جب کشور کمار کی آنکھیں گیت سن کر بھیگ گئیں

موسیقار ایس ڈی برمن اپنے مخصوص انداز میں گانا گا رہے تھے اور ادھر کشور کمارنے اسے سنتے سنتے آنکھیں موند لیں اور پھر ان کا سر بھی جھکتا چلا گیا۔ کشور کمار تب چونکے جب ایس ڈی برمن نے ان سے پوچھا کہ ’تو پھر تیار ہو، ریکارڈنگ کرانے کے لیے؟ ‘

کشور کمار کی فنی نشو و نما ایس ڈی برمن کے سائے میں ہوئی (فائل فوٹو: پبلک ڈومین)

کمرے میں سچن دیو برمن، نغمہ نگار یوگیش، راہل دیو برمن اور کشور کمار بیٹھے تھے۔ اس بیٹھک کو سجانے کا مقصد زیرتکمیل فلم ’ملی‘ کے گیتوں کو حتمی شکل دینا تھا۔

سچن دیو برمن یعنی ایس ڈی برمن کشور کمار کے پارکھ تھے اور انہی نے نہ صرف کشور کمار کو بطور پلے بیک گلوکار متعارف کروایا تھا بلکہ ان کی آواز کو نکھارنے اور اس کی نوک پلک درست کرنے میں بھی سب سے بڑا ہاتھ ایس ڈی برمن کا تھا۔

ایس ڈی برمن گیت بناتے وقت تو گلوکار کی آواز کو ذہن میں رکھتے ہی تھے، مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ جب طرز بن کر تیار ہوتی تو وہ طے شدہ گلوکار کو ہٹا کر اسی کا انتخاب کرتے، جو وہ یہ سمجھتے کہ فلاں گلوکار اس دھن کے ساتھ بہتر طریقے سے انصاف کر سکتا ہو۔

کشور کمار بڑی بے چینی اور بے تابی سے ایس ڈی برمن کی دھن سننا چاہتے تھے جس کے لیے انہیں طلب کیا گیا تھا۔ وہ یہ جانتے تھے کہ جس فلم کے لیے وہ پس پردہ گلوکاری کرنے والے ہیں اس میں امیتابھ بچن پر ان کی آواز استعمال ہو گی۔

1975 کا یہ وہ دور تھا جب بیشتر موسیقار یہ مانتے تھے کہ کشور کمار کی آواز سب سے زیادہ امیتابھ بچن کے لیے مناسب ہے۔

کشور کمار نے پہلو بدل کر دریافت کیا، ’دادا دھن تیار ہے؟‘

ایس ڈی برمن نے ان کے سوال کو نظر اندا ز کر کے بنگالی لب و لہجے میں وہ گیت سنانا شروع کر دیا جس کے لیے کشور کمار کو مدعو کیا گیا تھا۔

یہ ایس ڈی برمن کی عادت تھی کہ وہ گیت کمپوز کرنے سے پہلے تیار طرز پر خود گلوکاری کرتے اور جب یہ ’ڈمی گیت‘ گلوکار کو سناتے تو بغور اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیتے کہ گیت سن کر اس پر کیا کیفیت طاری ہوتی ہے۔

غالباً ان کی اسی عادت کی بنا پر کئی بار ایسا بھی ہوا کہ انہیں یہ لگا کہ جس مہارت اور ڈوب کر متعلقہ گیت کو وہ گنگنا رہے ہیں، ممکن ہے کوئی اور گلوکار ان لفظوں اور دھن کی پاس نہ رکھ پائے۔ اسی لیے کئی گیت خود انہوں نے فلموں میں خود بھی گائے، جیسے فلم ’بندنی‘ کا ’میرے ساجن ہیں اس پار‘ یا پھر ’سجاتا‘ کا سن ’میرے بندھو رے‘ یا پھر ’گائیڈ‘ کا ’وہاں کون ہے تیرا مسافر جائے گا کہاں۔‘

ایس ڈی برمن اپنے مخصوص انداز میں گانا گا رہے تھے اور ادھر کشور کمار نے اسے سنتے سنتے آنکھیں موند لیں اور پھر ان کا سر بھی جھکتا چلا گیا۔ کشور کمار تب چونکے جب ایس ڈی برمن نے ان سے پوچھا کہ ’تو پھر تیار ہو، ریکارڈنگ کرانے کے لیے؟‘

یوگیش، راہل دی برمن اور خود ایس ڈی برمن کے لیے وہ لمحہ بڑا حیران کن تھا، جب انہوں نے دیکھا کہ کشور کمار نے سر اٹھایا توان کی آنکھیں نم تھیں۔ انہوں نے ہاتھوں سے آنسوؤں کو صاف کیا اور پھر اچانک اٹھتے ہوئے بولے، ’دادا میں تیار نہیں ہوں۔ جب ہو جاؤں گا تو ضرور ریکارڈ کرادوں گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشور کمار سب کو ہکا بکا چھوڑ کر بھیگی آنکھوں کے ساتھ محفل سے چلے گئے۔ شرکا کو احساس ہو گیا کہ اس گیت نے کشور کمار کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ گلوکار جب تک گیتوں اور دھن کی کیفیت اپنے اوپر طاری نہ کرلیں، ریکارڈنگ پر آمادہ نہیں ہوتے، اسی لیے کسی نے زیادہ اصرار بھی نہیں کیا۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ کشور کمار کی رخصتی کے چند لمحے بعد ہی ایس ڈی برمن کو دل کا دورہ پڑا۔ انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں وہ دیکھتے ہی دیکھتے کوما میں چلے گئے۔

اِدھر کشور کمار کو یہ خبر ملی تو ان کے دل میں بس یہی ملال رہا کہ کاش وہ اس دن گیت ریکارڈ ہی کرا لیتے، اس طرح کم از کم اپنے پسندیدہ موسیقار کے آخری گیت کو گانے کا موقع ہی مل جاتا۔

ہسپتال میں ایس ڈی برمن کا علاج چل رہا تھا۔ اب یہ کشور کمار کی خوش قسمتی ہی کہیے کہ نغمہ نگار یوگیش کے پاس ایک ٹیپ موجود تھا جس میں ایس ڈی برمن نے یہ گیت ریکارڈ کرا دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس خیال سے اگر ان کی غیر موجودگی میں کشور کمار آئیں توان کے بیٹے راہل دیو برمن سنا دیں۔

اب اس ٹیپ کو نکالا گیا اور پھر سازندوں کو ریکارڈنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم ملا۔

کشور کمار اس دوران ہسپتال بھی گئے جہاں انہوں نے کوما میں پڑے ایس ڈی برمن کے کان میں سرگوشی کی، ’دادا، فکر مت کرنا، اب میں آپ کے گیت کی ریکارڈنگ کے لیے تیار ہوں۔‘

راہل دیو برمن نے والد کی دھن کو معمولی سی نوک پلک کرنے کے ساتھ کشور کمار کی آواز میں بھاری اور غمگین دل کے ساتھ یہ گیت ’بڑی سونی سونی ہے زندگی یہ زندگی‘ ریکارڈ کیا، جس کے دوران ریکارڈنگ سٹوڈیو میں ہر آنکھ اشکبار تھی کیونکہ اس کے ہر بول سے کومے میں مبتلا ایس ڈی برمن کی یاد ستا رہی تھی، بالخصوص ’نہ کر مجھ سے غم مرے دل لگی یہ دل لگی۔‘

فلم ’ملی‘ کے باقی گیت راہل دیو برمن نے ہی ’ری ارینج‘ کیے۔ جب فلم 20 جون 1975 کو ریلیز کی گئی تو جہاں اس کے دیگر گیتوں جیسے ’آئے تم یاد مجھے،‘ یا ’میں نے کہا پھولوں سے‘ کے مقابلے میں ’بڑی سونی سونی‘ کو غیر معمولی مقبولیت ملی۔ یہی گیت اور فلم ایس ڈی برمن کی آخری فلم بھی ثابت ہوئی۔

کشور کمار جب بھی کسی کنسرٹ میں اس گیت کو گنگناتے تو وہ اس واقعے کو ضرور بیان کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گانا انہوں نے ایس ڈی برمن کی زبانی جب سنا تو وہ اس میں کھو سے گئے تھے لیکن پتہ نہیں کیوں ریکارڈنگ کرنے کا ان کا من نہیں ہوا، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ اس مدھر اور رسیلے گیت کو اسی وقت گائیں جب وہ ذہنی طور پر تیار ہوں۔

کشور کمار اس گانے کو اپنی زندگی کے بہترین گانوں میں سے ایک قرار دیتے تھے، جس میں ایس ڈی برمن سے ہمیشہ کے لیے جدائی کا درد اور رنج بھی ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کہیں یہ گیت گونجے تو ایس ڈی برمن سے محبت کرنے کا اظہار آنسوؤں کی لڑیوں کی صورت میں رواں ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی