پہاڑی علاقوں کی سیاحت کے دوران ان 8 باتوں کا خیال رکھیں

اگر آپ بھی سیاحت کی غرض سے کسی پہاڑی علاقے میں جانا چاہتے ہیں تو چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خود کو اور دوسروں کو پریشانی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

پہاڑی علاقوں کا موسم آپ کی توقع سے زیادہ ٹھنڈا، سڑکیں خطرناک اور پانی گہرا ہو سکتا ہے (فوٹو: جلال الدین مغل)

عید کے دورن پاکستان اور پاکستان کےزیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقامات پر بھیڑ بھاڑ دیکھنے میں آئی ہے۔ سکولوں میں گرمی کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی والدین اپنے بچوں کے ساتھ اور نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ شہروں کی گرمی سے دور سرد اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے پہاڑی سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں اور یہ سلسلہ ستمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ بڑے شہروں سے آنے والے اکثر سیاح ناکافی معلومات، نامکمل تیاری،  راستوں سے ناواقفیت اور احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے کے باعث نہ صرف خود مختلف نوعیت کی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ اپنے خاندان اور مقامی لوگوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔

اگر آپ بھی سیاحت کی غرض سے کسی پہاڑی علاقے میں جانا چاہتے ہیں تو یہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے آپ خود کو اور دوسروں کو پریشانی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

1۔ جانے سے پہلے معلومات

اپنا پروگرام ترتیب دینے سے قبل جس جگہ آپ جانا چاہتے ہیں اس سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کر لیں۔ بہت ساری معلومات انٹرنیٹ پر میسر ہیں تاہم ان میں سے درست اور غلط کا انتخاب بسا اوقات مشکل ہو جاتا ہے لہٰذا بہتر ہے کہ سرکاری اداروں سے مصدقہ معلومات حاصل کریں اور انہی پر انحصار کریں۔ سوشل میڈیا پر سیاحت سے متعلق درجنوں گروپ موجود ہیں وہاں سے مفید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ سیاحتی رضاکار بلامعاوضہ آپ کو یہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔

2۔ رہائش کا انتظام

گرمیوں کے موسم میں سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی بھیڑبھاڑ ہوتی ہے۔ اس لیے سفر پر جانے سے پہلے اپنے لیے رہائش کا انتظام یقینی بنا لیں تاکہ وہاں جا کر آپ کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کئی علاقوں میں ہوٹل اور  گیسٹ ہاؤس اب booking.com جیسی ویب سائٹس کے ذریعے بکنگ کرتے ہیں تاہم اکثر علاقوں میں اس طرح کی سہولیات میسر نہیں۔ ان علاقوں میں مقامی سطح پر کام کرنے والے ٹور آپریٹر آپ کے معاون ہو سکتے ہیں۔

3۔ پہاڑی راستوں پر ڈرائیونگ

اگر آپ خود گاڑی چلا رہے ہیں تو محتاط رہیں۔ پرپیچ پہاڑی راستوں پر اچانک سامنے آنے والے موڑ اور دو طرفہ ٹریفک میں ڈرائیونگ آپ کے لیے کافی مشکل ہو سکتی ہے۔ رات کے وقت سفر کرنے سے گریز کریں۔ اگر آپ نے مرکزی شاہراہوں سے ہٹ کر کچے پہاڑی راستوں پر سفر کرنا ہے تو خود گاڑی چلانے کے بجائے مقامی ڈرائیوروں اور گاڑیوں پر انحصار کریں ۔ تاہم  کسی بھی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اطمینان کر لیں کہ یہ گاڑی ہر لحاظ سے سفر کے لیے موزوں ہے۔ پرانی، کھٹارا اور ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں پر سفر سے اجتناب کریں کیوں کہ یہ اکثر اوقات حادثات کا سبب بنتی ہیں۔  کئی سیاحتی مقامات پر پٹرول پمپ دستیاب نہیں ہوتے لہٰذا پریشانی سے بچنے کے لیے گاڑی میں ایندھن کا معقول ذخیرہ رکھیں۔

4۔ نقشہ بہت ضروری ہے

راستوں سے واقف نہ ہونے کی صورت میں اس علاقے کا نقشہ خرید کر اپنے پاس رکھیں۔ گوگل میپ بہترین مددگار ہے مگر جہاں انٹرنیٹ میسر نہ ہو وہاں یہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ بیشتر پہاڑی علاقوں میں انٹرنیٹ میسر نہیں۔

5۔ پانی سے ہوشیار

اپنے بچوں اور خواتین کو دریا، ندی نالوں اور جھیلوں کے قریب جانے یا پانی میں اترنے سےمنع کریں۔ ان علاقوں میں پانی ناقابل برداشت حد تک ٹھنڈا، توقع سے زیادہ گہرا اور بہاؤ تیز ہو سکتا ہے۔  سیاح، خاص طور پر بچے اور خواتین عدم واقفیت کی وجہ سے  سیلفیاں لینے کے چکر میں دریا میں اتر جاتے ہیں اور حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کشتی رانی یا دیگر واٹر سپورٹس سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو لائف جیکٹ کا استعمال ضرور کریں اور یہ اطمینان کر لیں کہ جس کشتی، رافٹ یا واٹر سکوٹر پر آپ بیٹھ رہے ہیں وہ محفوظ ہے اور ریسکیو اہکار ارد گرد موجود ہیں۔

6۔ سردی سے حفاظت کا انتظام

سردی سے حفاظت کا خاطر خواہ انتظام کر لیں۔ بارش سے بچنے کے لیے چھتری اور برساتی ساتھ رکھیں۔ عموماً خواتین اونچی ایڑی والے جوتے پہن کر پہاڑی علاقوں میں چلی جاتی ہیں۔ کوشش کریں کہ جوگر پہن کر جائیں یا کم از کم ساتھ رکھیں۔ اگر آپ ہائیکنگ کا ارادہ رکھتے ہیں تو چھڑی ضرور ساتھ لے جائیں۔ آپ اکیلے سفر کر رہے ہوں یا پھر فیملی اور دوستوں کے ساتھ، ابتدائی طبی امداد کا سامان اور بنیادی ضرورت کی  ادویات ہر صورت اپنے ساتھ رکھیں۔

7۔ مقامی رسم و رواج کا احترام کریں

ہر علاقے میں لوگوں کا طرز زندگی، ثقافت اور رسوم و رواج مختلف ہوتے ہیں۔ ان کا احترام کریں۔ کئی سیاحتی مقامات پر دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاح بغیر اجازت مقامی خواتین اور بچوں کی تصاویر کھینچتے ہیں۔ اکثر پہاڑی علاقوں میں اس کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کسی سے اجازت لیے بغیر، یا خفیہ طور پر تصاویر اتارنے سے اجتناب کریں یہ آپ کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

8۔  سیلفی، مگر دیکھ کے 

فوجی تنصیبات اور مقامی خواتین کی فوٹوگرافی سے گریز کریں۔ سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے آپ سے باربار شناخت پوچھی جا سکتی ہے، اس لیے اپنی شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کی صورت میں مقامی پولیس اور محکمہ سیاحت سے رابطے میں رہیں۔ پاکستانی فوج کی قریب ترین چوکی بھی آپ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ