیسے ہی ان کا اپنے منصوبے پر اعتماد بڑھا انہوں نے ’آئرن مین‘ جیسے لباس بنانے کے لیے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھ دی۔ حیرت انگیز طور پر وہ کامیاب رہے۔ ڈیڈلس کا لباس آئرن مین کے پہناوے سے بہت ملتا جلتا ہے اور یہ قابل اعتماد ہے۔ ان کی مصنوعات 340,000 پاؤنڈ کے رعایتی نرخوں پر دستیاب ہیں۔

یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ اس معاملے میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ براؤننگ کسی کھلاڑی کی طرح نظر آتا ہے اور رائل مرین کے جز وقتی فوجی ہونے کا طویل تجربہ رکھتا ہے۔ گلی میں جاتا ہوا اوسط درجے کا لڑکا اگر یہ آلہ خرید کر اپنے عقبی باغ میں اڑنے کی کوشش کرے گا تو اس سے کیسی کارکردگی متوقع ہے؟ جواب: ممکن ہے وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ الگ بات کہ آپ اس سے لوگوں کی بڑی تعداد کو جیٹ پیک خریدنے سے باز نہیں رکھ سکتے۔

ابھی تک جیٹ پیکس کی مجموعی فروخت کی رفتار بہت سست ہے۔ براؤننگ لائیو پرفارمنس کے لیے 100,000 پاؤنڈ لیتے ہیں اور ابھی تک پوری دنیا میں اڑنے کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ڈیڈلس سوٹ کے تازہ ترین ورژن میں پائلٹ کے ہیلمٹ کے اندر رفتار، بلندی اور ایندھن دیکھنے کی سہولت موجود ہے۔ اس کی موجود پیش قدمی کی رفتار فی گھنٹہ کے حساب سے 80 میل ہے۔ براؤننگ نے ٹانگوں کے درمیان ایک جال کا تازہ ترین اضافہ کیا ہے جو اس کے مطابق دوران پرواز ٹانگوں کو پھیلا کر پروں کی شکل دے دے گا۔ اگر وہ درست ہے اور ٹانگوں کے درمیان ایسا کارآمد ہوائی بازو بنا لیتا ہے تو اس سے ایندھن کے خرچ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ 

گریوٹی انڈسٹری ان معدودے چند انڈسٹریز میں سے ایک ہے جن کا برطانیہ سے آغاز ہوا اور جن کا مستقبل ممکنہ طور پر روشن ہو سکتا ہے۔ لیکن براؤننگ کو دنیا بھر میں ایسی ہی کمپنیوں کی طرف سے زبردست مقابلے کی فضا کا سامنا ہے۔

فرانسیسی موجد فرانک زیپیٹا نے ’فلائی بورڈ‘ نامی مشین تیار کی ہے جو لگتا ہے ہالی وڈ کی فلم ’بیک ٹو دا فیوچر‘ سے آئی ہے۔ یہ بنیادی طور پر سکیٹنگ کا تختہ ہے جس میں ایندھن کی ٹینکی اور چھوٹے جیٹ انجن نصب ہیں۔ پائلٹ مجسمے میں جڑے سوار کی طرح تختے کے اوپر کھڑے ہو کر پرواز کرتا ہے۔ 

بڑے جہازوں کے عہد میں ڈیزائن انجینیئروں اور آزمائشی پرواز کرنے والے ہواباز بالکل الگ الگ لوگ ہوتے ہیں۔ جیٹ پیکس کے موجد ان سے بالکل الگ ہیں جہاں نمایاں شخصیات لوگوں کے سامنے خطرے کا سامنا کرتی ہیں۔

اگر آپ کوئی ایسا کام کرنے جا رہے ہیں تو پھر آپ کو یہ پوری طرح نبھانا چاہیے۔ اگست 2019 میں زپاٹا نے فلائی بورڈ پر رودبارِ انگلستان پار کر کے دکھایا۔ اس کارکردگی نے انہیں چھ بجے والے خبرنامہ کا حصہ بنا دیا۔ افسوس زپاٹا کی کامیابی کا سفر دھچکے کے بغیر نہ تھا۔ ابتدا میں زپاٹا کچھ فلائی بورڈز بیچنے میں کامیاب ہوئے لیکن بہت جلد گہرے پانی پر اڑنے سے لوگوں کی طبیعت سیر ہو گئی اور امریکہ کے ساتھ مالی معاہدہ بھی ناکام ہو گیا۔ پھر انہوں نے دوسرا اڑنے والا آلہ بنایا جسے اڑانا اتنا مشکل نہ تھا۔

ذاتی جیٹ پیکس اور ابھرتی ہوئی چھوٹی اڑنے والی کاروں کی مارکیٹ میں ایک حد فاصل ہے۔ یہ تمام جیٹ پیکس مزے دار لگتے ہیں لیکن آپ حقیقت میں کتنے برآمد کر سکتے ہیں اور زپاٹا یا گریوٹی انڈسٹریز بھیڑ میں اپنا راستے کیسے بناتے ہیں؟ 

جیٹ پیکس کے موجودہ ڈھانچے کو مالی مسائل کا بھی سامنا ہے کیونکہ بہت سارے سرمایہ کار کم فروخت والی غیر ثابت شدہ ٹیکنالوجی پر سرمایہ لگانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حقیقت میں بہت سارے نمایاں مرکزی لوگوں کو سرمایہ کی ترسیل کے مسائل کا سامنا درپیش ہے۔

یہ ذہن میں رکھتے ہوئے رچرڈ براؤننگ ریڈ بل ایئر ریس کی طرح ایک مقابلہ منعقد کرنے کا سوچ رہے ہیں جہاں لوگ جیٹ پیکس کے ساتھ رقم ادا کر کے شرکت کریں گے۔ اگر یہ ریس مقبول ہوتی ہے تو ممکن ہے وہ باقاعدہ آمدنی کا ایک محفوظ وسیلہ پا لیں۔ 

ڈیوڈ می مین آسٹریلیا کے رہنے والے ہیں جنہوں نے کئی سال کی کوششوں کے بعد 90 پاؤنڈ وزنی جیٹ پیک تیار کر لیا ہے۔ ان کی کمپنی جیٹ پیک ایوئیشن 340,000 ڈالرز میں جیٹ پیکس فروخت کرتی ہے۔ وہ 50,000 ڈالرز کے عوض سات سے 10 دنوں کے درمیان اڑنے کا فن سکھانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ خطیر رقم لگتی ہے اور ہے بھی ایسا۔ جان اور جسم کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ یہ شوق مہنگا بھی بہت ہے۔

زپاٹا اور براؤننگ کی طرح می مین کو بھی مناسب فنڈز کے لیے تگ و دو کرنا پڑی اور اس وقت وہ ملتی جلتی لیکن ذرا مختلف مصنوعات پر کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ سٹار وارز سیریز کی فلم ’ریٹرن آف دا جیڈائی‘ میں نظر آنے والے تیز رفتار موٹر سائیکلوں سے حیرت انگیز حد تک مماثلت رکھتے ہیں۔ می مین سے پہلے ایسے تیز رفتار موٹر سائیکل محض خواب تھے جو اب حقیقت بننے کے بہت قریب ہیں۔ جیٹ پر مبنی تیز رفتار موٹر سائیکل جیٹ پیکس کی نسبت زیادہ بہتر ہیں کیونکہ یہ استعمال کرنے والے کے لیے زیادہ محفوظ اور سب سے اہم یہ کہ زیادہ قابل فروخت ہوں گے۔ 

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ موٹر سائیکل عمودی اڑان بھر سکتا ہے اور واپس آ سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اسے بغیر پائلٹ کا لائسنس حاصل کیے خریدنا اور اڑانا ممکن ہو گا۔ 

سوئٹزرلینڈ کے باسی کسی سے پیچھے کیوں رہیں؟ انہوں نے اپنا موجد خود تیار کیا ہے جو تشہیر کے فن سے بھی خوب آگاہ ہے۔ ایوز روزی سابق سوئس فوجی پائلٹ ہے جو نئے جیٹ سوٹ پر کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں وہ دبئی کی حکومت سے مالی تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں مالیات کے مسائل درپیش ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مسائل ہیں۔

 کیونکہ جیٹ پیک ہواباز کم بلندی پر اڑتا ہے اس لیے ایمرجنسی کی صورت میں پیراشوٹ کھولنے کا وقت ہی نہیں بچتا۔ اگر آپ نے یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھی ہوں تو اڑنے کا مظاہرہ کرنے والوں کی بڑی تعداد کھلے پانی پر گرتی دکھائی دیتی ہے۔ اچانک تیزی اور شدت سے واپسی کی صورت میں بچنا ویسے بھی مشکل ہے اور یہاں کھائیوں کے سلسلے الگ مصیبت ہیں۔ اسی ہفتے ان کے ایک رکن جان کی بازی ہار گئے۔ 

فرانسیسی کے باسی ونسٹ رفٹ ’جیٹ مین دبئی‘ کا حصہ تھے جب نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ تربیت کے دوران ہی ہلاک ہو گئے۔ اگر آپ اس لباس کو دیکھیں جس پر یہ تربیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو آپ کو حیرت نہیں ہو گی۔ رائج جیٹ پیکس کی ایجادات کے متعلق ایک اچھی بات یہ ہے کہ قدیم خلائی مشینوں کے برعکس یہ اکیلے فرد کے اڑانے کی چیز ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں یہ دیکھنے کو ملا کہ جہاں بڑی کمپنیاں لڑکھڑا گئیں وہاں چھوٹی کمپنیاں کامیاب ہوسکتی ہیں لیکن انہیں ہمیشہ مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

تحقیق اور ایجادات لمبی سانس کا عمل ہے جو کثیر سرمایہ ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج اور ریسکیو کے شعبے اور ریس کے شوقین دولت مند انسان ایسے کاموں میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں گے لیکن آئرن مین کی طرح جیٹ میں خود کو دفتر جاتے دیکھنے میں ابھی وقت لگے گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی