لیبارٹری میں تیار مصنوعی گوشت کی پہلی دعوت

1880 نامی اس ریستوران کی طرف سے مدعو کی گئی ایک مہمان خاتون کا کہنا تھا ’یہ تھوڑا عجیب ہے اور میرے خیال میں اس سے بہتر یہ ہو گا کہ میں اصل گوشت کو ترجیح دوں۔‘

سنگاپور کی ایک لیبارٹری میں مصنوعی طریقے سے تیار شدہ  مرغی کا گوشت سنگاپور کے ایک ریستوران ’1880‘ میں پکایا گیا۔

ریستوران کی طرف سے اس مصنوعی گوشت کے پہلے ڈنر پر مدعو کیے گئے لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کا ذائقہ بالکل اصل مرغی کے گوشت جیسا ہے لیکن بہت سے افراد اس کے استعمال سے گریزاں ہیں۔

1880 نامی اس ریستوران کی طرف سے مدعو کی گئی ایک مہمان خاتون کا کہنا تھا ’یہ تھوڑا عجیب ہے اور میرے خیال میں اس سے بہتر یہ ہو گا کہ میں اصل گوشت کو ترجیح دوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کی آزمائش سے پہلے اس پر کافی تحقیق کی گئی ہو گی،  میں نے لیبارٹری میں بنی کافی چیزوں کے بارے میں سنا ہے ، میرے والد نے لیبارٹریوں  میں کام بھی کیا ہے لیکن وہ کھانے بنانے والی ایسی لیب سے تھوڑی مختلف تھیں۔‘

’میں اسے بالکل رد نہیں کر سکتی لیکن مجھے مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی۔‘

لیب میں گوشت بنانے والی اس کمپنی کا کہنا ہے کہ بہت جلد اس مصنوعی تیار شدہ گوشت کی مارکیٹ میں فراوانی ہو جائے گی اور جانوروں کو ذبح کرنا ماضی کا قصہ بن جائے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ 2050 تک گوشت کی کھپت میں 70 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی