بھارت میں 14 ہزار لوگوں کو مفت اردو سکھانے والے استاد

بھارت کے استاد جن سے انجینیئر، ڈاکٹر، وکلا، سرکاری افسر، پولیس اہلکار اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد اردو سیکھ چکے ہیں۔

محمد قمر حیات کہتے ہیں کہ میں اردو کی آڑ میں محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہوں (ٹو سرکلز ڈاٹ نیٹ)

’اس وقت میری عمر 76 سال ہے۔ گذشتہ زائد از 40 برسوں سے اردو کلاسیں لے رہا ہوں۔ اب تک 14 ہزار سے زیادہ غیر اردو داں حضرات کو اردو لکھنا پڑھنا سکھا چکا ہوں۔ میں نے اس کے عوض آج تک کسی سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ہے۔‘

یہ بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگپور کے رہنے والے محمد قمر حیات ہیں جو سنہ 1979 سے شہر کے جھانسی رانی چوک سیتا برڈی میں واقع ودربھ ساہتیہ سنگھ نامی ادارے میں غیر اردو داں افراد کو مفت اردو سکھا رہے ہیں۔

قمر حیات نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ان کے پاس اردو زبان سیکھنے کے لیے آنے والے 75 فیصد افراد مراٹھی زبان بولنے والے غیر مسلم ہوتے ہیں۔

’سنہ 1979 سے لے کر اب تک 108 بیچز کو اردو لکھنا پڑھنا سکھا چکا ہوں۔ اردو سکھانے کا ایک ایسا جذبہ رکھتا ہوں جو مجھے تھکنے نہیں دیتا۔ میری کلاس ایک گھنٹے کی ہے لیکن دو گھنٹے تک میں تھکتا ہوں نہ سامنے بیٹھے میرے طلبہ۔

’میری ایک عادت ہے کہ میں کبھی بیٹھ کر نہیں پڑھاتا۔ کئی بار بخار، سر درد اور دوسری معمول کی بیماریوں سے متاثر ہوا لیکن کبھی کلاس لینا نہیں چھوڑا۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ ایک ایسے شہر میں اردو سکھانا کیسے ممکن ہوا جس میں سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ہیڈکوارٹر واقع ہے اور جو اس کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

قمر حیات کا اس کے جواب میں کہنا تھا: ’لوگوں کو آر ایس ایس کا نام سن کر تھوڑا عجیب لگتا ہے لیکن ہمارے ہاں ناگپور میں سبھی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور وہ بھی بڑے ہی دوستانہ ماحول میں۔ کبھی کسی نے میرے اردو سکھانے پر اعتراض نہیں کیا ہے۔ مجھے تو اس کام کے لیے یہاں کے اکثریتی طبقے نے ہی جگہ فراہم کی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اردو کو اگر نقصان پہنچا ہے تو اس کے ذمہ دار خود اردو والے ہیں۔

’ناگپور کی سرکار زبان مراٹھی ہے۔ لیکن یہاں کے مراٹھی بولنے والے لوگ اردو کو بہت پسند کرتے ہیں۔ وہ اس زبان کو سیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اردو سکھانے کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے۔‘

اردو کلاسوں کی ابتدا

سنہ 1945 میں ناگپور میں جنم لینے والے محمد قمر حیات سنہ 1973 میں سرکاری سکول ’کارپوریشنز اردو سکول‘ میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے اور سنہ 2003 میں سبکدوش۔

’کارپوریشنز اردو سکول میں پڑھانے کے دوران میرے غیر اردو داں حضرات سے دوستانہ مراسم قائم ہوئے۔ وہ مجھ سے اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم بھی اردو زبان سیکھنا چاہتے ہیں، لیکن کوئی سکھاتا نہیں۔ مجھے احساس ہوا کہ کچھ کرنا میرا فرض بنتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'ہمارے ہاں ڈاکٹر منشا الرحمن خاں منشا اردو زبان کے ایک بڑے شاعر تھے۔ ناگپور میں قائم مراٹھی زبان کے مشہور ادارے ودربھ ساہتیہ سنگھ میں ان کی اچھی جان پہچان تھی۔ انہوں نے مجھے وہاں جگہ دلوائی اور میں نے اردو کلاسز شروع کر دیں جو الحمد اللہ آج بھی جاری ہیں۔

’سنہ 1979 کے پہلے بیچ میں 180 لوگوں نے داخلہ لیا۔ مجھے بڑی گھبراہٹ ہوئی کہ 180 لوگوں کو میں ایک ساتھ کیسے پڑھا سکتا ہوں۔ میں نے ڈاکٹر منشا الرحمن خاں اور محمد خضر حیات سے کہا کہ مجھے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک ساتھ پڑھانے میں گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے۔

’انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ ان 180 لوگوں میں سے کوئی اردو زبان نہیں جانتا اور اردو اگر کوئی جانتا ہے تو وہ میں ہوں۔ اس بات سے مجھے بہت حوصلہ ملا اور میں نے پڑھانا شروع کر دیا اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔‘

قمر حیات کہتے ہیں کہ انہوں نے اردو زبان سکھانے کا ایک انوکھا طریقہ اپنایا ہے جو کسی کتاب میں نہیں ملتا۔

’طلبہ کو بوریت سے بچانے کے لیے بیچ میں اردو زبان کے اشعار اور لطیفے بھی سناتا ہوں۔ ایسا کرنے سے میرے طلبہ کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ ڈیڑھ دو گھنٹے کیسے بیت گئے۔ میں تین ماہ کا کورس کراتا ہوں اور ان تین ماہ کے اندر ایک خواہش مند طالب علم آسانی سے اردو لکھنا پڑھنا سیکھ جاتا ہے۔‘

قمر حیات کہتے ہیں کہ وہ اپنے طلبہ کے سامنے جو اشعار پڑھ کر سناتے ہیں ان سے قومی یکجہتی اور آپسی بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔ مثال کے طور پر

ہر کام محبت سے بنانا سیکھو
انسان کا دکھ درد مٹانا سیکھو

ہے جیت ہی مقصد تو دلوں کو جیتو
دشمن کو بھی سینے سے لگانا سیکھو

(حمید ناگپوری)

اردو زبان کے استاد قمر حیات کے پاس 27 ایسے رجسٹر ہیں جن میں سنہ 1979 سے آج تک ان سے اردو سیکھنے والے سبھی افراد کی تفصیلات موجود ہیں۔

ان سے اردو سیکھنے والوں میں اچھی خاصی تعداد انجینیئروں، ڈاکٹروں، وکلا، سرکاری افسروں، پولیس اہلکاروں اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔

قمر حیات کا کہنا ہے کہ انہوں نے اردو سیکھنے والوں میں یہ تبدیلی پائی کہ وہ بڑے ادب و احترام سے پیش آنے لگتے ہیں۔

’سیکھنے والوں کے جذبے اور دلچسپی کی وجہ سے ہر بیچ کے بعد میرا حوصلہ بلند ہوتا رہا۔ کبھی میرے دل و دماغ میں نہیں آیا کہ مجھے یہ کلاسز لینے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔

’جب مجھ سے کوئی پوچھتا ہے کہ ہندی اور اردو میں کیا فرق ہے تو میں ان سے کہتا ہوں کہ اردو والے خواب دیکھتے ہیں اور ہندی والے سپنا۔ فرق صرف خواب اور سپنا کا ہے باقی سب ایک جیسا ہے۔‘

کچھ یادیں، کچھ باتیں: خود قمر حیات کی زبانی

اردو کلاسیں لینے کا سلسلہ 14 ویں سال میں داخل ہو چکا تھا۔ ایک خاتون، جو ایک سرکاری افسر تھیں، میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ آپ 14 سال سے ایک ہی چیز پڑھاتے بور نہیں ہوئے۔ کہیں آپ اس کی آڑ میں اپنے دھرم یعنی اسلام کا پرچار تو نہیں کر رہے ہیں؟

میں نے اس خاتون افسر سے کہا کہ میرے پاس اس دو مصرعے والے شعر کے علاوہ کوئی جواب نہیں ہے۔

ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

(جگر مراد آبادی)

میں نے ان سے کہا کہ میں اردو کی آڑ میں محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہوں۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ اس پیغام کو کیسے لیتے ہیں۔ میرا مقصد اردو کو فروغ دینا ہے۔ اس لیے کیوں کہ یہ ہندوستان کی زبان ہے۔

مجھ سے ایک بار اردو سیکھنے کی خواہش مند ایک خاتون نے کہا کہ ’اردو تو پاکستان کی زبان ہے۔‘

میں نے پوچھا، ’وہ کیسے؟‘

ان کا جواب تھا کہ ’اس لیے کہ یہ پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔‘

میں نے کہا، ’اردو دکن میں پیدا ہوئی، دلی میں جوان ہوئی اور پھر دنیا کے کئی حصوں میں پھیل گئی۔ ہمارا سر فخر سے بلند ہونا چاہیے کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے جو ہندوستان میں پیدا اور جوان ہوئی۔ یہ کہنا کہ یہ پاکستان کی زبان ہے غلط بات ہے۔‘

میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ تقسیم ہند سے پہلے اردو سبھی مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی زبان تھی، لیکن ما بعد تقسیم ہند یہ زبان سیاست کی شکار ہوئی۔ اس سیاست کی وجہ سے اس زبان کو ایک مخصوص مذہب سے وابستہ کر دیا گیا، لیکن اس کے باوجود آج بھی ہندوستان کے پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے والا وزیر خزانہ اپنی تقریر اردو زبان کے اشعار سے شروع کرتا ہے۔ ہر تین چار منٹ بعد وہ ایک شعر پڑھ کر سناتا ہے۔

مہاراشٹر کے شہر پونے میں مقیم مراٹھی زبان کے اخبار ’لوک مت‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سنجے میشرام نے مجھ سے اردو سیکھی۔ اتنی اچھی سیکھی کہ وہ پاکستانی شاعرہ پروین شاکر کی ایک کتاب کا اردو سے مراٹھی میں ترجمہ کر بیٹھے۔

’میں نے دو ایسی خواتین کو بھی اردو سکھائی جو مقامی عدالتوں میں جج کے عہدوں پر فائز تھیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ اردو سیکھنے کی وجہ کیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ہمارے پاس مسلمانوں کے نکاح سے متعلق معاملات آتے ہیں۔ نکاح نامے دیکھ کر ہمیں محسوس ہوا کہ اردو بھی سیکھنی چاہیے۔ دونوں نے بہت اچھے سے اردو لکھنا پڑھنا سیکھ لی۔

’مجھ سے ایک بار ایک ہندی اخبار کے صحافی نے کہا کہ آپ اردو کو دیوناگری میں کیوں نہیں پڑھاتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا مقصد اردو رسم الخط کو برقرار رکھنا ہے۔ میں اردو کو ہندی میں پڑھا سکتا ہوں لیکن اگر میں نے ایسا کیا تو میرا بنیادی مقصد دم توڑ جائے گا۔

’کچھ سال پہلے یہاں کے محکمہ پولیس نے تفتیشی پولیس اہلکاروں کے لیے اردو سیکھنا لازمی قرار دیا تھا تاکہ وہ کسی کی جیب یا قبضے سے برآمد ہونے والی اردو تحریر پڑھ سکیں۔ مجھے پولیس کمشنر نے بلایا اور 40 اہلکاروں کو اردو سکھانے کو کہا۔ میں نے ان سب کو تین ماہ کے اندر اردو سکھائی۔

’مجھے پھر پولیس کمشنر نے بلایا اور کچھ پیسے دیے۔ میں نے یہ کہتے ہوئے لینے سے انکار کیا کہ میں اردو سکھانے کے عوض پیسے نہیں لیتا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ پیسے حکومت سے آئے ہیں۔ ہم یہ رکھ نہیں سکتے لہٰذا آپ کو یہ لینے ہوں گے۔ بحالت مجبوری میں نے وہ پیسے قبول کیے۔‘

کووڈ کے اثرات

جہاں کرونا (کرونا) وائرس کی وجہ سے زندگی کا ہر ایک شعبہ متاثر ہوا وہیں قمر حیات کی اردو کلاسیں بھی متاثر ہونے سے بچ نہ سکیں۔ اگرچہ معمول کی کلاسیں گذشتہ برس سے بند ہیں، لیکن قمر حیات کسی نہ کسی طریقے سے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

’میں کووڈ کے دوران بے کار اور خاموش نہیں بیٹھا رہا۔ میں فون پر لوگوں کی رہنمائی کرتا ہوں اور میرے پاس روزانہ کی بنیاد پر کئی فون آتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بالی وڈ میں جانے کے لیے اپنا تلفظ درست کرنے کی خاطر مجھے فون کرتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو اپنے گھر بلا کر انہیں تربیت دیتا ہوں۔

’میں بہت جلد ودربھ ساہتیہ سنگھ کے منتظمین سے بات کر کے معمول کی اردو کلاسیں بحال کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ مزید لوگ بھی سامنے آئیں گے اور اردو سکھانے کا کام کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی