جنرل کریاپا جو مسئلہ کشمیر کے حل کے متمنی رہے

جب جنرل ایوب نے پاکستان بھارت مشترکہ دفاع کی تجویز دی تو جنرل کریاپا نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنے کی تجویز دی۔

کریاپا اور ایوب خان ایک دوسرے کے کولیگ اور گہرے دوست تھے (اے ایف پی)

شاید بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کی بات ہو کہ بھارتی فوج کے سابق سربراہ فیلڈ مارشل سر کے ایم کریاپا نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور قیام ِامن کے لیے بہت جدوجہد کی۔

جنرل کریاپا انڈیا کے پہلے آرمی چیف تھے جنہوں نے لیفٹیننٹ جنرل سر رائے بچر کی جگہ1949 میں کمان سنبھالی تھی۔ کریاپا 1945 میں وزیرستان میں تعینات بنوں فرنٹیئر بریگیڈ کی کمان کر رہے تھے تب جنرل ایوب خان اسی برگیڈ میں کرنل کے عہدے پر تعینات تھے۔

کریاپا 1954 میں ریٹائر ہو گئے بعد ازاں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھارت کے ہائی کمشنر بھی رہے۔ 1965 کی جنگ میں جنرل کریاپا کے بیٹے کے سی نندا پاکستان کے قیدی بنائے گئے جب جنرل ایوب کو معلوم ہوا تو انہوں نے فوری طور پرکریاپا سے رابطہ کر کے ان کی رہائی کی پیشکش کی لیکن کریاپا نے کہا کہ وہ اب میرا نہیں بلکہ بھارت کا بیٹا ہے اس لیے اس سے وہی سلوک کیا جائے جو باقی جنگی قیدیوں سے کیا جائے گا۔

کریاپا کی مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کے حوالے سے لیفٹیننٹ کرنل (ر) سکندخان بلوچ نے اپنی کتاب ’تاریخ کے زخم‘ میں ایک پورا باب جنرل کریاپا کے بارے میں لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اور فیلڈ مارشل کریاپا دونوں انفنٹری آفیسر تھے۔ بنوں برگیڈ میں اکٹھی سروس کی اس لیے دونوں ایک دوسرے کے دوست بھی تھے۔

ایوب خان کریاپا سے آٹھ سال جونیئر تھے۔ حالات نے ایک کو پاکستان اور دوسرے کو بھارتی فوج کا آرمی چیف بنا دیا۔ دونوں ایک دوسرے کے مد مقابل بھی آئے مگر پھر بھی احترام کا رشتہ قائم رہا جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ کریاپا پانچ بار پاکستان آئے اور انہوں نے نہرو اور شیخ عبداللہ کومسئلہ کشمیر حل کرنے کی ترغیب دی۔

جب جنرل ایوب نے پاکستان بھارت مشترکہ دفاع کی تجویز دی تو جنرل کریاپا نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنے کی تجویز دی۔ کریاپا کے کہنے پر ہی جنرل ایوب نے بھارتی شہریوں کے لیے 1964 میں ویزا پابندیاں نرم کر دیں، لیکن کریاپا کی کوششوں کا سرحد کے دونوں طرف مذاق اڑایا جاتا رہا۔

1964 میں انہوں نے جنرل ایوب کو ایک خط لکھا کہ ’پاک و ہند کے عوام کے لیے آپ میرے ذاتی جذبات سے واقف ہیں، میری مخلصانہ کوشش ہے کہ دونوں ممالک جلد از جلد ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں اور اچھے ہمسائے بن کر رہیں۔ پچھلے نو سالوں میں آپ کے ملک پانچ دفعہ آ چکا ہوں۔ آپ نے 1959 میں ایک دفعہ کراچی اور دو دفعہ پنڈی میں بطور اپنے ذاتی مہمان کے میرا استقبال کیا۔ میں آپ کے ملک میں ستمبر 1958 میں بھی آیا تھا جب سکندر مرزا پاکستان کے صدر تھے۔

’میرے دیرینہ دوست، میں ہر دفعہ وہاں ذاتی سفیر کی حیثیت سے خود ا س لیے آیا تاکہ آپ سے بات کر کے دونوں ممالک میں دوستانہ ماحول پیدا کر سکوں۔ 14 اپریل 1964 کو جب آپ آپریشن کی وجہ سے بستر پر تھے تو آپ کی خواب گاہ میں اس موضوع پر ہماری بہت کھل کر آزادانہ ماحول میں بات ہوئی تھی۔ آپ نے مجھے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے ایک فارمولا دیا تھا۔ جو میں نے نہرو کے گوش گزار کیا جس پر وہ بہت خوش ہوا اورخوشی سے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔

’بہت گرم جوشی سے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا "کریاپا جو کچھ تم نے کیا ہے ا س کے لیے بہت بہت شکریہ۔ میں نے اسے آپ کو جلد دہلی آنے کی دعوت دینے کے لیے زور دیا۔ بدقسمتی سے ا س میں دیر ہو گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ بعد میں لال بہادر شاستری وزیراعظم بنے تو وہی پیغام دینے کے لیے آپ سے اجازت لینے کے لیے آپ کے پاس آنا چاہا تو میرا استقبال کرنا آپ کے لیے ممکن نہ تھا۔‘

جنر ل کریاپا کی کوششوں سے شیخ عبداللہ اور مرزا افضل بیگ بھی مئی 1964 میں پاکستان آئے، صدر ایوب سے ملے۔ صورت حال پر غور کرنے کے بعد ایوب خان جون میں دہلی جانے کے لیے تیار ہو گئے تھے تاریخ کا تعین بھی ہو گیا مگر 27 مئی 1964 کو نہرو فوت ہو گئے، یوں مسئلہ حل ہوتے ہوتے رہ گیا۔ آخر میں چند ماہ بعد دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ گئی اور کریاپا کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔

لیکن کریاپا نے پھر بھی ہمت نہ ہاری 1968 میں انہوں نے دوبارہ صدر ایوب کو خط لکھا، ’بہرحال میں ایک باغی قسم کا پر امید شخص ہوں، میں جانتا ہوں کہ ایک نہ ایک دن اللہ تعالیٰ دونوں ملکوں کو ضرور قریب لائے گا اور ہم بہترین پڑوسی ثابت ہوں گے۔ ہمیں آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے دوستی اور ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات کا ورثہ چھوڑنا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میری نظر میں کشمیر کا حل صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ کشمیر اور جموں کے ساتھ کے جو علاقے ہم دونوں کے پاس ہیں وہ اسی طرح رہیں اور وادی کو سوئٹزر لینڈ یا مناکو کی طرز پر اقوام متحدہ کے تحت دے دیا جائے۔ اس طرح ہم دونوں کے درمیان زہر بھرے نعرے ختم ہو جائیں گے۔ میں نے یہ حل بہت سے معزز لوگوں بشمول شیخ عبداللہ سے بھی ڈسکس کیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بھارت میں بھی بہت سے لوگ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ ہم دونوں ممالک پر امن پڑوسی بن کر رہیں۔‘

1971  کی جنگ کے بعد کریاپا نے ایک بار پھر کوشش کی کہ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے جدا کرنے کی بجائے اسی طرح رہنے دیا جائے اور اس کے بدلے پاکستان سے کشمیر کا تصفیہ کرا لیا جائے لیکن اس کی یہ کوششیں بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔ جنرل کریاپا کا بیٹا کے سی نندا جو 1965 کی جنگ میں قیدی بنے تھے وہ بعد ازاں انڈین ایئر فورس کا ائیر مارشل مقرر ہوئے۔ جنرل کریاپا نے ریٹائرمنٹ کے بعد کئی ملکوں کو فوج بنانے میں مدد کی جس پر امریکی صدر ہیری ٹرومن نے انہیں خصوصی ایوارڈ بھی دیا۔

15 مئی 1993 کو دونوں ملکوں کے درمیان امن کے خواب دیکھنے والا یہ جرنیل فوت ہو گیا۔ یوں کریاپا ہی نہیں وہ کرپا بھی دم توڑ گئی جو امن کی داعی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ