ایکس رے کے بعد پکاسو کی تصویر سے کیا نکلا

حالیہ برسوں میں ایکس رے اور انفراریڈ کے علاوہ انسانی مہارت اور قیاس آرائی نے ان گمشدہ شاہکاروں کی دوبارہ تخلیق کو ممکن بنا دیا ہے۔

نئی ٹیکنالوجی نے ری سرچرز کو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ان شاہکاروں کے نیچے موجود تصاویر کو دوبارہ تخلیق کر سکیں(فائل فوٹو: اے ایف پی)

کسی بھی پینٹنگ کے نیچے اسی پینٹنگ کو دوبارہ بنانا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔ لیکن اگر کسی آرٹسٹ نے ایک ہی کینوس کو کئی بار استعمال کیا ہو(جو شاید پیسہ بچانے کے لیے ہو سکتا ہے) یا اس نے پینٹنگ کے کسی حصے کو دوبارہ کام کیا ہو (کام کے دوران شاید ان کا خیال بدل گیا ہو)، تو پہلے سے ترمیم شدہ کام کی نوعیت کوجاننا بھی کافی مشکل رہا ہے۔

لیکن حالیہ برسوں میں ایکس رے اور انفراریڈ کے علاوہ انسانی مہارت اور قیاس آرائی نے ان گمشدہ شاہکاروں کی دوربارہ تخلیق کو ممکن بنا دیا ہے۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق فریڈرک بازیلی کی معروف تحریر ’ینگ وومین ایٹ دا پیانو‘ جو انہوں نے لکھی تو تھی لیکن کھو چکی تھی کو ریڈیوگرافی کے استعمال سے سال 2017 میں دریافت کر لیا گیا۔ یہ ان کی سال 1865 میں بنائی جانے والی ’روتھ اور بوز‘ پینٹنگ کے نیچے ملی تھی۔

فرانسیسی انجنئیر پاسکل کوٹ نے 240 میگا پکسلز سکینز کے ساتھ تین ہزار گھنٹوں سے زائد کام کر کے مونالیزا کی پانچ سو سالہ قدیم پینٹنگ کی ہر تہہ کے سکینز تیار کیے ہیں۔ سال 2014 میں اس پینٹنگ پر تحققیق کے دس سال بعد انہوں نے اس بات کو ثابت کیا کہ مونالیز کی دونوں آنکھوں پر بھنویں، ابرو اور ایک بڑی مسکراہٹ ان کی قدیم تصویر میں بھی موجود تھے۔

پابل پکاسو کے کام کی پینٹنگ کی تہوں کو کھوجنے میں بھی ایک دہائی کا عرصہ لگا تاکہ اس کی نچلی تہوں پر موجود ایک اور پینٹنگ کو صاف طور پر پیش کیا جا سکے۔

انفراریڈ اور ایک رے کی ٹیکنالوجیز مختلف پینٹنگز میں استعمال کیے جانے مواد پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ تو ان پینٹنگز میں موجود زنک، کاپر،آئرن، ساڈیم، کرومیم ری سرچرز کو بتاتے ہیں کہ اس پینٹنگ کی تہہ میں کیا چھپا ہو سکتا ہے۔ لیکن ریمبراں، وان گو اور راجہ روی ورما ان رازوں کو ظاہر کرنے کا گن جانتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی ٹیکنالوجی نے ری سرچرز کو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ان شاہکاروں کے نیچے موجود تصاویر کو دوبارہ تخلیق کر سکیں۔

مثال کے طور پر پکاسو کی 1902 میں سامنے آنے والی پینٹنگ ’دی کروچنگ بیگر‘ کی تہہ میں ایک آرٹسٹ سینتگو روسینول کی پینٹنگ چھپی ہے۔ یہ پکاسو کے ہم عصر تھے اور کتالونیہ کی ماڈرنزم پر مبنی تحریک کے رہنما تھے۔

پینٹنگ کی تہہ میں چھپی اس پینٹنگ کو ریڈیوگرافی، مصنوعی ذہانت اور تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے تلاش کیا گیا ہے۔ اس دریافت کو نیو ماسٹر کا نام دیا جا رہا ہے جو ایک امریکی کمپنی اوکسیا پالوس، مصنوعی ذہانت کی ایک کمپنی اور ایک ڈیجیٹل آرٹ گیلری کے درمیان شراکت پر مبنی ہے۔

اوکسیا پالوس کے شریک بانی انتھونی بوراشد کے مطابق روسینول پکاسو کے ہم عصر تھے لیکن وہ زیادہ معروف نہیں تھے۔ ہم اپنی تکنیکی مہارت سے ان آرٹسٹوں کا کام سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو وہ توجہ حاصل نہیں کر سکے جس کے وہ مستحق تھے۔

ان کے مطابق ’ایسے ہزاروں شاہکار موجود ہیں جنہیں دریافت کیا جانا باقی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی