مجھے ایک ماہ کے بعد مار دیجیے، شکریہ!

مرنے کے بعد اپنی موت کا اعلان خود کون کرنا چاہے گا؟ لیکن آرٹ بک والڈ نے کیا اور ایسے بھرپور طریقے سے کیا کہ دیکھنے والے ساری عمر نہیں بھولیں گے۔

آرٹ بک والڈ  کا لکھا ہوا  ایک کالم بیک وقت دنیا کے پانچ سو مختلف اخباروں میں چھپتا تھا جن میں پاکستان کا ایک اخبار بھی شامل تھا۔ فائل تصویر: اے پی

مرنے کے بعد اپنی موت کا اعلان خود کون کرنا چاہے گا؟ اس نے کیا اور ایسے بھرپور طریقے سے کیا کہ دیکھنے والے ساری عمر نہیں بھولیں گے۔

’میں آرٹ بک والڈ ہوں اور ابھی ابھی مرا ہوں۔‘

آرٹ بک والڈ کے مرنے کے بعد پہلے سے ریکارڈ کردہ اس کی یہ ویڈیو بہت سے ٹی وی چینلوں نے چلائی۔

کیسی مزیدار پلاننگ تھی؟

آرٹ بک والڈ دنیا کے مشہور ترین کالم نگاروں میں سے ایک تھا۔ اس کا لکھا ایک کالم بیک وقت دنیا کے پانچ سو مختلف اخباروں میں چھپتا تھا جن میں پاکستان کا ایک اخبار بھی شامل تھا۔

اسے آخری عمر میں مختلف مسائل کی وجہ سے اینجیو گرافی کرانی پڑی۔ جس میں ایک باریک سا کیمرا کلائی یا ران کی رگ میں ڈالا جاتا ہے جو پورے جسم کے اندر گھوم گھما کے دل یا کسی بھی مطلوبہ جگہ تک پہنچتا ہے اور وجہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ مسئلہ ہوا کیا ہے اور کیوں ہے۔

اب طریقہ تو یہ ایک دم بھرپور ہے۔ نیا ہے اور تشخیص کا مکمل سائنسی طریقہ بھی ہے لیکن اس میں کبھی کبھار وہ جو کیمرا ہوتا ہے وہ جاتے جاتے گردوں کی ایسی تیسی پھیر جاتا ہے۔ ظاہری بات ہے گردے کی باریک نالیاں کیمرے اور تاریں گزارنے کے لیے تو نہیں بنی تھیں!  تو بک والڈ کے ساتھ یہ چکر ہو گیا۔ اس کے گردے فیل ہوگئے۔

گردوں نے کام کرنا ختم کیا، اس کے بعد خون جمنے کی وجہ سے ایک ٹانگ بھی کٹوانی پڑی۔ اب ایک ٹانگ والا بک والڈ ڈائیلسس پہ تھا۔ اسے تمام زندگی مشینوں سے گردے والے سارے کام لینے تھے۔ اسّی برس سے اوپر کا بوڑھا آدمی اور تکلیف دہ حالات وہ  کہ جن سے فرار کا راستہ کوئی بھی نہیں۔

 ڈاکٹروں نے صاف کہہ دیا کہ اگر تم ڈائیلسس نہیں کرواتے تو بس چند ہفتے میں آنجہانی ہو جاؤ گے۔

اس نے تھوڑی دیر سوچا اور ’ہاس پس‘ جانے کا فیصلہ کر لیا۔

ہاس پس کا معاملہ یہ ہے کہ ایسے مریض جو کسی بھی بیماری میں آخری سٹیج پہ ہوتے ہیں، تب انہیں وہاں لایا جاتا ہے۔

ایسے مریضوں کا درد کم کرنے، روحانی سکون مہیا کرنے، گھر والی سہولتیں دینے اور ساتھ ساتھ طبی دیکھ بھال وغیرہ کا سارا انتظام ہاس پس میں کیا جاتا ہے۔ اسے قبرستان جانے کی تیاری کا آرام دہ وقفہ کہہ لیجیے۔

تو اس نے فیصلہ کیا کہ استاد اب حد ہے! بجائے ختم نہ ہونے والی تکلیف دہ عمر کے، مرنا ہے تو سکون سے مرو اور کسی آرام دہ جگہ پہ مرو۔ اس نے مصنوعی علاج سے انکار کر دیا۔ اس نے ڈاکٹروں سے کہا کہ یہ دھندا ختم، ڈائیلسس وغیرہ مجھے نہیں کرانا، میں جب تک چل سکتا ہوں چلوں گا بعد میں چھٹی!

اب ایک اور تفریح ہوئی۔ اس آرام گاہ میں شفٹ ہونے کے ایک ہفتے بعد اس کے گردے چل پڑے۔ ڈاکٹروں نے تو کہہ دیا تھا کہ تمہارے پاس دو تین ہفتے ہیں اور مشین ہٹاؤ گے تو یہ سامنے موت ہے۔ اُدھر جوان نے پانچ ماہ تک پوری طبیعت سے کھایا پیا، مزے کیے، روز درجنوں ملاقاتیوں سے ملا، خوب عیاشی کی۔ بک والڈ کہتا تھا کہ اکثر میرے ملاقاتی بڑے نروس ہوتے تھے جیسے وہ موت کے چہرے کو فیس نہ کر پا رہے ہوں، لیکن بعد میں وہ لوگ سیٹ ہو جاتے تھے، میں اپنی بات چیت سے انہیں نارمل کر لیتا تھا۔ پھر وہ بک والڈ کو دوبارہ ملنے بھی آیا کرتے۔

کھانا، پینا، دوست یار، خط پتر، انٹرویوز۔ فرصت ہی فرصت۔ سب سوچتے تھے کہ بابا جی اب گئے کہ تب گئے، کتنے لوگ تو آخری انٹرویو کے چکر میں آ جاتے تھے۔ فل ٹائم رونق میلہ لگا ہوا تھا۔

آرٹ بک والڈ ٹھیک ٹھاک دولت مند تھے۔ سوال یہ اٹھ سکتا ہے کہ ایسا ہی مشہور اور امیر آدمی تھا تو گردے نئے کیوں نہیں لگوا لیے؟ وہ دراصل 80 برس سے اوپر کا ہو چکا تھا اور دوسری مختلف بیماریاں بھی اسے پہلے ہی تھیں تو ڈاکٹر اسے گردہ بدلنے کے لیے فٹ قرار نہیں دیتے تھے۔

ہے نا کمال؟ جو مرضی خرید لے مگر بندہ فٹنس نہیں لے سکتا۔ بزرگ شاید اسی لیے دعا دیتے تھے کہ ’صحت دی بادشائی ہووے۔‘

تو اس نے پھر وہ شاندار فیصلہ کیا کہ میں اپنی مرضی سے مروں گا، یوں تڑپ کے، تکلیف میں، اذیت میں، روز مشینوں کو دیکھتے دیکھتے مرنے سے بہتر ہے بندہ ایک بار سکون سے مر جائے۔

اس کے باوجود وہ اتنا زندہ رہ گیا کہ اس نے ایک اور کتاب پوری کرلی اور اس کا مرکزی خیال بھی یہی تھا کہ بھائی مرنا مشکل نہیں ہے، دوا دارو کا خرچہ بھرنا اور پھر سو رنگ کی تکلیفیں اٹھا کے مر جانا زیادہ مشکل ہے۔ تو یوں پہلے اس ہاس پس میں اور پھر وہاں سے گھر منتقل ہونے کے تقریباً ایک برس بعد وہ مرا اور بالکل مطمئن مرا، مشینوں کا محتاج ہوئے بغیر مرا۔

یہ معاملہ بظاہر حماقت لگتا ہے کہ ڈاکٹروں نے زندہ رہنے کا طریقہ بتا دیا اور مریض کہہ رہا ہے کہ نہیں صاحب مجھے مرنا ہے، قدرتی طریقے سے، اطمینان سے مرنا ہے، لیکن اس میں بھی وہ بندہ مرتے مرتے بہت گہرا سبق دے گیا۔

اصل میں ہم لوگ عادی ہیں اپنے چاروں طرف بے بسی، لاچاری اور محتاجی دیکھنے کے۔ علاج کے نام پہ ہمارا پہلا تصور یہی ہے کہ بزرگ چاہے مرض الموت میں مبتلا ہوں اور ڈاکٹر جواب دے چکے ہوں لیکن ہم  پوری کوشش کریں گے کہ سانس کی ڈور بندھی رہے۔ چاہے وینٹی لیٹر پہ یا ڈائلسس مشین پہ آدمی ایک سال سے پڑا ہو لیکن جو خرچ برداشت کر سکتے ہیں ان کے لواحقین کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ اسّی بیاسی برس کے یہ بزرگ جو کب سے یہیں ہیں، بھلے پیسے دے کے ہیں اور جو طبی لحاظ سے کوما میں ہیں یا صرف مصنوعی تنفس اور ڈرپ انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے، اسے ہٹا لیا جائے اور کوئی جوان آدمی جو ایمرجینسی میں ہے اور جس کے بچنے کا چانس زیادہ ہے لیکن وہ مشین پر جگہ نہ ملنے سے مر رہا ہے، اسے موقع دے دیا جائے۔

اگر ڈاکٹر سمجھائے گا بھی، تو بھی سمجھ نہیں آئے گی۔ رشتوں کی ڈور ہوتی ہی ایسی گہری ہے۔ کون چاہتا ہے کہ اپنے کسی بھی قیمتی رشتے کو یوں کھو جانے دے۔

اس کا ایک حل ہے۔ ہر انسان وصیت کرتے ہوئے اس میں لکھوا دے کہ ایسی کسی بھی صورت میں ایک ماہ یا بہت سے بہت ڈیڑھ ماہ تک اگر میں واپس نہیں آتا تو بھائی مجھے سکون سے جانے دو، میری نلکیاں اتار دو، یہ امید وغیرہ کے چکر میں لاکھوں روپے تیل کر کے، بلکہ ادھار اٹھا کے ساری عمر کے لیے پھنسنے کی بجائے، اتنی لمبی مایوسی اور انتظار کے بجائے، بس اتنی مدت کے بعد مجھے آزاد کر دو، میری مشکلیں آسان کر دو۔

ہمارے یہاں ویسے ہی میڈیکل سہولتوں کا فقدان ہے، خدا نہ کرے کبھی ڈائیلیسس یا انجیوگرافی مشینوں کے پھیرے لگیں، پتہ لگ جاتا ہے جب افورڈ کر سکتے ہوئے بھی ٹائم نہیں ملتا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد میں تو پھر بھی سمجھیے بہتر حالات ہیں، باقی پورے ملک میں بس اللہ کا نام ہے۔

کیا معلوم خدا نے کسی نوجوان کی صحت یابی اُسی مشین پہ لکھی ہو جس سے آپ 92 برس کی عمر میں ایک ماہ مردہ پڑے رہنے کے بعد ہٹنے والے ہوں؟ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ