آندھیاں ہمیں پیغام دینے آئی تھیں

ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ دوبارہ جب بھی یہ ہوائیں ہمارے گھروں کا رخ کریں تو ان سے نقصان نہیں فائدہ ہو۔

(اے ایف پی)

صبح جاگ کر ٹیرس کا رخ کیا تو موسم کا کچھ الگ ہی رنگ تھا۔ سائیں سائیں کرتی تیز ہوائیں بالکونی سے ٹکرا رہیں تھیں۔ ٹیرس کے فرش پر مٹی ہی مٹی تھی جیسے ان ہواؤں نے پورے علاقے کی گرد سمیٹ کر میرے آنگن میں پھینک دی ہو۔

کچھ دیر میں وہیں کھڑے ہوئے موسم سے لطف اندوز ہوتی رہی پاس ہی گھر میں کچھ بچے کھیل رہے تھے جن کی کھلکھلاہٹ ماحول کو مزید تازگی بخش رہی تھی۔

سوچا تو یہ تھا کہ شام ڈھلنے تک یہ ہوائیں اپنا رخ بدل لیں گی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ان کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ اگلے دن جب مارگلہ کے پہاڑوں میں واک کر رہی تھی تو موسم قدرے صاف لگ رہا تھا، ماحولیاتی آلودگی کے سبب دھندلا جانے والا میرا پسندیدہ منظر اب خاصا صاف دکھائی دے رہا تھا۔ دل میں جیسے میں نے شکر ادا کیا کہ ان ہواؤں نے فضا میں معلق آلودگی کو کہیں دور اٹھا پھینکنا ہے۔

تیسرے دن جاگتے ہی جیسے میرے تمام خواب دھواں ہو گئے۔ جن ہواؤں کو میں قدرت کا تحفہ سمجھ رہی تھی وہ دراصل قدرت کو پہنچے ہوئے نقصان کا نتیجہ تھیں۔ سوشل میڈیا کا رخ کیا تو بہت سارے افراد ان ہواؤں کے باعث پیش آنے والے طبی مسائل کا ذکر کر رہے تھے۔ کچھ افراد نکسیر سے خون بہنے اور گلے کی خراش کا ذکر کر رہے تھے تو کچھ اس خون کی شدت میں اضافے سے ڈاکٹر کا رخ بھی کر چکے تھے اور باقی دوستوں کو احتیاطی تدابیر لینے پر آمادہ کر رہے تھے۔

اس ساری صورت حال میں غور طلب بات یہ تھی کہ کوئی ناک سے خون کی شکایت کر رہا تھا کوئی گلے میں درد کی شکایت کر رہا تھا کسی کو پھانس لگی تھی تو کسی کی جلد اور ہونٹ خشک ہو گئے تھے۔ لیکن کوئی بھی ماحول کو پہنچنے والے نقصان پر بات نہیں کر رہا تھا۔ کم سے کم میں نے تو اپنی ہوش میں اس طرح کی ہوائیں پہلے نہیں دیکھیں جنہوں نے پورے ملک کو اتنے دن تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا ہو۔ بعض جگہوں پر تو ہوا کی شدت سے لوگوں کے گھروں کی چھتیں تک اڑ گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2020  کے اوائل میں جب پورے ملک میں کرونا (کورونا) وبا کے باعث لاک ڈاؤن لگا ان دنوں میں لاہور کے ایک نجی چینل سے وابستہ تھی۔ بحیثیت صحافی ہمیں روز گھر سے نکلنا پڑتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب لاہور کو میں نے اس سے زیادہ صاف کبھی نہیں دیکھا، نیلے نیلے آسمان پر ایسے صاف شفاف بادل تو لاہوریوں کو ایک عرصے سے سموگ نے بھلا ہی دیے تھے۔ لیکن ان دنوں بھی سوشل میڈیا پر لوگوں کا رویہ گھر میں بند ہونے والے مسائل سے ہی جڑا تھا۔ دھواں چھوڑتی بے ہنگم گاڑیوں اور فیکڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے قدرت کو جو نقصان پہنچایا تھا اس پر کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ بلاشبہ قدرت خود کو واپس اپنی جگہ پر لا رہی تھی اور یہ سب دیکھنا ایک انتہائی حیران کن تجربہ تھا۔

آئے دن اس ملک میں درختوں کی بے جا کٹائی کر کے کہیں ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائی جا رہی ہیں تو کہیں ان درختوں سے پیسہ کمایا جا رہا ہے۔ پہاڑوں پر گلیشیئر تیزی سے پگھل کر دریاؤں میں گر رہے ہیں جن سے ان کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور میدانی علاقوں میں سیلاب آ رہے ہیں۔

لاہور مسلسل دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست ہے۔ بے موسمی بارش ہورہی ہے۔ جہاں سردی کا دورانیہ بڑھ رہا ہے تو وہیں گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ساری صورت حال کے باوجود ملک میں ماحولیاتی آلودگی پر بات کرنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

شاید یہ تحریر پڑھتے ہوئے آپ کے ذہین میں بھی ایک یا دو سے زائد افراد کے نام نہ آئیں۔

یہ سب اسی لیے ہے کہ ہم لوگوں میں شعور کی بے انتہا کمی ہے۔ پاکستان کہ تاریخ میں تحریک انصاف کی حکومت پہلی حکومت ہے جس نے ماحول پر بات کی ہے۔ عمل کتنا کیا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن کم سے کم بات تو کی۔ اس سبھی نتیجہ ہے شاید کہ جہاں تمام ممالک سالانہ ماحولیاتی کانفرنس کا حصہ ہیں وہیں ہمیں مدعو تک نہیں کیا گیا۔ اس پر بھی ستم ظریفی یہ کہ عوام کو کوئی فرق نہیں پڑا، ہم ’نہیں تو نہ سہی‘ کے پیروکار نکلے۔

خدارا، قدرت کے ان اشاروں کو سمجھیں ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ خود بھی شجر کاری کریں اور بچوں کو بھی ترغیب دیں۔ جگہ جگہ کوڑا پھینکنے سے گریز کریں۔ دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی ٹیوننگ کروائیں۔ باہر نکلیں تو گاڑی میں شاپنگ بیگ رکھیں اور کوڑا اس میں پھینکیں۔ پلاسٹک کا استعمال کم سے کم کریں۔ ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ دوبارہ جب بھی یہ ہوائیں ہمارے گھروں کا رخ کریں تو ان سے نقصان نہیں فائدہ ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ