جب ریڈیو ہر خاندان کا فرد اور دوست ہوا کرتا تھا

وہ زمانہ جب ریڈیو ایک استاد اور رہنما کی طرح لوگوں کی تربیت کیا کرتا تھا۔ ریڈیو کے عالمی دن کے موقعے پر خصوصی تحریر

اس دور میں ایف ایم ریڈیو کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا (اے ایف پی)

ہماری گذشتہ دو دہائیوں کی یادوں سے وابستہ بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، جن میں ایک ریڈیو بھی شامل ہے۔ جدید ابلاغ کی ہوش ربا سہولیات نے بھلے ہی ریڈیو کو پیچھے دھکیل دیا ہو، ہمارا خیال ہے کہ ریڈیو سننے کا آج بھی اپنا ہی الگ لطف ہے۔

تین دہائی قبل کی بازآفرینی در دل پر دستک دیتی ہے تو کھوئے ہوئے لمحے اردگرد آن موجود ہوتے ہیں، جو ریڈیو کے حوالے سے ہمارے نوسٹیلجیا کی تسکین کرتے ہیں اور بچپن کے رومانس کو تازہ کرتے ہیں۔ ریڈیو کو ہمارے گھر میں خاص اہمیت حاصل تھی۔ ہمارا گھر شہر کے ان گنے چنے گھرانوں میں شامل تھا جہاں ڈاک خانے سے ریڈیو کا لائسنس بنوانے کو فخر اور قانون پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ابا جی (رسول بخش نسیم) اس سلسلے میں کوئی تساہل نہیں برتا کرتے تھے۔

اس دور میں ہمارا گھر کچا تھا۔ کچے آنگن میں کنواری مٹی کی روح پرور باس میں بسا ایک چھوٹا سا گھر جہاں سرشام ہی صحن میں چھڑکاؤ کر کے چارپائیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی میز پر لکڑی کے ڈبے کا ریڈیو رکھ دیا جاتا جو دن کو ابو کے کمرے میں میز پر دھرا رہتا۔

اس دور میں ایف ایم ریڈیو کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ریڈیو ملتان اور ریڈیو بہاولپور کے دوش پر نشر ہونے والے اپنے پسندیدہ پروگراموں میں خطوط کے ذریعے پسندیدہ گانوں کی فرمائش کی جاتی اور جب اپنا مطلوبہ پروگرام آن ایئر ہوتا تو ہم سب بہن بھائی میزبان کے کنج لب سے اپنا نام سننے کے لیے ریڈیو سیٹ کے گرد جمع ہوتے۔

اس دور میں ریڈیو کے ڈرامے نے اپنے سامعین کو سحر میں لے رکھا تھا، جو ہماری تہذیبی زندگی اور بڑی حد تک عمومی شائستگی کا مظہر ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر، ساجد حسن درانی، محمد نقی، مظہر کلیم خان، محمد اجمل ملک اور شمشیر حیدر ہاشمی اپنی خوبصورت آوازوں اور خوب صورت باتوں کے باعث اب تک ہمارے دل و دماغ میں ہمکتے ہیں۔ ابو جی استاد رمضان حسین خان، عاشق حسین خان کی جوڑی کے علاوہ جمیل پروانہ اور نصیر مستانہ کی جوڑی، قمر اقبال، حسینہ ممتاز اور گل بہار بانوکی جانستاں آوازوں کے عاشق تھے جو اس وقت ریڈیو کے دوش پر دن میں کئی بار گونجا کرتی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان سب کی مدھ بھری آواز میں سرود رفتہ کی الوہی مہک لیے لازوال گیتوں کا سحر اب بھی ہمیں عروضی زمانوں سے باہر لے جاتا ہے اور اداس کر دیتا ہے۔ ’تلقین شاہ،‘ ’جمہور دی آواز،‘ ’سوجھل سویل،‘ ’پاسبان،‘ ’صدائے جرس،‘ ’اتم کھیتی‘ اور ’آپ کی فرمائش‘ جیسے سدا بہار پروگرام اب تک سماعتوں میں گونج رہے ہیں۔

ستمبر 1992 کے تباہ کن سیلاب کے دنوں میں جب موضع سرکی تحصیل علی پور میں دریائے سندھ اور چناب کے سنگم پر واقع ہمارا گاؤں ٹبہ برڑہ چاروں اطراف خوفناک سیلابی پانی میں گھر گیا تھا اور کئی دن تک اس کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع رہا تو یہ ریڈیو ہی تھا جو ہمیں پل پل کی خبریں اور حالات حاضرہ سے آگاہی دیتا رہا۔

آزاد کشمیر ریڈیو کے پروگرام صدائے وطن،‘ آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس سے پرانے گیتوں کا پروگرام ’تعمیل ارشاد‘ اور ریڈیو سیلون سے گونجنے والے سدا بہار نغمے کیسے فراموش کیے جا سکتے ہیں؟ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا کہ ریڈیو کو سینے پر دھرے اور رات گئے نشر ہونے والے سدا بہار گیتوں کے پروگرام کو سماعت کرتے ہی ہم نیند کی وادیوں میں چلے جاتے۔ ریڈیو پاکستان کے خبرنامہ کی پرانی سگنیچر ٹیون اور بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین کی مخصوص ٹیون کے ساتھ اساطیری براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی گونجنے والی طلسمی آواز کون بھول سکتا ہے؟

ریڈیو کا سنہری دور وہ تھا جب ریڈیو حقیقی معنوں میں تقریباً ہر خاندان کا فرد اور دوست ہوا کرتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ریڈیو پر پروگرام کرنے والے فنکار اور صداکار سامعین میں بہت مقبول ہوا کرتے تھے اور ہر ریڈیو سٹیشن کو روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں خطوط موصول ہوا کرتے تھے۔ ریڈیو ایک استاد اور رہنما کی طرح لوگوں کی تربیت کیا کرتا تھا اور سامعین ریڈیو کے ذریعے دی جانے والی تربیت پر ایک طالب علم کی طرح عمل کیا کرتے تھے۔

ریڈیو نے عوام کی ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو تفریح کا بھی سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ پاکستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے گلوکار، موسیقار، سازکار، شاعر اور مصنفین ریڈیو پاکستان کے ساتھ وابستہ رہے اور یوں ملک میں ثقافتی ترقی اور فکری ہم آہنگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ وہ سامعین جو ریڈیو پر کرکٹ کمنٹری سنا کرتے تھے، وہ اب تک عمر قریشی اور جمشید مارکر کو نہیں بھولے ہوں گے۔

عمر قریشی کے انداز کو کرکٹ کمنٹری میں معیار تسلیم کیا گیا۔ اسی طرح اگر ہاکی کے کھیل کی کمنٹری کی بات کی جائے تو ایس ایم نقی کو اردو کمنٹری کا باوا کہنا بے جا نہ ہو گا۔ یہ واحد اردو کمنٹیٹر ہیں جنہیں پاکستان میں ہاکی کے سنہرے دور کے دوران قومی ہاکی ٹیم تک رسائی حاصل تھی۔

ریڈیو نے پاکستان میں فلم اور آرٹ کو فروغ دینے والے ادارے کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔ ٹی وی اور فلم کے اکثر مقبول فنکاروں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو سے کیا۔

ان دنوں مرد خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگرام زیادہ سنتے تھے اور خواتین ڈرامہ اور موسیقی کے پروگرام جبکہ نوجوان سکول براڈکاسٹ اور بچوں کی دنیا زیادہ ذوق وشوق سے سنتے تھے۔ بڑی تعداد میں لوگ مباحثوں، تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ ریڈیو نے پاکستان میں فلم اور آرٹ کو فروغ دینے والے ادارے کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔ ٹی وی اور فلم کے اکثر مقبول فنکاروں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو سے کیا۔

ریڈیو ابلاغ کا سستا ترین اور آسان ذریعہ ہے۔ ٹیلی ویژن کے مقابلے میں اس کی رسائی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر بغیر کسی خرچ کے ریڈیو کی نشریات سے لطف اٹھا سکتا ہے۔ یعنی یہ ایسا میڈیم ہے جسے ہم سامعین کے لیے مفت کہہ سکتے ہیں۔

یہ وہی ریڈیو ہے جو عشروں تک ہماری ذہنی و فکری تربیت کرتا رہا ہے۔ یہ وہی ریڈیو ہے جس نے بڑے بڑے فن کار متعارف کرائے۔ یہ وہی ریڈیو ہے جو اپنے پہلے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار علی بخاری کی قیادت میں ایک اعلیٰ درجے کا ادارہ بن کر ابھرا، مگر آج کے اس عہد زیاں کار میں جب پیسے ہی کو ایمان کا درجہ سمجھ لیا گیا ہے تو صحافت کی طرح ریڈیو کی دنیا میں بھی پروفیشنلز پیچھے رہ گئے اور مارکیٹنگ کے لوگ سامنے آ گئے جنہوں نے راتوں رات میڈیا کی انڈسٹری قائم کر کے کھمبیوں کی طرح ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کر لیے۔ کیسا اور کس معیار کا پروگرام چل رہا ہے، اس پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ٹی وی چینلوں کے کسی نازیبا پروگرام پر ایکشن لے بھی لیا جاتا ہے مگر ریڈیو کی طرف کوئی دھیان ہی نہیں دیتا۔

پاکستان میں اَن گنت ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم ہیں تاہم ان میں سے کوئی چینل بھی دوسرے سے مختلف نہیں، ایک بھیڑ چال ہے اور سب اسی میں مگن۔ کوئی بھی چینل لگا لیجیے۔ وہی ایک طرح کے مکالمے، ایک جیسے پروگرام آپ کی سماعتوں سے ٹکرائیں گے۔ رات کے شوز میں بے ہودگی عروج پر ہوتی ہے۔ اس بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں کہ جب مقصد ہی کمرشل ازم قرار پایا ہو تو وہاں اخلاقی و تہذیبی اقدار کی کیا حیثیت۔

ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ریڈیو ختم ہو گیا یا ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ جو کام ریڈیو پاکستان کرتا تھا بہت سے مختلف ادارے وہی کام انتہائی شدومد کے ساتھ کر رہے ہیں لیکن کمرشل ازم کا ایک مسئلہ پیسہ بنانا بھی ہوتا ہے۔ براڈکاسٹنگ کے دوران سامعین کو اپنی طرف مائل رکھنے کی تگ ودو نے پروگراموں کے معیار کو اس حد تک گرا دیا ہے اب فحش گوئی اور سرحدپار سے درآمدی موسیقی جس میں جذبات کو ابھارنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے، اس تواتر کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں کہ اب گننا بھی ممکن نہیں رہا۔

یہ بحث تو ایک طرف ہے کہ ہمارا موسیقار اور ڈراما نگار اس تمام دوڑ دھوپ میں بے روزگار ہو کر رہ گیا ہے اور رہی سہی کسر ہمارے حکومتی افلاطونوں نے ریڈیو پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے سنٹرل پروڈکشن یونٹ کو مقفل کر کے اور کہنہ سال فنکاروں اور صداکاروں پر ریڈیو پاکستان کے دروازے بند کر کے پوری کر دی ہے۔

ہر سال 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس تصور کی بنیاد پر منایا جاتا ہے کہ ریڈیو ہی وہ ذریعہ ابلاغ ہے جو فرد کے اندر شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر قوموں کے درمیان رابطے کا وسیلہ ہے اور ایک ایسا ذریعہ ہے جو بیک وقت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ آواز کی اس دنیا میں ہوا میں رقصاں الفاظ ہماری سماعتوں سے ٹکراتے ہیں اور جاوداں ہو جاتے ہیں۔ دائمی اثر چھوڑ جاتے ہیں۔

اتنا اہم میڈیم، جس کی آواز گھر گھر گونجتی ہے، ہمارے یہاں بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ عالمی یوم ریڈیو ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم صرف ایک روز کے لیے ہی سہی، اپنے خاندان کے ساتھ انہی روایات کا مزہ دوبالا کریں جنہیں ہم نے چکاچوند اور تیز رفتار ترقی کی نذر کر دیا ہے اور ریڈیو کو وہ اہمیت دیں جس کا یہ مستحق ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ