ڈنگر پیر، بزرگوں کی عزت اور ساشا دی ڈاگ

آدمی میل ملاقات اور رکھ رکھاؤ کا اچھا ہو تو کتے بلاقیمت مل جاتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست تو اسی بات کو شکاریوں کے باہم خوشگوار انسانی تعلقات کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔

ہر ریوڑ میں ایک آدھ کتا لازمی ہوتا تھا جس کے بھروسے کھیت کھیت گھومتے چرواہے کسی درخت کی چھاوں میں بے فکر پڑے دو گھڑی آنکھ لگاتے اور تازہ دم ہو کر اٹھتے تھے۔

ایسا نہیں کہ خاندان میں مجھ سا شخص پہلے کبھی پیدا ہی نہ ہوا ہو اور نہ ہی اس میں کچھ حقیقت ہے کہ میرے بزرگوں نے کبھی جانور نہ پالے ہوں۔ دیہی پنجاب کی زرعی زندگی میں زمین ماں تھی تو ڈھور ڈنگر ماں جائے جیسے تھے۔ گائے بھینس کی ملکیت نیک بختی سمجھی جاتی اور ان کا دودھ خدا کا نور کہلاتا تھا۔ ہل کے بیل تو ایسی عزت پاتے جس کے لیے آج کل کے اکثر بزرگ ترستے ہیں۔

ڈھور ڈنگروں میں سے کوئی بیمار پڑتا تو پورا گھر بےقرار ہو جاتا تھا۔ اس نزاکت کا اندازہ یوں بھی لگائیے کہ ایسے پیر بزرگ ہوتے تھے جو ’ڈنگر پیر‘ کہلاتے اور تن تنہا ہی آج کل کے عامل اور ویٹرنری اسپیشلسٹ کے متبادل تھے۔ میں نے اوائل بچپن میں ایسے ہی ایک پیر صاحب کو سال بہ سال اپنے گھر آتے دیکھا ہے۔ وہ حلال جانوروں پر کلام شریف پڑھتے نیز دم کیا پانی باڑے کی دیواروں اور چھت پر چھڑکتے جاتے۔ رخصت ہوتے ہوئے کوئی چھوٹا سا جانور، اصیل مرغ یا دیسی گھی کی شیرینی لیتے جاتے تھے۔

کوئی جانور مرتا تو گھروں میں سوگ طاری ہو جاتا تھا۔ عزیز و اقارب تعزیت کو آتے تھے۔ حلال جانوروں کے علاوہ گدھا اور کتا بھی اس منظر نامے کے اہم کردار تھے۔ ایک بار بردار تھا تو دوسرا چوکیدار۔ جنگل بیلے کافی حد تک سلامت تھے۔ مضافاتی ڈیروں کے قریب للچائے بھیڑیے گھوما کرتے جو موقع پاتے ہی بھیڑ بکری اٹھا لے جاتے تھے۔ ایسے میں کتے کسان اور اس کی املاک کے جانثار محافظ تھے جو فرض کی ادائیگی میں جان لڑا دیتے تھے۔

ہر ریوڑ میں ایک آدھ کتا لازمی ہوتا تھا جس کے بھروسے کھیت کھیت گھومتے چرواہے کسی درخت کی چھاؤں میں بے فکر پڑے دو گھڑی آنکھ لگاتے اور تازہ دم ہو کر اٹھتے تھے۔ چوکیداری کے یہ کتے روکھی سوکھی کھا کر بھی مالک و اموال سے ابدی وفاداری کا استعارہ تھے۔ غالب نے جس شدتِ اندیشہ سے آدمی کے انسان نہ ہو سکنے پر رنج کیا تھا بابا بلھے شاہ نے اسی مقامِ تسلی سے ان کتوں کو آدمی سے بلند قرار دیا تو کچھ ایسا غلط بھی نہ کیا۔ کتے مالک کے جانثار غلام ہی نہ تھے ہوشیار نگران بھی تھے۔ تنور سے گھر بھر کی روٹیاں پکتیں تو ساتھ ہی کتے کی روٹی بھی لگائی جاتی تھی۔

الغرض تب ان ڈھور ڈنگروں میں بھی حفظ مراتب پایا جاتا تھا۔ نانا بتاتے تھے کہ ان کے زمانے تک گدھوں کی خرید و فروخت کا رواج بالکل نہ تھا۔ اکثر کسانوں کے پاس کچھ اضافی گدھے ہوتے، جب کسی کو ضرورت پڑتی وہ مانگ لیتا اور ہنکا لے جاتا تھا۔ ہمارا دور آتے آتے گدھوں کا سماجی مقام بھی بدل چکا تھا۔ اب گدھوں کی قیمت ان سکوٹروں سے بھی کم ہے جو ان سادہ لوح کسانوں کو کبھی نصیب نہ ہوئے تھے۔

کتوں کا معاملہ مگر اب بھی کم و بیش وہی ہے اور دیہات میں یہ مالک سے محض تعلق کی رعایت سے ہی مل جاتے ہیں۔ شکاری کتوں کے شوقین حضرات اردگرد کی ماداؤں اور ان کی زچگی کی تفصیلات سے بالاہتمام باخبر رہتے ہیں اور پلوں کی انکھیں کھلنے سے قبل ہی مانگ اٹھانے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ آدمی میل ملاقات اور رکھ رکھاؤ کا اچھا ہو تو کتے بلاقیمت مل جاتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست تو اسی بات کو شکاریوں کے باہم خوشگوار انسانی تعلقات کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔

ہمارے نانا دادا کھیت کے کسان تھے جنہوں نے عمر بھر ہل چلایا تب کہیں اپنے بچوں کو قلم گھسیٹنے کی منزل تک پہنچایا۔ پسینے سے سیاہی تک کا یہ سفر ایک سے دوسری نسل کی داستان ہے۔ اماں ابا کھیت سے کٹے ہوئے سرکاری ملازمتوں میں مصروف پنجاب کی وہ نوزائیدہ مڈل کلاس تھے جو ایوب دور کی دور رس تبدیلیوں کے سبب پیدا ہوئی تھی۔ اسی دور میں پکی سڑکیں بننا شروع ہوئیں، تازہ تازہ آئی بسیں اپنے ساتھ شہروں کو ہجرت کے جواز بھی لائیں۔ باڑے کم ہوتے گئے، کسان تنگ دست ہوا تو ڈھور ڈنگر کنبے کے ارکان کی بجائے لائیو سٹاک کے کاروباری رجحان میں بدل گئے، گوالوں کی ثقافت پیدا ہوئی اور گدھوں کی منڈیاں لگنے لگیں۔ اسی درمیانی نسل میں شہری و کاروباری نفسیات، کیریئر ازم اور کٹر مذہبیت کی اقدار پیدا ہوئیں۔ جنگل بیلے صاف ہوتے گئے، بھیڑیے ناپید ہوئے، ساتھ ہی چرواہے اور ریوڑ کا دور بھی قصہ ماضی بن گیا۔ رہائشی کالونیاں شہروں سے تجاوز کرتے کرتے دیہاتوں سے آن ملیں تو چوکیداری کے کتے کی جگہ آوارہ کتوں کے غول دکھائی دینے لگے۔ غالب کا رنج اور بلھے شاہ کی تسلی دونوں ہی بیکار باتیں بن کر رہ گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کھیت کے کسانوں کی اس ملازمت پیشہ نسل سے عہد حاضر تک آتے آتے وقت بالکل ہی بدل گیا۔ شہر ترک سکونت کر کے آئی آبادی سے اٹ گئے، تعلیم عام ہوئی تو افراد کی ہنرمنڈیاں سج گئیں۔ مقابلہ بازی اور کیریئرازم نے گنجان آباد شہروں میں بیگانگی کی فصل پروان چڑھائی، نقل و رسل جدید تر ہوئی مگر لوگ ایک دوسرے سے کٹتے گئے۔ شہروں کے عمودی فلیٹوں کے مکین پاس پاس رہ کر بھی تنہا و لاچار رہ گئے۔ پچھلی نسل تک محض ڈھور ڈنگر لائیو سٹاک بنے تھے، ہماری نسل نے افراد کی کایا کلپ بھی دیکھ لی۔

یوں وقت کے دوسرے پھیرے نے ڈھور اور مالک کا گھاٹ پھر سے ایک کر دیا۔ ہمارے کسان پرکھوں کے چوکیدار کتے جو ہمارے ملازمت پیشہ والدین کے گھروں میں غیرمتعلق اور نجس قرار پائے تھے اب ہمارے دور میں "پیٹس" بن کر ہماری تنہائی کے نگران قرار پائے۔ زمانے کی قسم! آدمی خسارے میں ہے۔

اگرچہ ہمارا باڑا سلامت تھا لیکن قبلہ والد صاحب کو مذہبی کراہت کے سبب کتے سخت ناپسند تھے۔ وہ نماز پنجگانہ کے علاوہ تہجد اور کثرت تلاوت کے عادی تھے اور اسی سبب لباس اور صحن کی طہارت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ اپنے سکول دور میں جب کبھی کتا پالنے کی ضد کرتا تو والد حوالہ لاتے کہ کتے کی موجودگی میں رحمت کے فرشتے گھر نہیں آتے۔ میرا اصرار پھر بھی نہ تھمتا تو ڈانٹ پڑتی اور بات کچھ برس کے لیے ملتوی ہو جاتی۔ تین چار ایسے مواقع مجھے اب بھی یاد ہیں۔ ایک دفعہ تو میں ایک پلا اٹھا بھی لایا تھا اور اسے دو دنوں تک والد کی نظروں سے چھپائے رکھا مگر پھر راز فاش ہونے پر خود مار کھائی اور پلے کو واپس کرنا پڑا تھا۔

یونہی وقت گزرتا رہا، میں سکول سے کالج اور پھر یونیورسٹی پاس کرگیا۔ والد صاحب کے بال سفید اور طبیعت موم ہوتی گئی۔ سخت تربیتی کی جگہ دوستانہ مزاج آشنائی نے لے لی۔ ہاسٹل لائف میں خیال آتا کہ اب موقع نہیں ملتا ورنہ ایک کتا ضرور پالیں گے۔ کبھی والد صاحب سے ذکر چھڑتا تو وہ بس مسکرا دیتے۔ جوانی کا پہلا عقدہ عموما یہی کھلتا ہے کہ والد تو سدا مہربان ہیں، سختی بس زمانے کا شعار ہے۔

پھر یوں ہوا کہ تعلیم مکمل ہوتے ہی میری بطور لیکچرار فلسفہ تعیناتی ہو گئی۔ سرکاری ملازمت ملتے ہی سماجی مرتبہ اتنا بلند ہو گیا کہ اب جب چاہتا ایک عدد سالم ذاتی کتا پال سکتا تھا۔ اس بات کا احساس تب ہوا جب اپنی ملازمت کی پہلی تعطیلات گرما میں گاؤں واپس آیا اور ایک قرابت دار سے ملنے اس کے ڈیرے پر گیا۔ وہیں میں نے چند ماہ عمر اور سفید رنگ کا وہ شکاری کتا دیکھا جسے عارضی ہی سہی مگر میرا پہلا ’پیٹ‘ بننا تھا۔ وہ عزیز میری سگ پرستی نیز عمومی مزاج سے بھی کماحقہ آگاہ تھے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ کتا ان کی طرف کوئی اور شخص کچھ مدت کے لیے چھوڑ کر گیا ہے اور وہ اپنی مصروفیات کے سبب اس کا خیال رکھنے سے قاصر ہیں تو میں نے فوراً ارادہ ظاہر کر دیا کہ دو ماہ کی تعطیلات کے لیے یہ کتا مجھے سونپ دیجیے۔ یوں میرے شوق کا اعتبار رکھ لیجیے اور اپنے آزار سے بھی چھوٹ جائیے۔

وہ اس قدر جلد مان گئے کہ محتاج و غنی کا فرق مٹ گیا اور کچھ یاد نہ رہا کہ ہم دونوں میں سے کس نے کس کی حاجت روائی کی ہے۔ فیصلہ ہوا کہ اگلے روز ہی میں اس کتے کو جس کا اب تک کوئی نام نہ تھا، اپنی حویلی لے جاؤں گا۔ خوشی خوشی گھر آیا اور آتے ہی سب کو اطلاع دی کہ جب تک ہم ادھر ہیں یوں سمجھیے کہ ایک کتا بھی یہیں ہے۔ سب ہکا بکا سے رہ گئے۔ یہ سب اس قدر عجلت میں ہو رہا تھا کہ مجھے کتے کا نام سوچنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ چنانچہ گوگل پر گیا اور ’کتوں کے تاریخی نام کی لسٹ‘ سرچ کی۔ درجنوں نام آ گئے۔ معلوم نہیں یہ ایک پنجابی کا قومی لاشعور تھا یا کچھ اور کہ میں نے اس لسٹ سے جو نام پسند کیا وہ روسی زبان میں سکندر اعظم کے لیے رائج تھا، ’ساشا۔‘ یوں ہمارے پہلے کتے کا نام رکھا گیا ساشا دی ڈاگ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساشا دی ڈاگ کے ساتھ کیا کیا گزری یہ اگلے بلاگ میں ملاحظہ فرمائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ