ممکنہ ہلاکتوں کے پیش نظر ایران پر حملے کا فیصلہ ترک کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

ایران پر حملے کا حکم دینے اور پھر روک دینے کے بعد اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ممکنہ ہلاکتوں کو دیکھتے ہوئے انھوں نے یہ فیصلہ ترک کیا۔

(اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حکم دینے اور پھر روک دینے کے بعد اب انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ممکنہ ہلاکتوں کو دیکھتے ہوئے انھوں نے یہ فیصلہ ترک کیا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی صبح ایران پر حملے کی منظوری دی لیکن پھر اچانک ہی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم اب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تازہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’پیر کو بین الاقوامی پانیوں میں اڑنے والے ایک ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد ہم گذشتہ رات تین مختلف مقامات پر جوابی کارروائی کرنے کے لیے تیار تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’حملے سے قبل جب میں نے پوچھا کہ اس کارروائی میں کتنی ہلاکتوں کا خطرہ ہے تو ایک جنرل نے جواب میں بتایا کہ سر 150۔‘

’لہذا حملے سے 10 منٹ قبل میں نے فیصلہ ترک کر دیا۔‘

اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ ’ایک ڈرون کو مار گرائے جانے کا جواب دینے کی مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’ہماری فوج تیار ہے، نئی ہے اور دنیا کی بہترین فوج ہے۔  پابندیاں انھیں تنگ کر رہی ہیں اور گذشتہ رات مزید لگا دی گئی ہیں۔‘

’ایران امریکہ اور دنیا کے خلاف کبھی جوہری ہتھیار استعمال نہیں کر سکے گا۔‘

ادھر سابق صدر براک اوباما کے نائب مشیر بین روڈیز نے صدر ٹرمپ کو قومی سلامتی کے لیے واضح خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی زیر قیادت سلامتی امور پر فیصلہ سازی میں مربوط اور معقول پالیسی کا فقدان ہے: ’ہم اس کی جھلک موجودہ بحران میں دیکھ سکتے ہیں۔‘

اس دوران فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے تمام امریکی آپریٹرز کے خلیج عرب اور خلیج عمان کے اوپر ایرانی فضائی حدود سے طیاروں کے گزرنے پر پابندی لگا دی ہے۔   

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ جوابی حملے کو روکنے کے حکم کے بعد امریکی حکومت نے تہران کو خبردار کرنے اور بحران کی شدت میں کمی کی خاطر مذاکرات کرنے کے لیے عمان سے رابطہ کیا تھا۔

طیارے فضا میں تھے، بحری جہازوں نے پوزیشنیں سنبھال لی تھیں

اس سے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ ایرانی ریڈاروں اور میزائل بیٹریوں جیسے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ نے تیاری مکمل کر لی تھی، طیارے فضا میں تھے اور بحری جہازوں نے پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔

لیکن اس سے پہلے کہ میزائل فائر کیے جاتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آپریشن کو آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ صدد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ذہن تبدیل کیا یا حملہ آپریشنل یا سٹرٹیجک بنیادوں پر ترک کیا گیا۔ اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق جس وقت  صدر ٹرمپ ایران پر حملے میں آگے بڑھنے کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے، ہوا بازی کے امریکی ادارے نے ایک ہنگامی حکم جاری کیا جس کے تحت امریکی آپریٹروں کو خلیج عرب اور خلیج عمان کی ایرانی کنٹرول میں فضائی حدود میں پرواز سے روک دیا گیا۔

اس حکم کے بعد امریکی فضائی کمپنی یونائیٹڈ ایئرلائنز نے بھارتی شہر ممبئی اور امریکی ریاست نیوجرسی کے شہر نیویارک کے درمیان وہ پرواز سکیورٹی خدشات کی بنیاد پرمعطل کر دی جو ایران کے اوپر سے گزرتی ہے۔  

حملے کا مقصد کیا تھا؟

یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کے بعد ایران پر حملے میں پیش رفت ہونی تھی یا صدر حقیقت میں اپنی فوج کو استعمال کیے بغیر ایران کو ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جمعرات کو رات گئے وائٹ ہاؤس نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ آیا صدر نے ایران پر حملے کے معاملے میں اپنا ذہن تبدیل کر لیا تھا۔

اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح ایران پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ یہ منصوبہ اس طرح بنایا گیا کہ حملے کی صورت میں ایرانی شہریوں کا کم سے کم نقصان ہو۔ لیکن تھوڑی ہی دیر میں حملہ ترک کر دیا گیا کم از کم عارضی طور پر۔

یہ انکشاف صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملے جلے اشاروں کے دن ہوا ہے جب وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے ملاقات کے موقع پر صدرڈونلڈ ٹرمپ کی رپورٹروں سے بات چیت کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈرون گرائے جانے کے بعد فوجی جواب کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ چل جائے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لہجہ ان کی انتظامیہ کے متعدد ارکان سے مختلف ہے جن میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن بھی شامل ہیں، جن کا ایران کے حوالے سے موقف گذشتہ برس امریکہ کے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے صدارتی فیصلے کے بعد سے سخت ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے امریکی ڈرون گرانا نیا مسئلہ ہے اور ایران اس کے خلاف رد عمل کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا۔

جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ارکان کانگریس سے ملاقات کی جس میں ایران کے ساتھ تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران بری طرح متاثر ہو رہا ہے جبکہ امریکہ نے اس کے خلاف مبینہ طور پر غلط اطلاعات کی جنگ بھی شروع کر رکھی ہے۔

ارکان کانگریس سے ملاقات کے بعد اعلیٰ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پہلے انہیں کانگریس کی منظوری لینی ہو گی۔

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے معاملے پر اتحادیوں سے بات کرنے سمیت اورکشیدگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے۔

عالمی ردعمل

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی پر عالمی رہنماؤں نے مسٔلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک اور دیگر یورپی ممالک امید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کا سیاسی حل نکال لیا جائے گا۔

برسلز میں صحافیوں سے گفتگو میں مرکل نے بتایا کہ یورپین کونسل اجلاس کے موقع پر یورپی حکومتوں کے خارجہ امور کے مشیروں نے خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سائیڈ لائن ملاقاتیں کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فطری طور پر ہم (خلیج کی) صورتحال پر پریشان ہیں اور ہم اس انتہائی کشیدہ صورتحال میں سیاسی حل کے لیے سفارتی طور پر مذاکرات کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

دوسری جانب بھارت نے اس صورتحال کے پیش نظر خلیجِ عمان میں اپنے دو بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔

بھارتی بحریہ کے ترجمان دلیپ کمار شرما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میری ٹائم سکیورٹی آپریشنز جاری رکھنے کے لیے بھارتی بحریہ کے دو جہاز ’چنئی‘ اور ’سوناینا‘ کو خلیج عرب اور خلیج عمان میں تعینات کیا گیا ہے جو بھارتی تجارتی جہازوں کی حفاظت کے علاوہ دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون بھی کریں گے۔‘

اس کے ساتھ بھارتی لڑاکا طیارے بھی مسلسل فضائی نگرانی میں مصروف ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ