کرونا ویکسین کا پیٹنٹ: ’بل گیٹس کو عالمی صحت کا سربراہ کس نے بنایا؟‘

دنیا کے متعدد رہنماؤں نے اپیل کی ہے کہ کرونا ویکسین کا پیٹنٹ دنیا بھر کے لیے کھول دیا جائے، مگر اس مہم کے سب سے بڑے مخالف بل گیٹس ہیں۔

بل گیٹس پر الزام ہے کہ وہ عوام کی بجائے کمپنیوں کے مفاد کومقدم رکھ رہے ہیں (اے ایف پی فائل)

مائیکروسافٹ کے بانی اور ارب پتی بل گیٹس اس وقت دنیا کے طاقتور ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں اور اپنے فلاحی کاموں کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ تاہم کرونا وائرس کی ویکسین کے پیٹنٹ ختم کرنے کی کوششوں کی مخالفت کے لیے ان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

کرونا وائرس کے خلاف دسیوں ویکیسنیں تیار کی گئی ہیں لیکن وہ اس وقت امیر ملکوں تک محدود ہیں، اور پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں کی آبادی کا بڑا حصہ ابھی تک ان سے محروم ہے۔

’بلوم برگ‘ کے ویکسین ٹریکر کے مطابق اس وقت دنیا میں ویکسین کی ایک ارب 40 لاکھ خوراکیں دی جا چکی ہیں، لیکن اس کا 85 فیصد صرف سات ملکوں یعنی امریکہ، چین، بھارت، یورپی یونین، برطانیہ اور برازیل کو ملا ہے، جب کہ دنیا کے بقیہ ڈیڑھ سو ملکوں کے حصے میں صرف 15 فیصد ویکسین آئی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار ملک یا تو خود ویکسین بنا رہے ہیں یا پھر انہوں نے بھاری رقوم دے کر دستیاب ویکسین کا بڑا حصہ اپنے شہریوں کے لیے خرید لیا ہے، جب کہ غریب ملک اب انتظار کر رہے ہیں کہ کب یہ ملک اپنی آبادی کو ویکسین لگا دیں تو ان کی باری آئے۔

اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے بعد متعدد ماہرین نے تجویز پیش کی تھی کہ ویکسین کا پیٹنٹ عارضی طور پر ختم کر دیا جائے تاکہ ہر کوئی اسے تیار کر سکے۔ گذشتہ ہفتے دنیا کے متعدد سربراہوں نے امریکی صدر بائیڈن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ کرونا وائرس کی ویکسین کے پیٹنٹ کے قوانین ختم کر دیے جائیں تاکہ کم آمدنی والے ملکوں کو فائدہ ہو۔ اس خط پر مختلف ملکوں کے حاضر و سابق 51 صدور، 29 وزرائے اعظم، اور ملالہ یوسف زئی سمیت 99 نوبیل انعام یافتگان کے دستخط ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن اس مہم کے سب سے بڑے مخالف بل گیٹس ہیں۔ انہوں نے گذشتہ روز ’سکائی نیوز‘ چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کے پیٹنٹ کو ختم کرنا اس لیے مناسب نہیں کہ ’دنیا میں ویکسین کی بہت کم فیکٹریاں ہیں اور لوگ ویکسین کی سیفٹی کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔‘

اسی انٹرویو میں انہوں نے آگے چل کر کہا، ’یہ انٹیلیکچوئل پراپرٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ویکسین کی کوئی فیکٹری فارغ پڑی ہوئی ہے، جو منظوری کے بعد فوراً محفوظ ویکسین بنانا شروع کر دے۔‘

بل گیٹس کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر پیٹنٹ کھول بھی دیا جائے تو دنیا کے غریب ملکوں کے پاس وہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ویکسین بنا سکیں، اس لیے پیٹنٹ کھولنے کا فائدہ نہیں ہے۔ یہ انٹرویو نیچے دیکھا جا سکتا ہے۔

جہاں تک فیکٹریوں کے فارغ نہ ہونے کی بات ہے تو اس کا جواب برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کی ایک رپورٹ میں مل جاتا ہے، جس میں کینیڈا کی ایک دوا ساز کمپنی بائیولائز کے نائب صدر جان فلٹن نے بتایا: ’ہمیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ہمارے پاس صنعتی صلاحیت موجود ہے اور اسے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ اگر ہم پچھلے سال سے یہ کام شروع کرتے تو اب تک کروڑوں خوراکیں بنا چکے ہوتے۔ یہ کام جنگی بنیادوں پر ہونا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔‘

اسی طرح برازیل، کیوبا، بھارت اور کئی دوسرے مغربی ممالک میں متعدد ایسے ادارے موجود ہیں جن کے پاس ویکسین تیار کرنے کا وسیع تجربہ ہے، لیکن پیٹنٹ ختم ہونے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی تک وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

ملٹی نیشنل فارما کمپنیاں اس لیے پیٹنٹ کھولنے کے خلاف ہیں کہ ان کا کہنا ہے وہ تحقیق و تجربات پر کروڑوں ڈالر خرچ کرتی ہیں اور اگر ان کی ایجادات پر پیٹنٹ کھول دیا جائے تو ان کمپنیوں کی مستقبل میں مزید تحقیق کی صلاحیت متاثر ہو گی۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے بھی کرونا ویکسین تیار کی ہے۔ انہوں نے پچھلے سال کہا تھا کہ وہ دنیا بھر میں کسی بھی کمپنی کو ویکسین تیار کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے بھارت کے سیرم انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ معاہدہ بھی کر لیا تھا جو دنیا میں ویکسین تیار کرنے کی سب سے بڑی فیکٹری ہے۔ تاہم بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے تجویز دی کہ ایسا نہ کیا جائے۔

ملینڈا گیٹس نے امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو بتایا کہ ’آکسفورڈ کے پاس ویکسین تیار کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے، لیکن انہوں نے کبھی کوئی ویکسین مارکیٹ نہیں کی، اس لیے ہم نے انہیں کہا کہ وہ (ملٹی نیشنل فارما کمپنی) ایسٹرا زینیکا کے ساتھ شراکت کریں جس کے پاس ویکسین مارکیٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہم نے انہیں کہا کہ ایسا ہونا چاہیے۔ البتہ حتمی فیصلہ آکسفورڈ کا تھا۔‘ 

فارما انڈسٹری اور صحت کے پروگراموں پر نظر رکھنے والی امریکی تنظیم نالج ایکالوجی انٹرنیشنل کے بانی جیمز لو نے اخبار ’نیو رپبلک‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’حالات دونوں طرف جا سکتے تھے۔ لیکن گیٹس چاہتے تھے کہ بلاشرکتِ غیرے حقوق برقرار رکھے جائیں۔ انہوں نے تیزی سے عمل کرتے ہوئے ڈیٹا، معلومات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو روک دیا۔‘

یہی وجہ ہے کہ بل گیٹس اور ان کی فاؤنڈیشن کے اس موقف پر سخت تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

سوشال میڈیا صارف ڈاکٹر ٹیرا وان ہو نے ٹوئٹر پر لکھا، ’گیٹس یوں بات کرتے ہیں جیسے بھارت میں ہونے والی ہلاکتیں ناگزیر تھیں لیکن مغرب بالآخر مدد کرے گا، جب کہ حقیقت میں امریکہ اور برطانیہ پیٹنٹ ختم کرنے سے انکار کر کے ترقی پذیر ملکوں کی گردن پر پاؤں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ گھناؤنی حرکت ہے۔‘

گلوبل جسٹس ناؤ نامی ادارہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ویکسین کا پیٹنٹ کھول دے۔ اس ادارے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نک ڈیرڈن نے ٹوئٹر پر لکھا: ’اس ارب پتی کو کس نے عالمی صحت کا سربراہ بنایا ہے؟ اچھا، اسے نے خود۔‘

وائرس نے ویکسین کا توڑ کر لیا تو؟

بل گیٹس نے اسی انٹرویو میں مزید کہا کہ امیر ملکوں کی جانب سے پہلے اپنی آبادی کو ویکسین لگانے کا فیصلہ ’بالکل بھی حیران کن نہیں ہے۔‘

انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ امیر ملکوں کو وائرس نے زیادہ متاثر کیا تھا۔ ’یہ بات منصفانہ نہیں ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں ہم 30 سال والوں کو ویکسین لگا رہے ہیں مگر برازیل اور جنوبی افریقہ میں 60 سال والوں کے لیے ویکسین نہیں ہے۔ لیکن تین چار مہینوں کے اندر اندر ویکسین ایسے تمام ملکوں تک پہنچ جائے گی جہاں وبا انتہائی شدید ہے۔‘

تاہم تاخیر کے تباہ کن اثرات برآمد ہو سکتے ہیں۔ وائرس میں تیزی سے جینیاتی تبدیلیاں (mutations) آتی جا رہی ہیں، جتنی دیر تک وائرس لوگوں کو متاثر کرتا رہے گا، اس میں اتنی ہی زیادہ تبدیلیاں آتی رہیں گی۔ اگر وائرس کو ویسے ہی پھیلنے دیا تو عین ممکن ہے کہ اس کی ایسی شکل سامنے آ جائے جس پر ہر طرح کی ویکسین بےکار ہو۔ ہم دوسرے جراثیم کے معاملے میں پہلے ہی یہ دیکھ چکے ہیں۔

اس لیے ساری دنیا کو ایک ساتھ مل کر وائرس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، ’پہلے ہم بعد میں آپ‘ والی پالیسی سب کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت