زیدیز سٹوڈیو کی تصویریں جن میں تاریخ محفوظ ہو گئی ہے

یہ صرف تصویروں نہیں ہیں، بلکہ ان میں ہندوستان اور پاکستان کی ثقافت کے مختلف پہلو نمایاں ہیں۔

اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر معروف فوٹو سٹوڈیو ’زیدیز‘ کی پچھلے سو سال میں لی گئی تصویروں کی نمائش جاری ہے۔

زیدیز سٹوڈیو کے فوٹو گرافر سید اسد علی زیدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ سٹوڈیو لاہور میں 1928 میں قائم ہوا تھا، بعد میں اس کی شاخیں متعدد شہروں میں کھل گئیں، جن میں دہلی، کلکتہ، بمبئی اور دوسرے شہر شامل تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’زیدیز فوٹو سٹوڈیو میں پچھلے نو عشروں میں برصغیر کی تاریخ کو محفوظ کر دیا ہے، کیوں کہ یہ صرف تصویروں نہیں ہیں، بلکہ ان میں ہندوستان اور پاکستان کی ثقافت کے مختلف پہلو نمایاں ہیں۔‘

اس نمائش میں قائد اعظم محمد علی جناح کی چار تصویریں موجود ہیں، جن میں سے 1944 میں لی گئی ایک تصویر کو بعد میں حکومتِ پاکستان نے سرکاری پورٹریٹ قرار دیا۔ اس تصویر میں قائداعظم  اس کے ساتھ ہی ایک اور تصویر بھی موجود ہے جس میں ان کے سر پر جناح کیپ ہے۔ لباس، ٹائی اور بیک گراؤنڈ سے لگتا ہے کہ دونوں تصویریں ایک ہی دن لی گئی تھیں۔

ان کے علاوہ لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، عمران خان، 1950 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا گروپ فوٹو، استاد فتح علی خان، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، مستنصر حسین تارڑ، غلام علی، مہاراج کتھک، فریجہ پرویز، فریال گوہر اور دیگر کئی مشاہیر کی پورٹریٹس اس نمائش کی زینت ہیں۔

نمائش میں آنے والے لوگوں نے موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ایک تصویر میں بھی دلچسپی ظاہر کی جو 1972 میں اس وقت لی گئی تھی جب عمران خان کی عمر صرف 20 برس تھی۔ اس تصویر میں وہ کرکٹ کا سفید لباس اور سویٹر پہنے ہوئے کھڑے ہیں۔

اسد علی زیدی نے کہا کہ ’زیدی سٹوڈیو کے اولین مالکان مصوری سے فوٹوگرافی کی طرف آئے تھے اس لیے ان کی تصویروں میں پینٹنگ کا سا تاثر نظر آتا ہے، جو تصویروں کی لائٹنگ، کمپوزیشن اور پوز میں نمایاں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس زمانے میں کیمرا ٹیکنالوجی آج کی طرح ترقی یافتہ نہیں تھی۔ کیمروں میں فلمیں نہیں بلکہ جیلاٹین پرنٹ استعمال ہوتے تھے، جو اسی سائز کے ہوا کرتے تھے جن سائز کی تصویر بنتی تھی۔ یہ ٹیکنالوجی بعد میں ایجاد ہوئی کہ چھوٹے سے نیگٹیو کو انلارج کر کے بڑی تصویر بنا لی جائے۔

اس کے علاوہ فوٹو گرافر کے پاس صرف ایک یا دو تصویریں لینے کا موقع ہوا کرتا تھا، آج کی طرح نہیں کہ درجنوں تصویریں لے کر ان میں سے ایک منتخب کر لی جائے۔ اس لیے فوٹوگرافر اپنے سبجیکٹ کے ساتھ پہلے گپ شپ لگا کر اسے ریلیکس کرتا تھا، اسے پوز کے بارے میں مکمل طور پر اعتماد میں لیتا تھا، اور اس کے بعد تصویر لی جاتی تھی جو سبجیکٹ کی شخصیت کی آئینہ دار ہوا کرتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’مثال کے طور پر اگر کسی گورنر کی یا کسی اور بڑے سرکاری عہدے دار کی تصویر لینی ہو تو اسے سنجیدہ موڈ میں دکھایا جاتا تھا، جب کہ کسی اداکار یا کھلاڑی ہو تو اسی مناسبت سے تصویر لی جاتی تھی۔‘

زیدی نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ ’چونکہ اس زمانے کے کیمروں میں شٹر سپیڈ بہت سست ہوا کرتی تھی اس لیے جس شخص کی تصویر لینی ہو، اسے کچھ دیر تک سانس روک کر بالکل ساکت بیٹھنا پڑتا تھا، ورنہ ذرا سا ہلنے سے بھی تصویر دھندلی آ جاتی تھی۔

’البتہ ایسی صورت میں فوٹو گرافر پوسٹ پراسیسنگ میں تصویر پر برش لگا کر اسے درست کر دیتے تھے۔‘

اس نمائش سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوٹوگرافی بھی پینٹنگ اور مجسمہ سازی کی طرح باقاعدہ آرٹ کا حصہ ہے کیوں کہ ان تصویروں میں فن کے تمام تقاضے پوری طرح سے موجود دکھائی دیتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن