نواب بگٹی کا قتل اسٹیبلشمنٹ کا غلط اندازہ تھا: جمیل بگٹی

چودہ سال پہلے سینیئر سیاست دان نواب اکبر بگٹی کے جانے کے بعد بلوچستان میں حالات بہتر ہوئے یا ابتر؟ ان کے قتل کا مقدمہ کہاں تک پہنچا اور بلوچستان کی سیاست آج کہاں کھڑی ہے؟ دیکھیے ان کے بیٹے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو۔

مجھے پاکستان کی سیاست سے ہی نفرت ہے: جمیل بگٹی۔

چودہ سال پہلے بلوچستان کے سینیئر اور معمر سیاست دان نواب اکبر بگٹی کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ایک آپریشن کے دوران تراتانی کے پہاڑوں میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ان کے جانے کے بعد بلوچستان میں حالات بہتر ہوئے یا ابتر؟ ان کے قتل کا مقدمہ کہاں تک پہنچا اور بلوچستان کی سیاست آج کہاں کھڑی ہے؟ اس حوالے سے ان کے بیٹے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی سے انڈپنڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کا احوال درج ذیل ہے۔

آج اگر نواب اکبر بگٹی زندہ ہوتے تو بلوچستان کتنا مختلف ہوتا؟

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی: اس وقت کی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ نواب بگٹی کو راستے سے ہٹا دیا تو صوبے میں محکومی کے خلاف تحریک ختم ہو جائے گی۔ میرے خیال میں ان سے بہت بڑی مس کیلکولیشن ہوئی۔ میرے والد کی شہادت کے بعد تحریک توقعات سے بھی زیادہ آگے چلی گئی، آج 14 سال بعد بھی چل رہی ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہی۔

نواب اکبر بگٹی کی موت کی تحقیقات کہاں پہنچیں؟

جمیل بگٹی: یہاں بلوچستان میں واقعے کی کوئی تفتیش نہیں ہوئی، کچھ نہیں ہوا۔ میں نے سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کو بھی مقدمے میں نامزد کیا تھا۔ وہ جب عدالت میں پیشی کے لیے آتے تو ان کو چیمبر میں پٹیزاور کافی پلائی جاتی تھی اور میں جو مدعی تھا باہر بیٹھا رہتا تھا۔ آج تک کسی نے کبھی پانی بھی نہیں پلایا۔

پہلے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فارغ کر دیا۔ پھرہم بلوچستان ہائی کورٹ چلے گئےاور اپیل دائر کردی، جہاں مجھے طلب کیا گیا نہ میرا بیان ریکارڈ ہوا۔ یہ بات میں نے اس وقت بھی پریس کے سامنے کہی تھی کہ دنیا دیکھ لے ہماری عدلیہ کتنی آزاد ہے۔

کیا کبھی ذمہ داروں کو سزا مل سکے گی؟

جمیل بگٹی: میں کہہ تو رہا ہوں کہ ذمہ داروں کو عدالتوں میں کافی پیٹیز ملتے تھے تو ان کو سزا کون دے گا؟ کیپٹن حماد، جو سوئی میں ڈاکٹر شازیہ کیس میں ملوث تھے، ان کے حق میں پہلے جوڈیشل کمیشن بنا رہے تھے، جس کے بننے سے پہلے ہی پرویز مشرف نے وردی میں آکر ٹی وی پر کہا کہ 'کیپٹن حماد از ٹو ہنڈرڈ پرسنٹ انوسنٹ۔'

نواب اکبر بگٹی کو آپ نے کیسے پایا؟

 جمیل بگٹی: میں جب 10 سال کا تھا تو پہلی دفعہ میرے والد 1959 میں جیل چلے گئے۔ پھر ایوب خان کے 10 سالہ دور میں میرے والد ساڑھے آٹھ سال مختلف جیلوں میں رہے۔ یوں ہم نے ایک طرح سے سارا پنجاب ہی گھوم لیا، کبھی ساہیوال اور کبھی لائل پور لے جاتے۔

اس زمانے میں ان علاقوں کے یہی نام تھے جواب تبدیل ہوچکے ہیں۔ ایوب خان کے زمانے میں گرمیوں میں قیدیوں کو ملتان اور سبی میں رکھا جاتا جبکہ سردیوں میں انہیں کوئٹہ جیل بھیج دیتے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف ہو۔

ان دنوں ہماری ملاقاتیں زیادہ تر جیلوں میں ہوتی تھیں۔ اس دوران میں کالج چلا گیا اور 1969 میں گریجویشن مکمل کی۔ اسی سال والد بھی رہا ہوگئے۔ جب ایوب خان نے اقتدار چھوڑا اور جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا تو میرے والد کو رہائی ملی، اس وقت میں 20 سال کا ہو گیا تھا۔

 

میں نے زندگی کے وہ 10 سال جس میں ایک بیٹا باپ کے ساتھ گزارتا ہے اس سے محروم رہا۔ اس کے بعد جب والد سیاست میں آئے تو ہم بھی دیکھتے تھے کہ کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں۔ والد سے بہت کچھ سیکھا اور یہ بھی کہ جس بات پر تم کو یقین ہواس پر کھڑے رہو چاہے کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے۔

آپ کے سیاست میں نہ آنے کی وجہ؟

جمیل بگٹی: یہاں تو سیاست نہیں ہے۔ سیاست تو کسی مہذب معاشرے میں ہوتی ہے، یہ کوئی مہذب معاشرہ نہیں۔ یہاں اب سیاست کہاں رہ گئی۔

پرانے زمانے کی سیاست میں حق اور سچ کی بات کرتے تھے لیکن آج جو ایسا کرے وہ غدار ٹھہرتا ہے۔ اگر ہم بلوچستان کے حوالے سے دیکھیں تومیں نے بچپن سے دیکھا کہ جو تین سردار تھے وہ غدار تھے۔ سارے صوبے کی نااںصافی، تعلیم کمی، ناخواندگی کا ذمہ دار بھی انہی سرداروں کو ٹھرایا جاتا تھا۔

میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ باقی جو سردار1947 سے اسٹیلشمنٹ کی گود میں بیٹھے ہیں ان کے علاقے میں نہ کوئی ہسپتال ہے، نہ سکول، نہ کالج، تو یہ سب کچھ دیکھتا رہا ہوں۔ پھر والد نے پارلیمانی سیاست میں حصہ لیا، جس کا انجام بھی ہم سب نے دیکھا کہ پارلیمانی سیاست میں آپ کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر سچ کہوں تو مجھے پاکستان کی سیاست سے ہی نفرت ہے۔

نواب اکبر بگٹی کا کون سا مشن ہے جسے آپ سمجھتے ہیں کہ مکمل ہونا چاہیے اور کس طرح؟

جمیل بگٹی: ان کا مشن ایک آدمی کا نہیں بلکہ ایک قوم کی بات ہے۔ قوم جس مشن کے راستے پر چل پڑی ہے، اس کے بعد جو پلیئرز ہیں وہ خود ہی تعین کریں گے کہ کیسے چلنا ہے۔

وہ زمینی حقائق دیکھتے ہیں، کبھی تیز اور کبھی آہستہ چلتے ہیں، کبھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور کبھی آگے آ جاتے ہیں۔ صورت حال تبدیل ہوتی رہتی ہے، سب ایک جیسا نہیں رہتا۔ میرے والد کا مشن تو چل رہا ہے۔ البتہ یہ کہاں جاتا ہےاور اس کی کامیابی کے اثرات سامنے آئیں گے یا نہیں اس پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

کیا بلوچستان کی سیاست سے بھی مایوس ہیں؟

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی: بلوچستان میں سیاست ہی نہیں ہے۔ آپ بتائیں سیاست کہاں ہے۔ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ نواب اسلم رئیسانی کی صوبائی حکومت کے وقت وفاقی وزیر چنگیز جمالی نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے کے حالات جیسے پرویز مشرف کے دور میں تھے ویسے ہی ہیں۔

مشاہد حسین، چوہدری شجاعت حسین اور نواب اکبر بگٹی کے درمیان معاہدے اور حالات بدلنے کا معاملہ کیا تھا؟

جمیل بگٹی: ملٹری اور سویلین ہاکس اس معاہدے کے حق میں نہیں تھے۔ انہوں نے ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہونے دیا، جب مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت نے یہ بات کہی تو میں نے ان کو بذریعہ پریس جواب دیا کہ اگر آپ میں ذرا سی بھی اخلاقی جرات ہوتی تو آپ یہ بات میرے والد کو ان کی زندگی میں کہہ دیتے کہ ہم آ تو رہے ہیں آپ سے بات کرنے لیکن آپ کی بات سننے والا کوئی نہیں، ہم محض وقت ضائع کرنے آ رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ اب جب پرویز مشرف کی وردی اتر چکی ہے تو آپ کی غیرت جاگی ہے اور اب آپ سچ بتا رہے ہیں کہ سویلین اور ملڑی ہاکس اس معاہدے کے خلاف تھے۔

نواب اکبر بگٹی کو ہی نشانہ کیوں بنایا گیا؟

جمیل بگٹی: ان کا مقصد ہی میرے والد کو نشانہ بنانا تھا۔ انہوں نے پہلے بھی کوشش کی لیکن زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے ہمیں اور ہمارے والد کو مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔27 مارچ  کو صبح 10 بجے بمباری شروع ہوئی اور دوپہر دو بجے تک چلتی رہی۔

جب تک ہم ڈیرہ بگٹی میں رہے وہ گولے برساتے رہے۔ ہم جا رہے تھے تو وہ گولے برسا رہے تھے لیکن جب ہم ان کی رینج سے نکل گئے تو بم باری رک گئی۔ اس دوران ہزاروں کی تعداد میں گولے اور مارٹر فائر کیے گئے جبکہ فائرنگ تو بہت زیادہ ہوئی۔

کیا اتنے سالوں بعد ڈیرہ بگٹی کی صورت حال معمول پر آسکی ہے؟

جمیل بگٹی: مجھے وہاں کی صورت حال کا کوئی علم نہیں کیوں کہ میں وہاں 14 بلکہ 15 سال سے نہیں گیا۔ نومبر 2005 میں میں علاج کے لیے کراچی گیا تھا اس کے بعد مجھے ڈیرہ بگٹی جانےکی اجازت نہیں۔

کیا اس واقعے نے بگٹی قوم کا شیرازہ بکھیردیا؟

جمیل بگٹی: نقصان صرف بگٹی قوم کا نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کا ہوا۔ سارے بلوچ آج تک اس کا نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ہزاروں افراد اغوا ہوئے، یہ سب کچھ اسی واقعے کے بعد شروع ہوا۔ ہزاروں افراد لاپتہ اور ہزاروں مارے گئے، ڈیرہ بگٹی اوریہاں مستونگ کے قریب کئی جگہوں پر اجتماعی قبریں دریافت کی گئیں۔ یہ تو بلوچ قوم کا نقصان ہے، صرف بگٹی قوم کا تو نہیں، بگٹی بھی تو بلوچ ہی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کو سزا دلانے میں قومی سطح کی جماعتوں نے کتنا تعاون کیا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمیل بگٹی: کسی جماعت نے بھی ساتھ نہیں دیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن جب طاقت میں تھی تو خاموش رہی پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی جو اقتدار سے پہلے بات کرتی رہی لیکن پھر پانچ سال چپ سادھے رکھی۔

اس کے باوجود 17 مارچ کو جب ڈیرہ بگٹی پر بمباری ہوئی تو اس وقت ایک پارلیمانی کمیٹی آئی تھی جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما مثلاً شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جھکرانی سمیت 15، 20 افراد شامل تھے، جن کے نام اب یاد نہیں۔

اس کے بعد جب والد کا کیس چلا تو میں نے بارہا ذرائع ابلاغ کے ذریعے کہا کہ کمیٹی کو بلائیں، ان سے پوچھیں کیونکہ انہوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ میں نے خود ان کو بمباری سے متاثرہ جگہیں اور جہاں لوگ بمباری سے مرے تھے دکھائے۔ وہ جگہ اور بیٹھک بھی دکھائی جہاں میرے والد اور ہم بیٹھتے تھے اور جو گولہ لگنے سے متاثر ہوئی۔

ہر جگہ گولے پڑے تھے۔ ہندو کمیونٹی کے لوگ جہاں مرے تھے وہ جگہیں دکھائیں۔ وہ کمیٹی اس کے بعد ایسی چھپی کہ آج تک ان کے منہ سے کوئی بات نہیں نکلی۔

آپ کی نظر میں بلوچستان کے مسئلے کا حل کیا ہے؟

جمیل بگٹی: یہ سوال کسی نے لاہور میں میرے والد سے پوچھا تھا، میں بھی اس وقت والد کے ساتھ تھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ لوگ 50 سال میں نہیں سمجھے تو چند منٹوں میں میں کیا سمجھا سکتا ہوں کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل کیا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ  ڈاکٹر مالک بلوچ نے ہمیں  بتایا کہ براہمدغ بگٹی کے مطالبات میں پانی، بجلی اور ہسپتال وغیرہ شامل تھے۔ کیا یہ درست ہے؟

جمیل بگٹی: میں براہمدغ بگٹی سے ملا ہوں نہ ہی ڈاکٹر مالک بلوچ نے مجھے اعتماد میں لیا تھا کہ میں آپ کے بھانجے سے ملاقات کرنے جا رہا ہوں۔ آج تک ڈاکٹر مالک نے مجھے نہیں بتایا کہ وہ براہمدغ بگٹی سے ملے بھی یا نہیں، مجھے یہ بھی کنفرم نہیں۔

بگٹی پناہ گزینوں کی آباد کاری کا مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے، رکاوٹیں کیا ہیں؟

جمیل بگٹی: بعض بگٹی وہاں جا سکتے ہیں لیکن بعض نہیں جا رہے۔ میں ڈیرہ بگٹی میں کسی کو فون کر کے صورت حال کے بارے میں دریافت کرتا ہوں تو کہتے ہیں سب اچھا ہے، اللہ کا شکر ہے۔ اگر کوئی چار یا پانچ افراد مارے گئے ہوں تو بھی کہتے ہیں سب اچھا ہے۔

لیکن جب کسی سے آمنے سامنے بات ہو تو ٹھیک ٹھیک بتاتے ہیں کہ کون قتل ہو گیا اور کسے اٹھا لیا گیا۔ جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ فون پر کچھ اور بتاتے ہو اور سامنے کچھ اور تو کہتے ہیں کہ فون پر گفتگو سنی جاتی ہے، اگر سچ کہیں تو کہیں ہم بھی غائب نہ کر دیے جائیں۔

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ  کے حوالے سے کہا جا رہا ہے وہ بلوچستان کو اس کا حق دینے جا رہی ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟

جمیل بگٹی: میں نے اخبارات میں پڑھا کہ پی پی ایل نے کہا ہے کہ وہ اب صوبے کو اس کا جائز حصہ دے گی لیکن اب اس کے پاس مال ہی ختم ہو گیا ہے۔ سوئی میں جو ذخیرہ تھا وہ 50 سال میں کھا گئے۔ اب بہت کم ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔ اب تو گیس کی پیدوار سندھ میں زیادہ ہے، جو تھوڑے بہت ذخائر ہیں ان سے سوئی پیوریفکیشن پلانٹ چلایا جا رہا ہے۔

پہلے بھی کہا گیا تھا کہ ہم جائز حق دیں گے۔ میرے والد کے زمانے میں بھی یہی باتیں ہوتی رہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والد ایک دن بہت غصے میں تھے۔

اس وقت تاج محمد جمالی وزیراعلیٰ تھے۔انہوں نے کہا میں نے پی پی ایل یا وفاقی حکومت کے اربوں روپے معاف کر دیے ہیں، جس پر میرے والد نے کہا کہ آپ کے گھر یا جمالیوں کے پیسے تو نہیں تھے کہ معاف کر دیے یہ تو بلوچ قوم کے پیسے تھےان پیسوں کو معاف کرنے والے آپ کون ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست