سوڈان میں نقاب نہ کرنے والی خواتین کو کوڑے مارنے کی مہم

خواتین نے اس کے جواب میں مہم کا آغاز کیا ہے جن میں ’شیلی حجر‘ نامی مہم کافی مقبول ہوئی ہے۔

(اے ایف پی)

سوڈان میں ایک گمنام گروپ نے سوشل میڈیا پر چہرے کا نقاب نہ کرنے والی خواتین کو کوڑے مارنے کی حمایت پر مبنی مہم شروع کی ہے جس پر عوامی حلقوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق نقاب نہ کرنے والی خواتین کو کوڑے مارنے کی حمایت پر مبنی سوشل میڈیا مہم پر خواتین کی طرف سے خاص طور پر سخت رد عمل دیکھا جا رہا ہے۔

خواتین نے اس کے جواب میں مہم کا آغاز کیا ہے جن میں ’شیلی حجر‘ نامی مہم کافی مقبول ہوئی ہے۔

سوڈان کی معروف گلو کارہ ھدیٰ عربی نے کوڑے مارنے کی مہم چلانے والوں کو دھمکی دی کہ اس مہم کا مقابلہ کرنے والے مرد بھی موجود ہیں۔

انہوں نے مزاحمتی کمیٹیوں کے ارکان کو خبردار کیا کہ وہ خواتین کو کسی قسم کی ایذا پہنچانے سے باز رہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس مہم نے سنہ 2020 میں عبوری حکومت کی طرف سے سابقہ ’بدنام زمانہ قوانین‘ کی منسوخی سے قبل کی یاد تازہ کر دی ہے۔

یہ سیاہ قوانین مذہبی گروپوں کے حمایت یافتہ معزول صدر عمر البشیر کے دور میں بنائے گئے تھے۔ ان میں نقاب نہ کرنے والی لڑکیوں کو سرے عام کوڑے مارنے اور عدالتوں میں بھاری جرمانوں‌ کی سزائیں دی جاتی تھیں۔

سوڈان میں سول سوسائٹی کی کوششوں سے مذہبی انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کرنے کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں مگر اس کے باوجود سابق فرسودہ نظام اور عمر البشیر کی باقیات سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بشکریہ: العربیہ

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا