آسٹریلیا میں چوہوں کی چوہدراہٹ سے کسان پریشان

ڈگ اوکانر ان ہزاروں کسانوں میں سے ایک ہیں جو چوہوں کے حملوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

ڈگ اوکانر ان ہزاروں کسانوں میں سے ایک ہیں جو چوہوں کے حملوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز میں اپنے 15 ہزار ایکڑ پر پھیلے خاندانی فارم کی دیکھ بھال کرنے والے 57 سالہ اوکانر کو مستقبل کے بارے میں تشویش ہے۔

 ایک انٹرویو میں اوکانر کا کہنا تھا کہ ’قحط میں تو جیسے آپ پانی کے نیچے دب جاتے ہیں۔ پھر گھاس بھیڑ اور اچھی فصل کے باعث کچھ سہارا ملتا ہے، مگر  ان چوہوں کی وجہ سے ہم پھر سے دب چکے ہیں اور سانس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

چوہوں کی وجہ سے اب تک اوکانر کا 75 ہزار  آسٹریلیوی ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔

ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ابھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ مجھے نہیں معلوم آگے کیا ہو گا؟

آسٹریلیا میں حالیہ تیز بارشوں کی وجہ سے 50 سالہ قحط کا زور ٹوٹ گیا ہے۔ جہاں ایک طرف اس سے فصلوں اور جانوروں کے لیے غلّے کی پیداوار میں اضافہ ہوا مگر وہیں نمدار موسم کی وجہ سے چوہوں کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

اس کی وجہ سے پورا علاقہ گذشتہ کئی ماہ سے چوہوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بڑھتے ہوئے تقصان کی وجہ سے حکومت سے اپیل کی جا رہی ہے کہ چوہوں سے نمٹنےکے لیے ایک مخصوص زہر کے استعمال کی اجازت دی جائے جو فی الوقت ممنوع ہے۔

مگر کچھ کسان اور ماحول دوست افراد کی جانب سے چوہوں کے خلاف ممنوعہ زہر کے استعمال سے خبردار  بھی کیا گیا ہے۔

ایسے افراد کا کہنا ہے کہ یہ ممنوعہ زہر چوہوں کے ساتھ ساتھ زرخیز زمین اور دیگر جانوروں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق چوہوں کا ایک جوڑا 500 بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وہی چوہے ہیں جو پہلی مرتبہ یورپی آبادکاروں کے بحری جہازوں میں سوار ہو کر آسٹریلیا آئے تھے اور اب انہیں یہاں کا سخت موسم بھی راس آ چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا