خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دیانتداری کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے اور بعض اوقات 12، 13 اور 19 گھنٹے تک مسلسل بات چیت ہوئی، لیکن افغان حکام زبانی یقین دہانی تو کرواتے ہیں مگر تحریری معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
علاقائی سطح پر ایک اور تبدیلی پاکستان کی حیثیت میں اضافہ ہے۔ اب اسے صرف ایک فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خطے میں استحکام کے لیے کردار ادا کر سکتی ہے۔