نئے بلاک، نئی کشمکش

دنیا میں ہونے والی نئی صف بندی نے کروڑوں عوام کو ایک نئے مخمصے میں ڈالا ہے، خاص طور سے مسلم دنیا کو جو ہر نئی پالیسی یا ہر نئے اتحاد کا بہر حال نشانہ ہوتی ہے۔

ہر بڑے یا چھوٹے ملک کی خارجہ پالیسی ایک نئی سمت پر نکل پڑی ہے( اے ایف پی فائل)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


’افغانستان کے تانبے پر چین کی نظریں‘

’پاکستان چین کی محبوبہ ہے‘

’برطانیہ امریکی گود میں پلتاہے‘

’آبدوز کا سودا چھن جانے سے فرانس تنہا رو رہا ہے‘

’بھارت روس کی وساطت سے ایران کے راستے کابل میں داخل ہونا چاہتا ہے۔‘

ایک طرف میڈیا سرکس کی مانند بن گیا ہے جو عوام کو خبروں کی سرخیوں سے ہی اتنا ڈرانے لگا ہے کہ بیشتر لوگ میڈیا اور سوشل میڈیا سے اکتا کر واپس ریڈیو پر موسیقی یا ڈراموں سے دل بہلانے کا ذریعہ تلاش کرنے لگے ہیں تو دوسری طرف اتنے نئے بلاک بننے اور بگڑنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ چند مسلم ملکوں کو مسمار کرنے کے بعد اب کس کی باری ہے؟ یا پھر عالمگیریت کے نظریے کو محدود کر کے اسے اب خاموشی سے لپیٹے جانے کا عمل شروع ہوگیا ہے؟

ہر بڑے یا چھوٹے ملک کی خارجہ پالیسی ایک نئی سمت پر نکل پڑی ہے جس میں خاص طور پر اپنی سرحدوں کو بند کر کے تارکین وطن یا پناہ گزینوں کی حوصلہ شکنی کرنا ترجیح بن رہی ہے۔

تازہ مثال ہیٹی کی ہے جس کے دس ہزار سے زائد افراد میکسیکو کی سرحد پر بے یارو مددگار امریکہ میں داخل ہونے کی تاک میں بیٹھے ہیں جبکہ امریکہ خصوصی طیاروں سے انہیں وطن واپس بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

مغربی ملکوں کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور میں یہ اہم ایجنڈا بننے لگا ہے کہ تعلیم، مکان، روزگار سے لے کر بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے پہلے حق دار ان ملکوں کے پشتینی باشندے بنائے جائیں گے جو ایک دہائی پہلے تک ان ملکوں میں انسانی حقوق کی عالمی پالیسی کی شدید خلاف ورزی تصور کی جاتی رہی ہے۔

ایک اور روش جنم لے رہی ہے کہ روایتی دشمن دوست بن رہے ہیں اور دوست ملکوں کے بیچ دوریاں بڑھ رہی ہیں۔

کل تک جو مسلم ممالک اسرائیل کے وجود کو ماننے سے انکار کر رہے تھے آج وہ ان سے بغل گیر ہو کر تجارتی اور عوامی رابطے بڑھا رہے ہیں۔

جن طالبان کو عالمی سطح پر ’دہشت گرد‘ گردانا جاتا تھا آج امریکہ اس کے ساتھ دوحہ معاہدہ کرتے ہیں اور بیشتر ملکوں کے جاسوسی اداروں کے سربراہان ان سے ملاقات کے لیے کابل پہنچ جاتے ہیں۔

بھارت کا روایتی دوست روس اس کے حریف چین کے انتہائی قریب ہوتا ہے جبکہ بھارت کو امریکہ کی قربت اتنی ہی مہنگی پڑنے لگتی ہے جتنی پاکستان کو ہر دور میں پڑی ہے جس نے سرد جنگ کے دوران روس کے مقابلے میں امریکہ کی قربت حاصل کی تھی۔

ادھر روس اور بھارت کے بیچ میں وہ گرمجوش نہیں رہی ہے جو ایک دہائی پہلے تک نمایاں تھی جب اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر روس بھارت کی کشمیر پالیسی پر اس کے سرہانے کھڑا رہتا تھا۔

ایران اور بھارت کے بیچ میں اچانک پھر قربت دیکھی جا رہی ہے حالانکہ ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد تہران کو امید تھی کہ بھارت اس پابندی کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی منصوبے برقرار رکھے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔

اس میں اسرائیل کی دوستی کا خاصا دخل رہا کیونکہ ایران دنیائے اسلام کا شاید اب واحد ملک ہے جو اسرائیل اور اس کی فلسطین پالیسی کا کٹر مخالف ہے۔ بھارت نے ایران کے مقابلے میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرنے کو ترجیح دی۔

چونکہ بھارت کی افغانستان میں کوئی موجودگی نہیں ہے جو اب ایران کی وساطت سے راستہ تلاش کرنے لگا ہے کیونکہ روس وسط ایشیائی ریاستوں کے ذریعے بھارت کی رسائی حاصل کرنے کی پوزیشن میں شاید نہیں ہے جس میں چین کی تجارتی سرمایہ کاری روڑے اٹکا رہی ہے۔

چین کے بارے میں اس بات پر سبھی کو حیرانی ہے کہ ماضی میں افغان جدوجہد میں ترکستان، کاشغر یا ختن کے مسلمان جنگجو شامل رہے ہیں تو اس وقت چین نے کیسے اس کو فراموش کر کے طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات نہ صرف قائم کیے ہیں بلکہ دل کھول کر مالیاتی امداد دینے کی پیش کش بھی کر دی ہے۔

یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ سینکیانگ کے اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہو رہی مبینہ زیادتیوں پر بھی طالبان نے کیسے آنکھیں بند کرلیں جو مسلم امہ کا درد لے کر بظاہر عالمی طاقتوں کے سامنے برسر پیکار رہے ہیں۔

دی ڈپلومیٹ میں چینی مصنف اور ادارے سیٹیزن پاور انیشیٹیو کی سربراہ جیالانی ینگ لکھتی ہیں چین کو خدشہ ہے کہ ’طالبان کی فتح سے سینکیانگ میں مشرقی ترکستان اسلامی تحریک یا ETIM دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے اور اس کو سنبھالنا مشکل ہوسکتا ہے اسی لیے چینی وزیر خارجہ نے طالبان کے سربراہ سے ملاقات کر کے ان سے معتدل اسلامی پالیسی اختیار کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

دوسرا، چین کا مفاد ون روڈ ون بیلٹ منصوبے تک محدود ہے۔ وہ طالبان سے تحفظ حاصل کرنے کے بدلے میں افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے پر مائل ہے۔ افغانستان میں تانبہ اور قدرتی معدنیات کا خزانہ ہے جو چین کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ چین فل الحال اقتصادی سیاست کی حدود میں رہ کر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔‘

بریگزٹ کے بعد برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ وہ اپنے طور پر عالمی منظرنامے پر دوبارہ اپنی ساخت بنانے کی دوڑ میں لگا ہے۔ یورپی ملکوں کا اتحاد برطانیہ کے نکلنے کے بعد اپنے وجود کو قائم رکھنے کی کوشش میں ہے لیکن چار ملکوں کے اتحاد کواڈ اور اب حال ہی میں ایک اور اتحاد آکس بننے کے بعد یورپی ملکوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ نئے اتحاد بننے سے ان کا اتحاد کمزور ہو رہا ہے۔ اس کے باعث نیٹو اتحاد کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

برطانیہ میں اگرچہ میڈیا کا بڑا حصہ غیر جانبدار اور آزاد ہے لیکن فرانس کی آبدوزوں کی خریداری کے بعد اس کا یہ کہنا کہ ’برطانیہ امریکہ کی گود میں بیٹھا ہے‘ نے میڈیا میں حب الوطنی کے جذبے میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور یہ محسوس کرنا مشکل نہیں ہے کہ لبرل دنیا میں بھی تنقید کو برداشت کرنے کی سکت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی میڈیا نے جو بائیڈین کو افغانستان میں انخلا کے طرز عمل اور طریقہ کار سے ابھی تک بری نہیں کیا ہے لیکن مسلم دنیا سے متعلق امریکی پالیسی میں نئی سمت دینے کا بیڑا بایڈین کے ذمے رکھا جارہا ہے جس کی شروعات سعودی عرب میں نصب جدید میزائل دفاعی نظام اور پیٹریاٹ کو ہٹانے سے ہوئی حالانکہ سعودی حکومت نے یمنی ہوثی مزاحمت کاروں کے حملوں کو روکنے کے لیے اسے وہاں قائم رکھنے کی کئی بار اپیل کی تھی۔

خیال ہے کہ امریکی انتظامیہ میں مصر، شام اور عراق میں فوجی تنصیبات اور افواج کو واپس بلانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

امریکہ مسلم ملکوں کے مقابلے میں غیرمسلم ملکوں کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی رشتے مستحکم کرنے پر گامزن ہے۔ کواڈ اور آکوس اس سلسلے کی کڑیاں بتائی جارہی ہیں مگر چین کے ایک سو سے زائد ملکوں میں کھربوں ڈالرز کے اقتصادی منصوبے امریکی پوزیشن کو کھوکھلا بنانے پر تلی ہوئی ہے۔

جب سے آسٹریلیا نے فرانس کے ساتھ سودا منسوخ کر کے امریکہ اور برطانیہ سے 18 آبدوز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا منفی اثر نہ صرف نیٹو ممالک اور دوسرے دفاعی تنظیموں پر گہرا پایا جاتا ہے بلکہ برطانیہ اور امریکہ کی قیادت میں نئے بلاک بننے سے پہلے ہی بیشتر مغربی ممالک روس اور چین کے مزید قریب آنے کی سوچ رہے ہیں۔

میڈیا کی جنونی پالیسی اور نئے اتحاد کی اس نئی کشمکش میں افغانستان میں جاری انسانی تباہی کا مسئلہ دب کر رہ گیا ہے جہاں ساڑھے پانچ لاکھ خاندان حالیہ لڑائی اور قحط سے بےگھر ہو کر عارضی خیموں میں رہتے ہیں، جہاں 42 فیصد آبادی کو بھوک کا سامنا ہے، جہاں 40 لاکھ بچے کم غذائیت کے شکار ہیں، جہاں ملک کے تمام صوبوں میں بینکوں کا کام تقریباً رک گیا ہے، جہاں ملک کو چلانے کے لیے بجٹ ہی نہیں ہے بلکہ جو بھی تھوڑا بہت باہر کے ملکوں میں پیسہ تھا اس کو بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے منجمد کر دیا ہے۔

طالبان کی فتح نے حقیقتاً افغانستان میں غیرملکی مداخلت کا دور بظاہر ختم تو کر دیا ہے مگر جہاں اس ملک کی زندہ رہنے کی اندرونی کشمکش بڑھ گئی ہے وہیں دنیا میں ہونے والی نئی صف بندی نے کروڑوں عوام کو ایک نئے مخمصے میں ڈالا ہے خاص طور سے مسلم دنیا کو جو ہر نئی پالیسی یا ہر نئے اتحاد کا بہر حال نشانہ ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ