غیر قانونی افغان تارکین وطن کو روکنے کے لیے ترک سرحد پر دیوار

ترکی کے مشرقی صوبے وان میں ایران کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر جاری ہے تاکہ ایران کے راستے آنے والے افغان تارکین وطن کو روکا جا سکے۔

افغانستان سے ایران کے راستے ترکی آنے والے تارکین وطن کی ممکنہ آمد کے پیش نظر ترک حکام نے مشرقی صوبے وان میں سکیورٹی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔

گورنر امین بلمیز کے مطابق ایران کے ساتھ 295 کلومیٹر لمبی سرحد پر اسی مقصد سے دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کے غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لیے دیوار کا 64 کلومیٹر لمبا سیکشن اس سال کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔

گورنر امین بلمیز نے کہا کہ اس خطے میں غیرقانونی تارکین وطن کو گھومنے کی اجازت نہیں ہوگی اور انہیں پکڑنے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے گذشتہ تین ہفتوں میں وان میں 16 سو سے زائد تارکین وطن کو پکڑا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لیے ادارے کے ایک اندازے کے مطابق جنوری سے اب تک افغانستان میں دو لاکھ 70 ہزار سے زائد لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

ترکی، افغانستان اور ایران کے وزرائے داخلہ نے گذشتہ ماہ سکیورٹی، توانائی اور مائگریشن پر تعاون کے حوالے سے بات چیت کی تھی لیکن سفارتی ذرائع کے مطابق انقرہ اور تہران کے درمیان افغان تارکین وطن کے معاملے پر کوئی مخصوص طریقہ کار طے نہیں ہو پایا۔

واضح رہے کہ ترکی پہلے ہی 40 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کا میزبان ہے، جن کی اکثریت شام سے ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا