منگلا ڈیم کے قریب رامائن کے رام چندر سے منسوب قلعہ

پوٹھوہار کے قلعوں میں یہ قلعہ سب سے اچھی حالت میں موجود ہے جہاں تھوڑی سے کوشش کے ذریعے نہ صرف اسے بحال کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے ایک سیا حتی مقام میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔

اپنے محل و وقوع کی بنیاد پر  قلعہ بےحد جاذبِ نظر ہے(سجاد اظہر)

رام کوٹ کا شمار پوٹھوہار کے قدیم قلعوں میں ہوتا ہے۔ قلعے کے داخلی راستے پر لگے معلوماتی بورڈ کے مطابق اس کی تعمیر 1186 میں غوری سلاطین کے عہد میں سلطان غیاث الدین نے کی تھی۔ قلعے کو دینہ، ڈڈیال اور میر پور سے تین راستے جاتے ہیں۔

میر پور سے تیز رفتار کشتی سے آدھے گھنٹے کا سفر ہے۔ چونکہ لوگ یہاں خال خال ہی جاتے ہیں اس لیے کشتیاں صرف بکنگ پر ہی چلتی ہیں جو خاصی مہنگی پڑتی ہیں۔ ہم چونکہ میر پور کے راستے سے گئے اس لیے منگلا ڈیم میں خاصا طویل چکر کاٹ کر پہاڑی کے ساتھ بنے ہوئے چبوترے پر کشتی لنگر انداز ہوئی۔

چونکہ آج کل سردیاں ہیں اور بارشیں بھی معمول سے کم ہوئی ہیں اس لیے ڈیم میں پانی بھی کم ہے۔ چبوترے سے 440 سیڑھیاں آپ کو رام کوٹ قلعے کے مرکزی دروازے تک لے جاتی ہیں اگر ڈیم بھرا ہوا ہو تو یہ سیڑھیاں کم بھی ہو سکتی ہیں۔ مرکزی دروازہ ڈھلوانی چٹان پر بنایا گیا ہے تاکہ کسی بیرونی حملے کی صورت میں یہاں تک رسائی خاصی مشکل ہو۔ مرکزی دروازے میں سرخ اینٹ جبکہ باقی تمام جگہوں پر پتھر استعمال کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید کسی حملے کے نتیجے میں مرکزی دروازہ تباہ ہو گیا تھا جس کی بعد میں تعمیر نو کی گئی۔

قلعے کے عقب میں ایک چھوٹا دروازہ بھی ہے جو شاید فرار کے لیے بنایا گیا تھا۔ مرکزی دروازہ چار کمروں پر مشتمل ہے جس میں سے تین کمرے نیچے اور ایک بالائی منزل پر ہے جس کے لیے مرکزی دروازے سے ایک سیڑھی اوپر جاتی ہے۔ قلعے کی ساخت بتاتی ہے کہ یہاں تہہ خانے بھی ہوں گے۔ چونکہ محکمہ آثار قدیمہ نے یہاں کوئی کام نہیں کیا ا س لیے قلعے کے آرکیٹیکچر کے حوالے سے معلومات بہت محدود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشتی سے اترتے ہی جب آپ پہاڑی پر چڑھائی چڑھتے ہیں تو قلعے کی عالیشان عمارت آپ کو حیران کرنا شروع کر دیتی ہے۔ نیچے دور تک نیلگوں پانی اور پہاڑی کی چوٹی پر ایک قلعہ، آپ کو ایسے لگتا ہے کہ جیسے آپ کسی فلم کے بیچوں بیچ گزر رہے ہوں۔ اوپر فصیلوں پر تیر کمانوں سے مسلح پہرے دار کھڑے ہوں۔ قلعے کے گرد برچھیاں ڈالے چند فوجی گشت کر رہے ہوں اور آپ کو قلعے کی سمت آتا دیکھ کر اوپر سے ہی آپ کو بلند آواز سے یہاں آنے کا مقصد پوچھا جاتا ہے اور پھر ایک مسلح گھڑ سوار کو بھیجا جاتا ہے تاکہ مسافر سے دور ہی سے باز پرس کر لی جائے اور اگر وہ کوئی قاصد ہے تو ضروری چھان پھٹک کے بعد اسے اجازت دی جائے۔

قلعے کے اندر داخل ہوتے ہی آپ کو سامنے میدان میں دو بڑے تالاب نظر آتے ہیں۔ جن کا مقصد بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا تھا۔ جب یہاں ڈیم نہیں تھا تو سینکڑوں سال پہلے یہ قلعہ دریائے جہلم اور دریائے پونچھ کے سنگم پر بنایا گیا تھا۔ گویا تین اطراف سے قلعے کو دریاؤں نے گھر رکھا تھا۔ چونکہ قلعہ خاصی اونچائی پر تھا اس لیے پانی کی ضرورت کو بارش کا پانی اکٹھا کر کے پورا کیا جاتا تھا۔

دو تالابوں کے درمیان چند کمرے بنے ہوئے ہیں جن کی چھتیں گر چکی ہیں۔ دوسرے تالاب کے ساتھ خام لوہا بڑی تعداد میں موجودہے جو شاید ہتھیار سازی کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہو۔ تالاب کے سامنے شمال کی جانب داروغہ کی رہائش گاہ ہے جہاں پہنچنے کے لیے سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ یہاں پر دونوں طرف کمرے ہیں جن کے درمیان میں ایک وسیع برآمدہ ہے جس کی چھت اب موجود نہیں ہے۔ کمروں سے سیڑھیاں چھت کو اور تہہ خانوں کو جاتی ہیں۔ دونوں طرف کونوں پر باہر کی جانب ایسے کمرے ہیں جو گولائی میں ہیں اور کال کوٹھڑیاں معلوم ہوتی ہیں۔ داروغہ کی رہائش اگرچہ شکستہ ہے مگر معمولی تگ و دو سے اسے اپنی اصلی شکل میں بحال کیا جا سکتا ہے۔ رہائش گاہ کے ساتھ کچھ فاصلے پر مزید کمرے ہیں جو شاید داروغہ کے خاص خدمت گاروں کے لیے ہوں۔

قلعے کی فصیل کے ساتھ ایک ڈھلوان ہے جو یقیناً توپوں کو اوپر لے کر جانے کے لیے استعمال کی جاتی ہو گی۔ ایک توپ بھی فصیل پر موجود ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ قلعے کی توپ نہیں بلکہ جب ا س قلعے کی مرمت کی گئی تھی تو پاک فوج نے یہ پرانی توپ عطیہ کی تھی۔

مرکزی دروازے کے بائیں جانب تھوڑی اونچائی پر ایک مندر بنا ہوا ہے جس میں مورتیوں کو رکھنے کے لیے طاق بھی ہیں، مندر کی دیواریں گر چکی ہیں مگر ا س میں سرخ رنگ کا ایک بڑا شیولنگ ابھی تک موجود ہے جس پر منتوں اور مرادوں کے چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے۔ گھی اور دودھ بہایا جاتا تھا۔ روایت کے مطابق یہ شیولنگ دریائے گنگا سے لایا گیا تھا۔

رام کوٹ میں مندر کی موجودگی سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کبھی یہاں ہندوؤں کی ایک بڑی آبادی موجود تھی جس میں بعد ازاں دفاعی نقطہ نظر سے قلعہ بنا دیا گیا۔ رام کوٹ، دان گلی اور پھروالا کے قلعے اگرچہ گکھڑوں سے ہی منسوب کیے جاتے ہیں۔ ’دی ہائی لینڈ زآف انڈیا‘ از میجر جنرل (ر)ڈیوڈ جے ایف نیوال کے صفحہ 181 پر درج ہے کہ گکھڑوں کے آنے کے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال پہلے پھروالا میں ہندؤں کی مذہبی کتاب رامائن کا ہیرو رام چندر پیدا ہوا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ یہاں رام چندر کی نسبت سے رام کوٹ بسایا گیا تھا۔ اس کی تصدیق حبیب شاہ بخاری اپنی کتاب ’بھٹوار، ماہ و سال کے آئینے میں‘ کے صفحہ 57 پر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "منگلا ڈیم کے شمال مشرقی کنارے پر قلعہ رام پور آباد ہے جسے شری رام چندر کے نام پر تعمیر کیا گیا تھا "۔

کیا یہ قلعہ واقعی غوری سلطان غیاث الدین نے بنایا تھا؟ معروف انگریز ماہر ارضیات وتاریخ دان فریڈرک ڈیو (1836-1891) اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ اپنی کتاب ’دی جموں اینڈ کشمیر ٹیریٹریز‘ میں لکھا ہے ’دریائے جہلم کے زیریں حصہ، کوٹلی اور میر پور کے مغرب میں ایک قبیلہ ہے جسے گکھڑ کہتے ہیں۔ ان کی سب سے اہم شاخ ’شاہو‘ کہلاتی ہے۔

گکھڑ پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اور طاقتور دشمنوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی آزادی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی راج میں دریا کے دائیں کنارے کے ساتھ ان کی عمارتوں کے آثار پائے جاتے ہیں جو ان کے شاندار ماضی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک دریا کے بائیں جانب رام کوٹ کا قلعہ ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اسے تغلو نامی گکھڑ نے بنوایا تھا۔‘

پوٹھوہار کی تاریخ کے ماہر حبیب گوہر جو کہوٹہ کالج میں استاد ہیں انہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس قلعے کی تزئین و آرائش گکھڑ رانی منگو کے دور میں ہوئی جس نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد عنان اقتدار سنبھالا تھا۔ اس نے کئی تعمیراتی کام کروائے۔ اسی رانی منگو کی بیٹی کی شادی اورنگ زیب عالمگیر کے بیٹے شہزادہ محمد اکبر کے ساتھ ہوئی تھی۔ سکھوں کے عہد میں جب سردار گجر سنگھ بھنگی نے گکھڑوں کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو الفنسٹن نے کنگڈم آف کابل میں واپسی کا ایک منظر بیان کرتے ہوئے لکھا کہ "منکیالہ سے 40 مربع میل کے درمیان گکھڑوں کی تباہ حال بستیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔‘

سکھوں کے عہد میں یہ قلعہ ڈوگروں کے قبضے میں دے دیا گیا تھا۔

 سری نگر جانے کے لیے قدیم دور میں جو چار راستے استعمال کیے جاتے تھے ان میں سے ایک راستہ رام کوٹ سے ہو کر گزرتا تھا جس کی وجہ سے اس کی تزویراتی اہمیت مسلمہ ہے۔ رام کوٹ قلعہ کے قریب ہی تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر منگلا کا قلعہ واقع ہے۔ دونوں قلعوں کے قریب ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں الگ الگ راجدھانیوں کی نمائندگی کرتے ہوں۔ منگلا کا قلعہ رانی منگلا سے منسوب ہے جو کہ راجہ پورس کی بیٹی تھی۔ پورس اور سکندر اعظم کے درمیان 326 ق م میں مشہور معرکہ اسی قلعے کے نواح میں ہوا تھا۔

یہ قلعہ نجانے کتنی صدیوں اور کتنی داستانوں کا امین ہے۔ پوٹھوہار کے قلعوں میں یہ قلعہ سب سے اچھی حالت میں موجود ہے جہاں تھوڑی سے کوشش کے ذریعے نہ صرف اسے بحال کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے ایک سیا حتی مقام میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔ قلعے کی سیاحت کے غرض سے آئے ہوئے ساجد یوسف جو کہ برطانیہ میں کمیونٹی صحافت سے منسلک ہیں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اسے دیکھ کر مجھے سمندر کے ساتھ پہاڑیوں پر بنے ہوئے سکاٹ لینڈ کے قلعے یاد آ جاتے ہیں۔ اس قلعے کو آپ دنیا کے انہی قدیم قلعوں کے ہم پلہ رکھ سکتے ہیں لیکن یہاں کوئی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ویرانی چھائی ہو ئی ہے۔ پورے دن میں ہم چھ لوگوں کے علاوہ یہاں کوئی نہیں آیا۔ آمدورفت کے ذرائع بہت مہنگے ہیں اگر منگلا، میر پور اور ڈڈیال سے سواریوں والی کشتیاں چلیں تو یہاں لوگ جوق در جوق آئیں گے کیونکہ ایسے نظارے آپ کو کسی اور قلعے میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اگر یہاں سہولیات کی فراہمی کے ساتھ اس کی مناسب تشہیر کی جائے تو یہ قلعہ آزاد کشمیر کے لیے ایک بڑی معاشی سرگرمی بھی پیدا کر سکتا ہے۔‘

1500 ق م میں یہاں رامائن کے ہیرو رام چندرنے جنم لیا اور لگ بھگ ساڑھے تین ہزار سال بعد یہاں ہی سیف الملوک کے میاں محمد بخش نے جنم لیا جن کے مزار پر امیدوں اور آدرشوں کے چراغ ابھی روشن ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ