جب کشور کمار کا نام سن کر نازیہ حسن کے ہاتھ پاؤں پھول گئے

نازیہ حسن سوچ میں پڑ گئیں کہ جس کشور کمار کے گیت سن کر وہ بڑی ہوئی ہیں، ان کے ساتھ دوگانا کیسے ریکارڈ کروا پائیں گی۔

 کشور کمار اور نازیہ حسن 1986 میں بپی لہری کے  گیت کی ریکارڈنگ کے موقعے پر (زوہیب حسن فیس بک پیج) 

گلوکارہ نازیہ حسن کا گانا ’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘ جب 1980میں ریلیز ہونے والی فلم بالی وڈ ’قربانی‘ میں شامل کیا گیا تو ابتدا میں فلم ساز اور ہدایت کار فیروز خان کو بھی اس بات کی امید نہیں تھی کہ یہ اکلوتا گانا ان کی فلم کو کہاں سے کہاں پہنچادے گا۔

اسی طرح نازیہ حسن نے بھی تصور نہیں کیا ہوگا کہ وہ اس قدر شہرت اور مقبولیت کی راہ کی مسافر بنیں گی۔

اس کے بعد بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کر انہوں نے مدھر، رسیلے اور تھرکتے ہوئے گانوں کا گلدستہ پیش کرنا شروع کیا۔

 نازیہ حسن کے لیے یہ اعزاز بھی کم نہیں تھا کہ وہ پہلی پاکستانی گلوکارہ تھیں جنہیں ’قربانی‘ کے گانے پر بھارت کا گراں قدر فلم فیئر ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا جو انہوں نے راج کپور کے ہاتھوں سے قبول کیا۔

نازیہ اور زوہیب کے گانوں میں جہاں ان دونوں کی موسیقی سروں میں ڈوبی رہی وہیں ان کی کامیابی میں بھارتی نژاد برطانوی موسیقار بدو کی دھنوں نے انہیں اور بے مثال بنا دیا۔

نازیہ حسن کی ’قربانی‘ کے لگ بھگ دو سال بعد بدو کی کہانی اور موسیقی میں جب کمار گورو اور رتی اگنی ہوتری ’سٹار‘ بنائی گئی تو اس فلم میں نازیہ زوہیب کے ریلیز ہونے والے البم ’بوم‘ کے بیشتر گانے بھی شامل کیے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نازیہ حسن ایک مرتبہ پھر بہترین گلوکارہ کے لیے فلم فیئر ایوارڈز میں نامزد ہوئیں لیکن اس مرتبہ ایوارڈ ان کو نہ مل سکا۔

گلوکارہ نازیہ اور زوہیب نے ’سٹار‘ کی زبردست کامیابی کے بعد اگلے دو تین برسوں کے دوران بھارت بھر کا تفریحی دورہ کیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات موسیقار بپی لہری سے ہوئی جنہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ان کے ساتھ کچھ گیت ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں، جو بعد میں کسی نہ کسی فلم کا حصہ بن سکتے ہیں۔

نازیہ اور زوہیب موسیقار بپی لہری کے کام کے مداح تھے، جن کے 80کی دہائی میں کئی گیت مقبول ہوئے تھے۔ اسی بنا پر انکار کی گنجائش نہیں تھی۔ دوسری جانب کہا جاتا ہے کہ بھائی بہن کی اس جوڑی نے موسیقار بدو کی موسیقی سے ہٹ کر کچھ نئے تجربات کرنے کا بھی ارادہ کیا۔ ادھر بپی لہری کو یقین تھا کہ وہ نازیہ اور زوہیب کی شہرت اور مقبولیت کو ’کیش‘ کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یوں گیتوں کی ریکارڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

یہ موسیقار بپی لہری کی خوش قسمتی ہے کہ 1986میں ریلیز ہونے والی ’دل والا‘ میں جب انہیں بطور موسیقار منتخب کیا گیا، تو انہوں نے اس تخلیق میں نازیہ اور زوہیب کی آواز میں ریکارڈ ’ٹو نائٹ پیار کرو‘ شامل کرایا جو فلم میں متھن چکرورتی اور ساریکھا پر فلمایا گیا۔ گانے کی تشہیر نازیہ اور زوہیب حسن کو نمایاں رکھ کر کی گئی۔ بدقسمتی سے فلم تو سپر ہٹ ثابت ہوئی لیکن نازیہ اور زوہیب کے اس گانے کی دھوم نہ مچ سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی برس موسیقار بپی لہری کو فلم ’الزام‘ بھی ملی، جس کے ذریعے گووندا نے فلم نگری میں قدم رکھا۔ بپی لہری نے پھر نازیہ زوہیب کے گانوں کی پٹاری سے ایک گیت ’میں آیا ترے لیے‘ فلم میں شامل کرا لیا، جو گووندا اور انیتا راج پر عکس بند کیا گیا۔ یہ گیت بہرحال روایتی بپی لہری انداز کا تھا، جبھی پسند کیا گیا لیکن فلم کے دیگر بہترین گانوں کی موجودگی میں دب سا گیا۔

گلوکارہ نازیہ حسن کی 1986 میں ہی ایک اور پس پردہ گلوکاری سے سجی متھن چکرورتی اور میناکشی ششادری کی فلم ’میں بلوان‘ تھی، جس کے موسیقار بپی لہری ہی تھے۔ فلم کی خاص بات یہ رہی کہ نازیہ حسن نے پہلی بار کشور کمار کے ساتھ ’ ہلا گلا کریں ہم ‘ اور ’راک اینڈ رول‘ جیسے گیت گنگنائے۔

کہا جاتا ہے کہ موسیقار بپی لہری نے جب نازیہ حسن کو بتایا کہ وہ برصغیر کے مہان گلوکار کشور کمار کے ساتھ گانے ریکارڈ کرنے والے ہیں تو یہ سن کر وہ ہڑبڑاہٹ کا شکار ہو گئیں۔ نازیہ حسن اس تذبذب کا شکار تھیں کہ کشور کمار جن کے گانے سن سن کر وہ بڑی ہوئی تھیں، جنہوں نے لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے جیسی گلوکارہ کے ساتھ نغمہ سرائی کی ہے، ان کے ساتھ گلوکاری کرتے ہوئے وہ اپنی آواز کا استعمال کرکے انصاف کر پائیں گی۔

 ادھر کشور کمار کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کی ساتھی گلوکارہ کوئی اور نہیں نازیہ حسن ہیں، تو وہ سٹوڈیو میں وقت سے پہلے ہی پہنچ گئے۔ کشور کمار نے ریکارڈنگ سے پہلے نہ صرف ’قربانی‘ کے نازیہ کے گانے کی تعریف کی بلکہ ان کے ریلیز ہونے والے غیر فلمی پاپ گیتوں کی بھی۔ کشور کمار کا کہنا تھا کہ نازیہ اس قدر کم عمری میں اتنی خوبصورت اور مدھر آواز کی مالک ہیں، جو واقعی حیران کن ہے۔

کشور کمار کی اس تعریف نے جیسے نازیہ حسن میں ایک نئی توانائی، خود اعتمادی اور حوصلہ بھر دیا، نازیہ حسن نے دل لگا کر گانوں کی ریہرسل کی، جہاں کوئی کمی رہتی، کشور کمار، نازیہ حسن کی بھرپور رہنمائی کرتے رہے اور جب ریکارڈنگ کا آغاز ہوا تو نازیہ حسن کی خود اعتمادی عروج پر تھی۔

انہوں نے اس بات کو ذہن سے نکال کر گلوکاری کی کہ ان کے ساتھ بھارتی فلموں کے لیجنڈری گلوکاری کشور کمار گا رہے ہیں۔ بالخصوص ’ہلا گلا کریں ہم‘ میں نازیہ حسن نے کشور کمار کا بھرپور ساتھ دیا کیونکہ اس گانے میں شوخی اور مستی درکار تھی اور اسی لیے نازیہ حسن نے کشور کمار کی لے کے مطابق ہی اپنی گلوکاری کو ڈھالا۔ یہ گیت پسند تو کیا گیا لیکن ایسا نہیں کہ ہر جانب اس کی دھوم ہوتی۔ اس کے برعکس فلم کا دوسرا گانا تو بری طرح ناکامی کا شکار ہوا۔

اگلے برس ہی نازیہ حسن کے گیت ’تکتا منی مانا‘ کو فلم ’شیلا‘ میں شامل کیا گیا اور موسیقار کوئی اور نہیں بپی لہری تھے جنہوں نے نازیہ حسن کے ساتھ گلوکاری کا اپنا شوق پورا کرتے ہوئے اس گانے میں ان کا ساتھ دیا لیکن ایک بار پھر یہ گیت بھی کامیابی کی سیڑھی نہ چڑھ سکا۔

1989 میں بپی لہری نے ’سایہ‘ میں زوہیب اور نازیہ کی آواز میں گیت ’آپ کا شکریہ‘ شامل کرایا۔ پونم ڈھلون اور شتروگھن سنہا پر عکس بند یہ گیت بھی اپنا تاثر چھوڑنے میں بری طرح ناکام ہی رہا۔

موسیقار بپی لہری کے ان گانوں کی ناکامی سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ نازیہ اور زوہیب کی آواز کو جس طرح بہترین انداز میں موسیقار بدو پیش کرسکتے ہیں، کوئی اور موسیقار اس کامیابی سے کوسوں دور ہے۔ بپی لہری کو اس لیے بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کہ انہوں نے تصور کیا تھا کہ پاپ آئی کون نازیہ حسن کے ’قربانی‘ کے گیت کی شہرت انہیں بھی فائدہ دے جائے گی لیکن نازیہ کی آواز کے لیے وہ درحقیقت وہ دھنیں ترتیب دینے میں ناکام رہے، جو موسیقار بدو نے بنائی تھیں۔

نازیہ حسن کے یہ فلمی گیت تو لبوں کی زینت کم بنے لیکن اس دوران نازیہ حسن کے آنے والے البم ’ینگ ترنگ،‘ ’ہاٹ لائن‘ اور ’کیمرا کیمرا‘ نے دنیا بھر میں دھوم مچائی۔

بپی لہری نہ تو آر ڈی برمن اور خیام کی طرح تخلیقی صلاحیت سے مالامال تھے، نہ رویندر جین کی طرح رسیلے تھے، لیکن 70 اور 80 کی دہائی میں ان کے بنائے گئے ایک خاص طرز کے ڈسکو گیتوں نے خاصی شہرت حاصل کی تھی۔

اسی بنا پر امید تھی کہ وہ نازیہ حسن کی آواز کا عمدہ استعمال کر پائیں گے، مگر بدقسمتی سے وہ نازیہ حسن کی آواز تازگی اور نغمگی کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے مناسب دھنیں نہیں بنا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی