کیا پاکستان ایک بار پھر افغان مہاجرین کا سب سے بڑا میزبان بنے گا؟

آخر میں یہی ہو گا کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد جہازوں کے ذریعے نہیں بلکہ پیدل پاکستان اور ایران پہنچے گی اور پہلے ہی اپنے معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نبرد آزما پاکستان ایک بار پھر حالیہ دربدر افغان مہاجرین کی سب سے بڑی پناہ گاہ بنے گا: رپورٹ۔

گذشتہ 20 برس کے دوران امریکہ نے 20 ہزار افغان تارکین وطن کو پناہ دی جو سالانہ ایک ہزار کی اوسط بنتی ہے (اے ایف پی)

افغانستان سے امریکی فوجی دستوں کے اچانک انخلا کے بعد ایسے ہزاروں افغانوں کی تصاویر نے عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا جو ہر صورت اپنے ملک سے نکل جانا چاہتے ہیں۔

22 اگست، 2021 تک چھ ہزار امریکی فوجی دستے اپنے شہریوں اور ان افغانوں کو ملک سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں خصوصی تارکین وطن ویزا فراہم کیا گیا۔

خصوصی تارکین وطن ویزوں کا اجرا ان افغان شہریوں کے لیے کیا گیا جنہوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر امریکی فوجی دستوں کے لیے کام کیا۔

جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ اپنے شہریوں اور کچھ افغانوں کے لیے چھوٹے پیمانے پر انخلا کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ناقص حکمت عملی کے شکار اس انخلا کی رفتار بہت سست ہے۔ یہ عمل کابل کی افراتفری میں جاری ہے جہاں لوگوں کو اس وقت برسر اقتدار طالبان اور امریکی فوجی دستوں کے تشدد کا سامنا ہے اور انہیں ایسے چیک پوائنٹس سے گزرنا پڑتا ہے جنہیں پار کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

افغانستان میں آزادانہ کام کرنے والے حقوق انسانی کمیشن کے سربراہ شہرزاد اکبر اس صورت حال کو ’ایک کے بعد دوسری ناکامی‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔

’بہ امر مجبوری نقل مکانی اور ترک وطن کرنے والے افراد پر تحقیق کرنے والے محقق کے طور پر میں افغانستان کے نقل مکانی کے طویل بحران کی وسیع تاریخ میں اس خوف ناک منظر کو نئے مسائل کا پیش خیمہ سمجھتا ہوں۔

’اس میں ترقی یافتہ ممالک اور معاشی طور پر کمزور ممالک کے درمیان پناہ گزینوں کی غیر مساوی تقسیم شامل ہے۔

امریکہ کا خاموش کردار

امریکی قانون برائے مہاجرین 1980 جنگ، تشدد، تنازعے اور ظلم و ستم کے نتیجے میں بھاگ کر آنے والے مہاجرین کو پناہ دینے کا طریقہ کار اور جانچ پڑتال کا سخت نظام وضع کرتا ہے۔

لیکن امریکہ میں گذشتہ 40 سال کے دوران دنیا بھر سے آنے والے مہاجرین کو پناہ دینے کی شرح غیر معمولی حد تک گراوٹ کا شکار ہو کر 2019 میں 50 ہزار سے بھی کم ہو گئی جبکہ 1980 میں یہ تعداد دو لاکھ تھی۔

گذشتہ 20 برس کے دوران امریکہ نے 20 ہزار افغان تارکین وطن کو پناہ دی جو سالانہ اعتبار سے اندازاً ایک ہزار کی اوسط بنتی ہے۔

لیکن 2020-2021 کے مالی سالی کے دوران دنیا بھر سے محض 11 ہزار 800 افراد امریکہ میں آباد ہو سکے جن میں خصوصی تارکین وطن ویزا حاصل کرنے والے فقط 495 افغان ہیں۔

یہ تعداد خصوصی تارکین وطن ویزا کے منتظر 20 ہزار افغانوں اور درخواست دینے کے اہل 70 ہزار درخواست دہندگان اور ان کے افراد خانہ کی اضافی تعداد کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

یورپ بہت کم افغان مہاجرین کو جگہ دیتا ہے

کئی دہائیوں سے افغان شہری قانونی یا غیر قانونی طریقے سے یورپ میں بھی پہنچے۔ اس براعظم میں 2015-2016 کے دوران پہنچنے والے افغانوں کی تعداد تین لاکھ ہے۔

اہل شام کے بعد وہ ہجرت کرنے والے یا پناہ کے متلاشی افراد پر مشتمل دوسرا بڑا گروہ تھا۔ پناہ کے متلاشی سے مراد وہ افراد ہیں جو مہاجرین کا درجہ چاہتے ہیں لیکن ان کی درخواست ابھی جانچ پڑتال کے مراحل سے گزر رہی ہوتی ہے۔

براعظم یورپ میں افغان شہریوں کی تعداد بہت محدود اور مختلف جگہوں پر بکھری ہوئی ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سے پہلے یورپی ممالک سے بہت سے افغان جلا وطن کیے جا رہے تھے۔

ان پناہ گزینوں کا یورپ میں سب سے بڑا ٹھکانہ جرمنی ہے جس کے بعد آسٹریلیا، فرانس اور سویڈن کا نمبر آتا ہے۔

2021 کے پہلے تین مہینوں میں سات ہزار افغانوں کو یورپی یونین میں عارضی یا مستقل بنیادوں پر سکونت کی اجازت دی گئی۔

وہ یونان، فرانس، جرمنی اور اٹلی میں تقسیم ہیں جبکہ مختلف دیگر یورپی یونین کے ممالک میں ان کی مختصر تعداد پائی جاتی ہے۔

 2016 کی مردم شماری کے مطابق آسٹریلیا میں افغانوں کی تعداد تقریباً 47 ہزار ہے جو مستقل شہری ہیں اور جن میں سے بعض نے بہت پہلے 1979 سے یہاں آنا شروع کیا۔

تقریباً چار ہزار 200 افغان شہری ان کے علاوہ ہیں جنہیں مخصوص وقت کے لیے عارضی طور پر تحفظ دیا گیا۔

افغانستان کے اندر در بدر افراد

اس کے باوجود ابھی تک افغانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو مستقل گھروں سے محروم در بدر پھر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے شعبہ تارکین وطن کے مطابق 2021 میں ابھی تک پانچ لاکھ سے زائد آبادی تشدد کی وجہ سے در بدر ہو چکی ہے۔

مئی کے اختتام تک ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور افغانوں میں سے عورتوں اور بچوں کی تعداد تقریباً 80 فیصد ہے جو ڈھائی لاکھ کے قریب بنتی ہے۔

2021 یا موجودہ بحران سے پہلے کم از کم 35 لاکھ افغان تشدد، سیاسی افراتفری، غربت، موسمیاتی بحران اور معاشی مواقع کی کمی سے تنگ آ کر اپنے ملک کے اندر ہی بے گھر ہو کر رہ گئے۔

افغان مہاجرین پاکستان میں

افغان مہاجرین کی زیادہ اکثریت یورپ میں نہیں آباد ہوئی۔ افغانستان کے ساتھ 2650 کلومیٹر لمبی مشترک زمینی سرحد رکھنے والے ملک پاکستان نے طویل مدت تک افغان مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد کو پناہ دی حالانکہ وہ مہاجرین کنوینشن 1951 یا مہاجرین سے متعلق عالمی قانون پروٹوکول 1967 میں سے کسی ایک کا بھی رکن نہیں۔

سوویت یونین کے 1979 میں حملے کے دو سالوں کے اندر مجاہدین کی طاقت میں اضافے کے ساتھ جیسے ہی جنگ میں شدت پیدا ہوئی 15 لاکھ افغان ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ 1986 تک تقریباً 50 لاکھ افغان پاکستان یا ایران بھاگ چکے تھے۔

 یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ریفوجیز (UNHCR) نے مارچ 2002 میں تقریباً 32 لاکھ افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجا لیکن اپریل 2021 میں 14 لاکھ مہاجرین تشدد، بے روزگاری اور سیاسی ہنگامہ آرائی کے سبب پاکستان ہی میں موجود تھے۔

افغان مہاجرین کے معاملے میں ایران نے بھی اہم کردار ادا کرتے ہوئے ایک بڑی تعداد کو اپنے ملک میں پناہ دی جن میں آٹھ لاکھ اندراج شدہ اور اس کے علاوہ کم از کم 20 لاکھ غیر اندراج شدہ افغان شہری شامل ہیں۔

افغان مہاجرین اور پناہ کے متلاشیوں کی معمولی تعداد بھارت (15,689)، انڈونیشیا (7,692) اور ملائیشیا (2,478) میں ہے۔

38 لاکھ اندراج شدہ اہل شام مہاجرین کو پناہ دینے والا مہاجرین کا دنیا میں سب سے بڑے میزبان ملک ترکی میں اندراج شدہ افغان مہاجرین کی تعداد 980 ہے اور اس کے علاوہ ایک لاکھ 16 ہزار پناہ کے متلاشی ہیں۔

آج صورت حال کیا ہے؟

ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 20 سالہ جنگ کے دوران 47 ہزار سے زائد شہری اور کم از کم 66 ہزار فوجی اور پولیس حکام لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

گذشتہ برسوں کے دوران ملک میں سکیورٹی کی صورت حال انتہائی خراب رہی۔ براؤن یونیورسٹی کے منصوبے جنگ کی قیمت کے مطابق افغان شہریوں کی بڑی تعداد طالبان سمیت مصلح گروہوں کے تیز دھماکہ خیز آلات، فائرنگ کے تبادلے، اقدامات قتل اور امریکہ یا نیٹو کے راتوں کو اچانک زمینی حملے یا فضائی حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

یہاں تک کہ طالبان کے حالیہ اقتدار سے پہلے 2021 کی پہلی چوتھائی میں شہریوں کی موت کا تناسب 2020 کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 29 فیصد بڑھا ہے۔

اقوام متحدہ کی 26 جولائی، 2021 کی رپورٹ کے مطابق 2020 کی پہلی چوتھائی کے مقابلے میں عورتوں کے قتل یا زخمی ہونے میں 37 فیصد جبکہ بچوں کے جانی نقصان میں 23 فیصد اضافہ ہوا۔

طالبان کی حکومت کے بعد افغانستان کی خواتین، بچیوں، نسلی اقلیتی برادریوں، صحافیوں، حکومتی اراکین، معلمین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات مسلسل گہرے ہو رہے ہیں۔

ملک چھوڑنے کے لیے بے چین بہت سے افغان شہری کابل سے باہر ہیں اور ایئرپورٹ ان کی رسائی سے کافی دور ہے۔

ایک بار سارے امریکی افغانستان سے نکل آئے تو امریکی انخلا مکمل ہو جائے گا۔ چند دیگر یورپی ممالک نے مہاجرین کی مختصر تعداد کی ذمہ داری اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے جس میں کینیڈا (20 ہزار) اور برطانیہ (پانچ سالوں میں 20 ہزار) شامل ہیں۔

تاہم یورپ میں سخت پالیسیوں اور مہاجرین کے خلاف عوامی جذبات کے پیش نظر بہت کم افغانوں کو وہاں جائے پناہ ملے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آسٹریلیا اور سوئٹزرلینڈ پہلے ہی بڑی تعداد میں افغانوں کو لینے سے انکار کر چکے ہیں۔ پہلے سے مہاجرین سے بھرے ہوئے ملک ترکی کے بقول وہ ’پناہ گزینوں کا یورپی گودام‘ نہیں بننا چاہتا۔

عارضی طور پر افغانوں کی مختصر تعداد کو اپنے ملک میں جگہ دینے کے لیے تیار ممالک میں البانیہ، قطر، کوسٹا ریکا، میکسیکو، چلی، ایکواڈور اور کولمبیا شامل ہیں۔

15 لاکھ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا ملک یوگینڈا، جن میں بھاری اکثریت جنوبی سوڈان کے شہریوں کی ہے، بھی دو ہزار افغانوں کو عارضی طور پر لینے کے لیے تیار ہے۔

بالآخر ملک چھوڑنے والے افغانوں کی بڑی تعداد جہاز کے ذریعے نہیں بلکہ پیدل چلتے ہوئے پاکستان اور ایران پہنچے گے۔

پہلے ہی اپنے معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نبرد آزما پاکستان ایک بار پھر حالیہ دربدر افغان مہاجرین کی سب سے بڑی پناہ گاہ بنے گا۔

لیکن خطے میں سرحد پار کرنے سے وابستہ خطرے اور مشکلات کے پیش نظر دربدر افغانوں کی بڑی تعداد اپنے ملک میں ہی رہے گی۔

ان کی معقول انسانی ضروریات، معاشی اور سیاسی امتحانات، تحفظ کو لاحق خطرات اور طالبان کے خلاف مزاحمت ملکی تاریخ کے اگلے باب کے خد و خال واضح کرے گی۔


یہ ترجمہ ’دا کنورسیشن‘ کی اجازت سے یہاں چھاپا جا رہا ہے۔ اصل تحریر یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا