جب نازیہ حسن کے ٹی وی شو پر اعتراضات کا طوفان برپا ہو گیا

پاکستانی پاپ لیجنڈ نازیہ حسن کی 20 ویں برسی کے حوالے سے اس خصوصی تحریر میں جانیے کہ 1989 میں ’میوزک 89‘ نامی شو میں نازیہ اور ان کے بھائی زوہیب حسن کی شرکت کے بعد ملک میں مظاہرے کیوں شروع ہوگئے۔

’میوزک 89‘ نامی شو میں نازیہ اور  زوہیب حسن (تصویر: پی ٹی وی)

یہ جنوری 1989 کا ذکر ہے۔ ملک میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت اور نئے سال کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ اکلوتے ٹی وی چینل پر کوئی ہفتے بھر پہلے ’میوزک 89‘ کے پرومو نشر ہونا شروع ہو گئے جن میں پاپ آئی کون نازیہ حسن اور ان کے بھائی زوہیب حسن کو نمایاں کیا گیا۔

یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں نوجوان لیکن باصلاحیت گلوکار ابھر کر سامنے آ رہے تھے اور موسیقی میں جدت آ رہی تھی۔ نازیہ اور زوہیب کے بعد وائٹل سائنز ’دل دل پاکستان‘ گا کر دل جیت چکے تھے۔ نت نئے رحجان نے تو جیسے پاپ موسیقی میں ان گنت رنگ بھر دیے تھے۔ اس تناظر میں ہر کوئی 23 جنوری کا بے چینی اور بے قراری سے انتظار کرنے لگا جب پاپ میوزک کا یہ شو ٹی وی کی زینت بنتا۔

اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس پروگرام کے پروڈیوسر کے طور پرشعیب منصور کا نام آ رہا ہو تو وہ کس قدر تخلیقی اور غیر معمولی ہو گا۔ انتظار کی گھڑیاں بڑھتی جا رہی تھیں اور خاص کر نازیہ اور زوہیب کے پرستاروں کا تجسس تو اپنے پورے عروج پر تھا۔ اور جناب آخر کار وہ دن بھی آ ہی گیا جب ’میوزک 89‘ کی رونمائی ہو ہی گئی۔

کہا گیا کہ یہ پاکستان کا پہلا پاپ سٹیج شو ہے۔ جنوری کی قلفی جماتی سردی میں نوجوان گلوکاروں نے اپنے پھڑکتے ہوئے گانوں سے خوب لہو گرمایا۔ نازیہ حسن اور زوہیب حسن اس سٹیج شو کے میزبان تھے جنہوں نے جہاں اپنے سدا بہار گیت گنگنائے وہیں کچھ نئے گانوں نے بھی محفل میں جیسے اور جان ڈال دی۔

نازیہ کے اس شو کی خاص بات یہ بھی رہی کہ اس میں پاپ گیت ہی نہیں بلکہ علاقائی رنگوں سے سجے گیتوں کی سوغات بھی ملی۔ انگل سرگم بیچ بیچ میں اپنی شگفتہ اور پرمزاح گفتگو سے مہمانوں کے چہرے کھکھلاتے رہے۔

شو میں اُس وقت کے سکواش کے عالمی فاتح جہانگیر خان کی انٹری ہوئی تو نوجوان پرستاروں نے ان کا ولولہ انگیز استقبال کیا۔ اسی شو کے ذریعے ’جوپیٹر‘ گروپ نے بھی اپنا مشہور گیت ’یارو یہی دوستی ہے‘ سنایا جسے علی عظمت نے اپنے مخصوص انداز میں گنگنا کر مہمانوں میں جیسے نیا کرنٹ چھوڑ دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی نہیں جناب یہ وہ دور تھا جب  جنون  کے سلمان احمد، وائٹل سائنز کے پلیٹ فارم سے مدھر اور رسیلی دھنیں گٹار پر چھیڑتے۔ اس ٹی وی شو میں فردوس رانجن کا گایا ہوا نغمہ ’گیت چھیڑو ایسا‘ تو خاصا مشہور ہوا۔ اسی طرح میڈو نائٹس کا ’بہاروں کی یہ شام‘ بھلا کون ذہن سے نکال سکتا ہے۔ پھر گیلاشی گلوکار علی امان گجالی نے بھی علاقائی گیت گا کر دھوم مچا دی۔

یہ تو تھے اس مشہور لیکن بعد میں متنازع بننے والے ٹی وی پروگرام کے گلوکار۔ اب نازیہ حسن کا یہ شو اس قدر تنازعات کی زد میں کیوں آیا؟ تو یہ کہانی خاصی دلچسپ ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے آتے ہی جہاں ہر شعبے میں تبدیلیاں آئیں، وہیں پی ٹی وی، دوپٹے کی قید اور غیر ضروری بندشوں سے بھی آزاد ہوا جس کے بعد ڈرامے کی ہیروئن سوتے وقت دوپٹہ لے کر نہیں سوتی تھی، بلکہ جہاں ضرورت ہوتی وہاں اس کا استعمال کرتی۔

سرکاری ٹی وی کا چیئرمین اسلم اظہر کو بنایا گیا۔ وہی اسلم اظہر جو پی ٹی وی کے بانیان میں سے ایک ہیں۔ اسلم اظہر جنہوں نے ٹی وی کو وڈیروں، چوہدریوں اور زمینداروں پر مبنی ڈراموں سے بھی نجات دلائی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی وی نے آزاد اور روشن خیالی کی جانب قدم بڑھانا شروع کر دیے۔ اب ایسے میں ’میوزک 89‘ پاپ میوزک میں تازہ ہوا کا جھونکا بن کر آیا جس میں جہاں سٹیج پر نوجوان گلوکار پرفارم کررہے تھے تو وہیں مہمان بھی کوئی ’غزل سننے والوں کی عمر‘ کے تو تھے نہیں جو سر جھکا کر بس واہ واہ کرتے رہتے۔ بلکہ وہ بھی انہی گلوکاروں کے ہم عمر تھے۔ جن کی نشست کے لیے صنفی امتیاز کی کوئی حد بندی نہیں کی گئی۔

بلکہ اس مشترکہ محفل میں جس کی جہاں مرضی ہوئی وہ کسی کے ساتھ بھی بیٹھ گیا۔ کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ برابر والا مرد ہے یا خاتون۔ یہی نہیں، جب کسی گانے اور گلوکار میں جوش بھرنا مقصود ہوا تو تین چار نوجوانوں نے ہاتھ فضا میں اٹھا کر ادھر ادھر ہلائے بھی۔

صنف نازک نے تو بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا۔ گلوکاروں کے ساتھ یہ مہمان بھی خوب تھرکے یعنی اس مخلوط پاپ سٹیج شو کا ہر کسی نے خوب لطف اٹھایا اور اسی بات پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ دینی جماعتوں نے ’اسلام خطرے میں ہے‘ کا نعرہ لگا کر سڑکوں پر ہی نہیں ٹیلی ویژن کے مرکزی اور ذیلی دفاتر کے سامنے بھی خوب مظاہرے کیے۔

الزام لگایا گیا کہ نازیہ حسن اور زوہیب حسن نے اسلامی شعار اور پاکستانی تہذیب کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ کچھ کو تو اس بات کا بھی غم تھا کہ بہن بھائی ہوتے ہوئے عشقیہ اور رومانی گانے بھلا کیوں گائے۔ نازیہ اور زوہیب پر اعتراض کرنے والے یہ فراموش کر بیٹھے کہ یہی گانے وہ اس سے پہلے بھی گا چکے تھے جب کوئی طوفان برپا نہیں کیا گیا تھا۔ غصہ تو اس بات پر بھی ہوا یہ دونوں ہی نہیں دوسرے گلوکار کیوں جھومتے ناچتے رہے۔ نوجوان مہمانوں پر غیرشائستہ حرکات کا بھی الزام لگا دیا گیا۔

اعتراض کرنے والوں نے تو اس مخلوط محفل کوبھی کسی صورت قبول نہیں کا پیغام دے دیا۔ مغربی ثقافت کی یلغار قرار دیتے ہوئے بے نظیر حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جس کی صفائی دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے وزرا نظر آئے۔ حزب اختلاف میں نو جماعتوں پر مبنی اسلامی جمہوری اتحاد تھا جس کے قائد حزب اختلاف مرحوم غلام مصطفی جتوئی تھے۔ آئی جی آئی کے ارکان نے ایوان بالا اور زیریں تک میں اس پروگرام پر گرما گرم تقریروں کی بھرمار کر دی۔

ہدف تنقید پر صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں نازیہ اورزوہیب بھی رہے۔ دونوں پر ایسی گولہ باری ہوئی اور بیانات کی جنگ چھڑی کہ کچھ عرصے کے لیے نازیہ اور زوہیب پیش منظر سے پس منظر میں چلے گئے۔ دلچسپ صورت حال تو اُس وقت ہوئی جب اسی پروگرام کو فحاشی اور ہیجان خیزی کے ذمرے میں لاتے ہوئے ایک وکیل نے راولپنڈی کے اسٹنٹ کمشنر تک کا در کھٹکھٹا دیا۔

ان کا موقف تھا کہ متعلقہ پروگرام میں قابل اعتراض حرکات کے ساتھ ساتھ نازیبا گانے گنگنائے گئے۔ جن سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ وکیل صاحب نے اپنی درخواست میں پروگرام کے پروڈیوسر شعیب منصور، پی ٹی وی کے چیئرمین اسلم اظہر اور نازیہ اور زوہیب حسن کو فریق بنایا تھا۔ گو کہ ان کی درخواست خارج کر دی گئی، لیکن یہاں یہ بتاتے چلیں کہ یہ وکیل کوئی اور نہیں بابر اعوان تھے۔ وہی بابر اعوان جو پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت میں وفاقی وزیر بنے اور ان دنوں تحریک انصاف میں کچھ ایسی ہی ذمے داری نبھا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی