’آج بھی ڈیرہ بگٹی جانے کی وجہ بتانا ضروری ہے‘

نواب اکبر بگٹی کی 15ویں برسی کے موقعے پر بھی ڈیرہ بگٹی میں داخل ہونے پر پہلا سوال یہی کیا جاتا ہے کہ کہاں جا رہے اور کس کام سے جا رہے ہو؟  

اکبر بگٹی مئی 2006 میں اپنے قبیلے کے افراد کے ہمراہ پہاڑوں میں (اےایف پی)

 ایک کھنڈر نما عمارت جس کی چھت اور دیواریں بعض جگہوں سے ٹوٹ چکی ہیں۔ اس کی بناوٹ اور طرز تعمیر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اپنے دور میں ایک شاندار عمارت رہی ہو گی اور یہاں کے مکین بھی ایسے ہی ہوں گے۔  
البتہ دیواروں پر پڑی دراڑیں اس وجہ  سے نہیں بنی ہیں کہ یہاں کوئی قدرتی آفت یا زلزلہ آیا تھا، بلکہ اس کی ابتدا 2005 میں قلعے پر بمباری سے ہوئی اور بعد میں جب نواب اکبر بگٹی اس کو چھوڑ کر پہاڑوں پر چلے گئے تو اس کو تباہ کر دیا گیا۔   
نواب اکبر بگٹی جو بلوچستان کے ایک کہنہ مشق بزرگ سیاستدان اور بلوچ روایات پر سختی سے کاربند رہنے والے بگٹی قبیلے کے نواب تھے۔ ان کی 15ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ انہیں 2006 کو تراتانی کے پہاڑوں میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مارا گیا تھا۔  
نواب اکبر بگٹی کے جانے کے بعد بگٹی قبیلے نے کیا کھویا اور اس وقت بھی وہ کیا محسوس کرتے ہیں۔ اس حوالے سے جب ہم نے ایک بگٹی قبیلے کے نوجوان سے شہزاد بخت سے پوچھا توان کا کہنا تھا کہ قبیلہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے ان کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا ہے۔  
شہزاد بخت نے ’انڈپینڈنٹ اردو‘ کو بتایا کہ جب نواب اکبر بگٹی کی آپریشن میں مارے گئے تو بگٹی قبیلے ایک بڑے صدمے کی کیفیت میں تھے۔ جو کئی سالوں تک طاری رہا۔   
انہوں نے بتایا کہ بگٹی قبیلے نے محسوس کیا کہ ان کا قیمتی اثاثہ ان سے چھن گیا ہے اور وہ بے یار و مددگار ہو گئے ہیں۔   


شہزاد کے بقول: ان کا خلا تو شاید پر کرنا کسی طرح ممکن نہیں لیکن کچھ حد تک اس کمی کو نواب بگٹی کے نواسوں نوابزادہ گہرام بگٹی اور نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے کسی حد تک پورا کر دیا ہے۔   
انہوں نے کہا کہ جب 2006 میں نواب اکبر بگٹی مارے گئے تو اس کے بعد ڈیرہ بگٹی میں کا ان کا قلعہ بھی خالی ہو گیا کیوں کہ بمباری سے اس کی حالت انتہائی خراب ہو گئی تھی۔ 2013 میں نوابزادہ گہرام بگٹی یہاں آئے۔  
شہزاد نے بتایا کہ نوابزادہ گہرام بگٹی کی آمد کے بعد انہوں نے نہ صرف قلعے میں رہائش اختیار کی بلکہ انہوں نے سابقہ دور کے بعد سلسلوں کو دوبارہ شروع کر دیا۔ جس میں لنگر خانہ، کھلی کچہری شامل ہیں۔  
انہوں نے بتایا کہ نہ صرف اب قلعہ آباد ہو چکا ہے بلکہ لوگ اپنے مسائل بھی لےکر آتے ہیں اور لنگر بھی چل رہا ہے۔ رونقیں کافی حد تک بحال ہو چکی ہیں۔  
فوجی آپریشن کے بعد ڈیرہ بگٹی میں صورتحال میں بہتر نہ ہونے پر بہت سے لوگوں نے نقل مکانی کی اس وقت ان کی صورتحال کیا ہے۔ جب اس بارے میں شہزاد سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ عام بگٹی کی صورت حال اس وقت خراب ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی کے زمانے میں پی پی ایل اور اوجی  ڈی سی ایل کی طرف سے ملازمت کا کوٹا ملتا تھا، وہ بند ہو گیا ہے۔ شہر کو بجلی گڈو بیراج سے ملتی تھی، جس کا بل پی پی ایل دیتا تھا، وہ بھی اب بند کر دیا گیا۔ اسی طرح پانی کی بھی قلت ہے۔ غرض یہ کہ بگٹی قبائل اس وقت تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں۔  
شہزاد کہتے ہیں کہ اس وقت بگٹی قبیلے کی خواہش ہے کہ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی واپس آ کر ڈیرہ بگٹی میں رہیں اور جو خلا ہے اسے پر کرنے کی کوشش کریں۔   
نواب اکبر بگٹی کی ڈیرہ بگٹی کے قلعے میں ایک بڑی لائبریری تھی، جو اب کھنڈر کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اس میں کوئی کتاب موجود نہیں۔   

کتابوں کے شوقین اکبر بگٹی
شام کمار نواب بگٹی کے غیر سیاسی دوستوں میں سے ہیں۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ نواب اکبر بگٹی نے انہیں دکھایا کہ انہوں نے پوری دنیا کے کلاسیکل لٹریچر پر بہت کام کیا ہے۔  
وہ مزید لکھتے ہیں کہ نواب اکبر بگٹی کو سنسکرت پر عبور حاصل تھا۔ انہوں نے پانچویں صدی کے عظیم شاعر کالی داس پر کام کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے تمام مذاہب کا گہرا مطالعہ کر رکھا تھا۔   
شام کمار لکھتے ہیں کہ نواب اکبر بگٹی کی لائبریری میں نادر کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ تھا اور اس میں ہر موضوع پر نادر کلاسیکل کتابیں موجود تھیں۔ ان کے پاس افلاطون کے مکالمات مکمل سیٹ، شوپن ہاور، ہیگل، ڈیکارٹ، نتشے، شلر، کارل مارکس، اینگلز، سارتر، برٹرینڈ رسل، گورگی، ٹالسٹائی غرض کہ دنیا کے تمام بڑے ادیبوں مورخوں اور فلاسفروں کی کتابوں کا ذخیرہ ان کے ہاں موجود تھا۔ جن کا انہوں نے گہرا مطالعہ کر رکھا تھا۔‘  
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’ان کی لائبریری میں گبن کی تاریخ فال آف دی رومن ایمپائر کی تمام جلدیں، اکنامکس، فکشن، فلسفہ کی ہر نادر کتاب موجود تھی۔ اس کے علاوہ تمام الہامی کتب،مذہبی صحیفے، انتھراپالوجی، آرکیالوجی، یونانی فلاسفی ، روم کی پرانی شاعری، ہیمنگوے، فرانسو، سائیگاں، سارتر اور البرٹ کامیو کی کتابیں ان کے پاس موجود تھیں۔‘  
ڈیرہ بگٹی میں نواب کے قلعے کی حالت اس وقت کیا ہے، اس کا جائزہ لینے کے لیے  کوئٹہ کے ایک صحافی مقبول احمد جعفر نے وہاں کا دورہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نواب اکبر بگٹی کے واقعے کو 15 سال کا عرصہ گزرا، لیکن خوف کا ماحول اب بھی قائم ہے۔  
مقبول احمد جعفر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب ہم ڈیرہ بگٹی میں داخل ہوئے تو ہمارا سامنا وہاں پر قائم لاتعداد چیک پوسٹوں سے ہوا جہاں ہر ایک پر آپ کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ کس کے پاس جا رہے ہو، کام کیا ہے۔ پہلے انٹری کروائی یا نہیں۔  
انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی شہر تک پہنچتے پہنچتے میں نے اندازاً لگایا کہ ہر ایک کلومیٹر پر ایک چیک پوسٹ قائم ہے۔ 

نواب قلعے میں کیا دیکھا؟   
مقبول نے بتایا کہ جب آپ قلعے کے دروازے سے داخل ہوں گے۔ یہ دروازہ بھی زمانہ قدیم کے بڑے قلعوں کی طرح کا ہے جیسے ہمیں لاہور میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔  
دروازے کے ساتھ لنگر خانہ ہے جہاں لوگوں کے لیے کھانا بنتا ہے۔ دوسری طرف قلعہ میں ایک جگہ لوگ جمع ہوتے ہیں جو اپنے مسائل بیان کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کے دور میں ہوتا تھا۔ اس وقت ان کے نواسے نوابزادہ گہرام بگٹی اور ان کے بھائی شاہ زین بگٹی یہ کام کر رہے ہیں۔  
مقبول کے مطابق ’اس سے چند فٹ کے فاصلے پر ایک لائبریری کی عمارت قائم ہے جو اس وقت کھنڈر بن چکی ہے اور تباہی کا منظر پیش کرتی ہے۔ تعمیر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت پرانی عمارت ہے۔‘ 


انہوں نے بتایا کہ ’اس لائبریری میں کسی زمانے میں نواب اکبر بگٹی کی نادر اور نایاب کتب موجود تھیں۔ جو ایک بہت ذخیرہ مانا جاتا تھا۔ اب اس کی جگہیں خالی ہیں۔ گولے لگنے کے بعد اس کی چھت بھی نہیں رہی۔‘  
نواب اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 کو بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہیں باقاعدہ تعلیم کے لیے والد نے 1937 میں کراچی بھیجا، جہاں انہوں نے گوئنز پرائیویٹ سکول میں تعلیم حاصل کی۔  
قلعے کی طرز تعمیر اس کی بناوٹ اور شاندار ماضی کی گواہی دیتا ہے۔ جو اب انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ اکثر حصے برباد ہو چکے ہیں دیواروں میں دراڑیں پڑی ہیں۔ قلعے کے سامنے مسجد ہے اور اس کے ساتھ بیٹھک قائم کی گئی ہے۔           
مقبول نے بتایا کہ قلعے میں تین گھر ایک ہی نقشے کے مطابق تعمیر کیے گئے ہیں۔ ایک لائبریری کے پیچھے اور دولائبریری کے شمال کی جانب ہیں۔ شمال والے حصے میں نوابزادہ گہرام بگٹی رہائش پذیر ہیں۔ دوسرا حصہ ویران ہے۔

اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیاسی سفر
1939 میں والد کی وفات کے بعد نواب اکبر خان بگٹی کی دستار بندی کر کے انہیں سرداری کے منصب پر بٹھایا گیا۔ انہوں نے سب سے پہلے رپبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں فیروز خان نون کی کابینہ میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ بنایا گیا تھا۔ 
نواب اکبر خان بگٹی کو 18 اگست 1962 کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ ایوب خان کے خلاف جلسہ کرنا چاہتے تھے۔ اس دوران انہیں لائل پور، سبی اور کوئٹہ کے جیلوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ انہیں رہائی جنرل موسیٰ کے دور میں ملی جنہوں نے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ 

نواب اکبر بگٹی 1968 میں پھر گرفتار ہو کر میانوالی جیل میں پہنچ گئے۔ یہاں انہوں نے طویل بھوک ہڑتال کی تھی، جو 29 دنوں تک جاری رہی اور 30ویں دن انہیں زبردستی ہسپتال میں ناک کے ذریعے خوراک دی گئی۔ 

نواب اکبر خان بگٹی 1973 میں بلوچستان کے گورنر بنے اور 1989 میں وزیر اعلیٰ بلوچستان بنے۔ انہوں نے 15 اگست 1990 کو اپنی جماعت جمہوری وطن پارٹی قائم کی۔ 1993اور 1996 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 

’پراسرار دھماکہ‘
2005 میں مشرف حکومت کے ساتھ نواب بگٹی کے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ بگٹی نے حکومت کو 15 نکاتی مطالبات پیش کیے جن میں صوبے کے وسائل پر زیادہ کنٹرول اور فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر پر پابندی شامل تھی۔ 
اس دوران بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال خراب سے خراب تر ہونے لگی۔
حکومتی کارروائی سے بچنے کے لیے بگٹی پہاڑوں پر چلے گئے، جہاں 26 اگست 2006 کو ان کے خلاف فوجی کارروائی ہوئی اور وہ جس غار میں پناہ لے رہے تھے، وہ گولہ باری کے نتیجے میں منہدم ہو گیا اور بگٹی اس کے نیچے آ گئے۔
فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے دستے غار کے دہانے پر پہنچ گئے تھے کہ غار اچانک ایک ’پراسرار‘ دھماکے کے نتیجے میں زمیں بوس ہو گیا۔ 

اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف پر نواب اکبر بگٹی کا مقدمہ درج کرتے ہوئے ان پر نواب اکبر بگٹی کے قتل کا الزام لگایا گیا، ان کے خلاف ایف آر بھی کٹی، اور انہیں 2013 میں گرفتار کر کے ان کے گھر میں نظربند کیا گیا۔ مگر بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہو کر ملک سے باہر چکے گئے اور یہ معاملہ ٹھپ ہو گیا۔ 

اب بھی خوف کا سماں 
مقبول کہتے ہیں کہ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہ قلعہ کوئی دو سو سال قبل تعمیر کیا گیا۔ اس کو نواب اکبر بگٹی کے والد نے تعمیر کرایا تھا۔   
صحافی نے بتایا کہ ’قلعے میں سب سے بری حالت میں نے ہندو اور دیگر اقلیتی برادری کی دیکھی جو مغرب کی طرف مقیم ہیں۔ یہاں پر نواب اکبر بگٹی کے دور میں 400 گھرانے تھے۔ 2005 کی گولہ باری اور اس کے بعد ہونے والے آپریشن کے بعد انہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا تھا۔ بمباری میں ان کے 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔‘  
مقبول کے بقول: ’اب یہاں پر اقلیتی برادری کے 35 سے 40 گھرانے واپس آ چکے ہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ دوسرے شہروں میں کرایہ برداشت نہیں کر سکتے۔  
علاقے میں اس وقت بھی خوف کا ماحول ہے اور کوئی بھی کیمرے کے سامنے بات کرنے سے گھبراتا ہے۔ مقبول نے بتایا کہ جب ہم نے شہر کا دورہ کیا اور چاہا کہ لوگوں سے بات کریں تو کسی نے بھی بات نہیں کی۔   
 انہوں نے بتایا کہ ایک بگٹی نے مجھے کہا کہ ’اگر میں کچھ بولوں گا تو مجھے اٹھا لیا جائے گا۔ کیا آپ یہ گارنٹی دے سکتے ہیں کہ مجھے کچھ نہیں ہو گا؟‘ 
وہ مزید کہتے ہیں کہ نواب اکبر بگٹی کے واقعے کو 15 سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہاں کے مسائل بڑھ گئے ہیں کم نہیں ہوئے۔ لوگ خوف کا شکار ہیں۔ ریاست کا جتنا ڈر میں نے یہاں کے علاوہ کہیں اور نہیں دیکھا۔ اس کی وجہ شاید یہاں پر ہونے والا آپریشن، دربدر کی ٹھوکروں کی صعوبت ہو سکتا ہے۔   
شہزاد بگٹی کہتے ہیں کہ نواب اکبر بگٹی کی زندگی میں بہت سے لوگ ان کی مخالف بھی تھے۔ جس سمجھتے تھے کہ ان کے بہت سے کام درست نہیں لیکن اس وقت ایک عام بگٹی کے علاوہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کا سرپرست اعلیٰ ان سے جدا ہو گیا۔ 
 

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ