سپاٹ فکسنگ سکینڈل: ’خبر میں نے نہیں دوست نے لیک کی‘

سپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑی آج تک مجھ پر شک کرتے ہیں کہ میں نے ہی معاملہ پریس میں لیک کیا: آفریدی۔

اے ایف پی فوٹو

سابق سٹار آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ اوپنر سلمان بٹ کی انگلینڈ میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی خبر انہوں نے نہیں بلکہ ایک دوست نے ’نیوز آف دی ورلڈ‘ کو لیک کی تھی۔

آفریدی نے بدھ کو جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں اپنی نئی کتاب ’گیم چینجر‘ میں درج سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے حوالے سے بتایا کہ انہیں کافی عرصہ پہلے سکینڈل کے بارے میں سُن گُن ہو گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا: سپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑی آج تک مجھ پر شک کرتے ہیں کہ میں نے ہی معاملہ پریس میں لیک کیا اور میری وجہ سے ان کا کرکٹ کیریئر داؤ پر لگا۔

تاہم، آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے میڈیا میں خبر لیک کی ہوتی تو وہ بلا جھجک کتاب میں تسلیم کر لیتے۔

آفریدی کے مطابق، ان کے ایک دوست نے ’نیوز آف دی ورلڈ‘ کو خبر لیک کی کیونکہ وہ ان دنوں حالات سے مکمل آگاہ تھے۔

بوم بوم آفریدی کے مطابق، انہیں بالکل نہیں پتا تھا کہ دوست نے میڈیا کومعاملہ لیک کر دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: دراصل میچ فکسر مظہر مجید نے اپنا خراب موبائل فون ٹھیک ہونے کے لیے لندن کی ایک دکان پر دیا، جہاں پر دکان مالک نے موبائل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو سپاٹ فکسنگ کے لیے بھیجے گئے  پیغامات اپنے ایک دوست سے شیئر کر دیے ،جو بعد میں مجھ تک پہنچے.

انہوں نے بتایا کہ پیغامات میں کھلاڑیوں کو بتایا گیا تھا کہ میچ کے دوران کس وقت پر کیا کرنا ہے۔

آفریدی کے مطابق، عبدالرزاق انہیں ٹیم میں کچھ کھلاڑیوں پر اپنے شک بتاتے رہتے تھے لیکن اُس وقت انہوں نے معاملے کوسنجیدگی سے نہیں لیا۔

آفریدی کے مطابق، انہوں نے وقار یونس اور مینیجر یاور سعید کو مظہر مجید کے پیغامات دکھاتے ہوئے درخواست کی تھی کہ کھلاڑیوں کو سپاٹ فکسرز سے دور رکھیں ، تاہم ٹیم انتظامیہ نے کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ یاور سعید نے اس حوالے سے بے بسی کا اظہار کیا۔

آفریدی نے مزید بتایا کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میڈیا پر آنے کے بعد سلمان بٹ مسلسل انکاری رہے جبکہ محمد عامر نے ان کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی۔

آفریدی کے مطابق، سپاٹ فکسنگ سامنے آنے سے قبل ہی لندن میں پاکستانی برادری میں سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے چہ ما گوئیاں جاری تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ