دوسری عالمی طاقتوں کی ناکامی، کیا چین افغانستان میں کامیاب ہو گا؟

ایک رپورٹ کے مطابق بیجنگ امریکی انخلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان اور کابل حکومت کو دوست بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ افغانستان میں معدنیات کی وسیع دولت سے مستفید ہو سکے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے 3 دسمبر 2019 کو بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں امپیریل سپرنگز انٹرنیشنل فورم کے نمائندوں کے ساتھ تصویر کے لیے پوز دینے سے قبل افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے مصافحہ کیا (اے ایف پی)

1840 میں برطانوی خفیہ ادارے کے افسر آرتھر کونولی نے میجر جنرل ہنری رالنسن پر زور دیا تھا کہ وہ ’اعلیٰ کردار ادا کریں‘ اور افغانستان میں برطانوی اقدار کو فروغ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کے سامنے ایک عظیم اور اعلیٰ کھیل ہے۔‘ یہ کھیل جلد ہی روسی سلطنت کے ساتھ دہائیوں پر محیط سیاسی مقابلے کی صورت میں ابھرا اور تین مہنگی اینگلو افغان جنگوں میں ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا۔

یہ جنگیں اس پہاڑی سرزمین کو جھکانے میں ناکام رہیں جسے ’سلطنتوں کے قبرستان‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے منصوبے کے تحت افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے جواب میں کہا ہے کہ ان کے ملک کو ’امن، مصالحت اور افغانستان کی تعمیر نو‘ کے فروغ کے لیے تاریخ میں اعلیٰ کردار ادا کرنا چاہیے۔

جیسا کہ امریکی مزاح نگار مارک ٹوئن نے کہا تھا کہ ’تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نہیں بلکہ اکثرقافیہ ملاتی ہے۔‘

افغانستان 330 قبل مسیح میں سکندر کے دور سے فاتحین کو آتا اور جاتا دیکھ چکا ہے۔ امریکہ وہ تازہ ترین طاقت ہے جو اپنا مقصد حاصل کیے بغیر علاقہ خالی کر رہا ہے۔

منصوبے کے مطابق اس کی فوج 31 اگست، 2021 تک مکمل طور پر واپس چلی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی طویل ترین فوجی مہم اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔

افغان جنگ میں 2312 امریکی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق35 سے 40 ہزار افغان شہریوں کی جانیں گئیں۔

لیکن افغانستان، جس کا طویل عرصے سے وسطیٰ ایشیا کا اہم سیاسی و جغرافیائی مقام کے طور پر حوالہ دیا جا رہا ہے، اس پر اثرو رسوخ کا جھکاؤ مشرق کی طرف ہے اور اس پر ابھرتے ہوئے چین کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔

1904 میں برطانوی جغرافیہ دان سر ہافرڈ جان مک کنڈر نے اپنے مشہور لیکچر میں استدال پیش کیا تھا کہ طویل المدت عالمی اجارہ داری اس عالمی طاقت کا ایک انعام تھی جو یوریشیا کے جغرافیائی مرکز کو کنٹرول کرتی ہے۔

انہوں نے ایک حد تک افغانستان کی سرحدوں کی جانب اشارہ کیا تھا۔ سمندر سے محروم ملک وہ حب ہے جس کے گرد ایران، روس، بھارت اور چین کے پہیے گھوم رہے ہیں۔

اب سرکاری ذرائع اور انٹرنیٹ پر مختلف افراد کی جانب سے کرخت جارحانہ بیانات چین کی سرحدوں سے باہر نکل رہے ہیں۔

ان بیانات میں درمیانی دور کی بادشاہت (چین) پر زور دیا گیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے 'غیرذمہ دارانہ انخلا' سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کو دکھا دے کہ وہ افغانستان میں کامیاب ہو سکتا ہے جہاں دوسری سلطنتیں ناکام رہیں۔

طاقت کا انخلا چین کے لیے خطرہ اور کشش دونوں ہو گا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے مطابق خطرے کا تعلق آزادی سے حرکت کرنے والے منشیات کے سمگلروں اور مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ای ٹی آئی ایم) کے ان علیحدگی پسندوں کے ساتھ ہے جو سخت نگرانی سے عمل سے گزرنے والے مغربی چین کے صوبے سنکیانگ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

تاہم سامنے آنے والی ایک بھرپور کشش افغانستان کے معدنیات کی وسیع دولت کا حصول ہے جس کی مبینہ مالیت تین کھرب ڈالرز سے زیادہ ہے۔

جریدے جرنل آف پولیٹیکل رسک کے ساتھ کام کرنے والے اینڈرس کور کہتے ہیں: ’بنیادی طور پر چین کی فکر افغانستان میں ممکنہ طور پر کھربوں ڈالرز کے معدنی وسائل کے لیے کی گئی سرمایہ کاری کے بارے میں ہے۔‘

افغانستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے جن میں تانبے، فولاد اور سلفر سے لے کر باکسائٹ (ایلومینیم کی کچ دھات)، لتھیم اور کمیاب زمین سے حاصل ہونے والے عناصر شامل ہیں جو ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

ایس او اے ایس یونیورسٹی آف لندن کے چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر سٹیوسانگ کا بھی یہی نکتہ نظر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی افغانستان پر جلد توجہ دینے کا مقصد ’معدنیات نکالنے کی صنعتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر‘ کے موقعے سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔

تاہم وہ مزید کہتے ہیں کہ معدنیات نکال لے جانے کے اس عمل کا مطلب یہ ہو گا کہ چین ’غیر محفوظ ماحول میں کام کر رہا ہوگا اسے تحفظ کی ضرورت ہو گی۔ اور ایک بار معاملے میں ’براہ راست ملوث ہونے کے بعد اس میں بلا ارادہ توسیع کا خطرہ بڑھ جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں موجودہ عمومی عدم تحفظ کی صورت حال اور انتشار کس طرح چینی عملے اور سرمایہ کاری کو متاثر کریں گے اور یہ کہ بیجنگ کی ’اپنے شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے کی جانے والے کوششوں کو بڑھانے کے بڑے خطرے کا سامنا ہوگا۔‘

امریکی جریدے نیوز ویک کے کالم نگار اور مصنف گورڈن جی چانگ کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کے وسیع اور غیر استعمال شدہ معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانا ’چین کو مہنگا پڑے گا۔ اس کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہو گی جو وہ اس وقت سوچ رہا ہے۔‘

چین کے جغرافیائی و سیاسی مبصرین کو یقین ہے کہ چین افغانستان میں اپنے مقاصد پورے کرنے میں کامیا ب ہو جائے گا کیونکہ وہ کنٹرول حاصل کرنے کا ’چینی طریقہ‘ استعمال کرے گا۔

چین کو وسیع قدرتی وسائل نکالنے کی کوششوں میں کامیابی کے لیے طالبان کی مدد کی ضرورت ہو گی جو 2001 میں امریکہ کی جانب سے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک بھر میں پھر سے تیزی قدم جمانے میں مصروف ہیں۔

برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف نک کارٹر اور امریکی جنرل سکاٹ ملر کے مطابق یہ ’معقول‘ لگتا ہے کہ اب افغانستان مکمل خانہ جنگی کا شکار ہو جائے۔

امریکی حمایت یافتہ کابل حکومت کی فوجیں انتقامی کارروائی سے بچنے کے لیے پہلے ہی سرحد پار کر کے ترکمانستان اور ایران میں داخل ہو رہی ہیں۔

دریں اثنا جریدے ’دس ویک ان ایشیا‘ کے مطابق طالبان سر پر منڈلانے والے طاقت کا خلا بھرنے کے لیے چینی مداخلت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کہہ چکے ہیں کہ ’اگر انہوں (چین) نے سرمایہ کاری کی تو بلاشبہ ہم ان کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ ان کی حفاظت ہمارے لیے بہت اہم ہے۔‘

اس طرح بیجنگ ایسی بنیاد پرست تنظیم کے ساتھ مسائل سے بھری شراکت داری شروع کر سکتا ہے جو اقوام متحدہ کے مطابق 2010 میں 76 فیصد، 2011 میں 80 فیصد اور 2012 میں 80 فیصد شہری ہلاکتوں کا سبب بنی۔

تاہم کور کا کہنا ہے کہ ان تعلقات کا پہلے ہی مظاہرہ ہو چکا ہے جب ’چین نے مس عینک کے علاقے میں کان کنی کی اجازت کے لیے طالبان کوممکنہ طور پر کچھ قابل قدر شے دی۔‘

دو چینی کمپنیوں نے 2008 میں مس عینک میں کان کنی کی رعایت حاصل کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں تانبے کے دنیا کے دوسرے بڑے ذخائر واقع ہیں۔

لیکن کیا طالبان ہمسایہ سنکیانگ میں چین کے دوبارہ تعلیم دینے کے کیمپوں کے حالات کو نظر انداز کر سکتے ہیں جہاں ان کے مسلمان ساتھیوں کو رکھا گیا ہے؟

ایک اندازے کے مطابق چین نے سنکیانگ کو محفوظ بنانے کے لیے تقریباً 15 لاکھ اویغور مسلمانوں کو قیدی بنا رکھا ہے کہ ان مسلمانوں کو مجبور کیا جا سکے تاکہ وہ سی سی پی کے فلسفے کو قبول کر لیں۔ طالبان اچھی طریقے سے پیشگوئی کر سکتے ہیں کہ سنکیانگ میں سکیورٹی کے جس طرح سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی انتظامات ان کے لیے بھی کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم پروفیسر سانگ مجھے بتاتے ہیں کہ اگر طالبان نے اویغور مسلمانوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا تو ’چین کے ساتھ بالکل بات نہیں بنے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ حقیقت کہ وہ (طالبان) چینی ریاست کے ساتھ بات کرنے پر تیار ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس معاملے پر اصولی مؤقف اختیار کرنے کی بجائے مفاد پرستی سے کام لے رہے ہیں۔‘

چین کے سیاسی و جغرافیائی مبصرین کو یقین ہے کہ بیجنگ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا کیونکہ وہ کنٹرول کے لیے 'چینی طریقہ‘ استعمال کریں گے۔ اگریہ مخصوص طریقہ کامیاب ہو گیا تو چین کو خارجہ پالیسی میں امریکہ کے خلاف فیصلہ کن کامیابی مل جائے گی۔

بیجنگ میں موجود پولٹ بیورو نے چین کو 'پرامن' طریقے سے دنیا کی سپر پاور کے مرتبے تک پہنچایا ہے اور ایسا ممکن بنانے کے لیے بین الاقوامی سفارت کاری میں ’باہمی مفاد پر مبنی نتیجے‘ کے نظریے سے کام لیا گیا۔

چینی کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' میں لکھتے ہوئے پروفیسر ژانگ جیاڈونگ کہتے ہیں کہ چین سے افغانستان جانے والی راہیں اس کے ’سفارتی میدان میں عدم مداخلت کے اصول‘ کی پیروی کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ ’افغان جال میں نہیں پھنسے گا جس طرح دوسری طاقتیں پھنسیں کیونکہ چین میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ افغانستان کے معاملات میں الجھے بغیر ان کا حصہ بنے۔‘

مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی ایشیائی فرم ڈیزین شیرا اینڈ ایسوسی ایٹس کے چیئرمین کرس ڈیون شائر ایلس اس نکتہ نظر کے حامی ہیں ، وہ چین کو سفارت کاری میں افغانوں کی اقدار کا زیادہ ہمدرد قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں چینی مغرب کی نمائندہ جمہوریتوں کے آزاد اصولوں کی بجائے مراتب کے نظام پر یقین رکھتے ہیں جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ چینی ’افغان بڑوں کا زیادہ احترام کرتے ہیں جن کی زندگی بھر کے تجربے سے حاصل ہونے والی دانش 18 سال کے نوجوان کی دانش سے بڑھ کر ہے جسے 'مغربی جمہوری اقدار' کے تحت ووٹ دینے کا مساوی حق حاصل ہے۔

یہ بیجنگ میں موجود پولٹ بیورو کا رویہ ہے جس کے تحت ووٹ کے عالمگیر نظام کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ بیجنگ کی کامیابی کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ جمہوری نظام ناکام ہو جائے جو امریکہ نے بڑی قیمت دے کر قائم کیا۔

ڈیون شائر ایلس نے مزید کہا کہ ’چینی بھی اپنے بڑوں کا احترام کرتے ہیں اور اپنی پارٹی کے ڈھانچے کے اندر جزوی جمہوری نظام چلا رہے ہیں جو بحث، تحقیق، آزمائش اور غلطی کے اصولوں پر مبنی ہے۔‘

کور کے مطابق امریکہ اور نیٹو کے مخصوص خواہش پر مبنی مشن، جس کا مقصد افغانستان میں 'جمہوری نظام حکومت' کا قیام تھا، کے مقابلے میں چین کی افغانستان میں مداخلت کے مقاصد کے حصول کے زیادہ امکانات ہیں۔

کم پیچیدہ مقصد جس کی بیجنگ کو خواہش ہے وہ ’عدم مداخلت کے طریقے‘ کے ذریعے طویل عرصے تک قدرتی وسائل نکالنا ہے۔

کور نے مزید کہا کہ ’اپنے مقاصد کے اعتبار سے چین کوافغانستان میں طالبان یا دوسری رجعت پسند طاقتوں کے ساتھ لڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف طالبان اور کابل حکومت کو رشوت دینے کی ضرورت ہے تاکہ قدرتی وسائل کو پرامن طریقے سے نکالا جا سکے۔‘

ڈیون شائر ایلس نے پیشگوئی کی ہے کہ افغانستان میں کام کرنے کی ممکن ترین صورت یہ ہے کہ بیجنگ طالبان کے ساتھ معاہدہ کرے گا۔

چین ’انہیں بتائے گا کہ وہ سرحد پر اپنی جانب رہیں اور جو کچھ وہ افغانستان میں کرتے ہیں وہ ان کا اپنا مسئلہ ہے۔ تاہم اس کے لیے شرط ہے کہ اس سے چینیوں کو پریشانی نہ ہو۔

’چینی اپنے طریقے میں زیادہ پرکشش اور کم پرجوش ہوں گے اور وہ طالبان کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ تجارت کے ذریعے امن مسلح لڑائی سے بہتر ہے۔‘

پاکستان کے مغرب میں واقع اس ملک کا سرکاری نام ’اسلامی جمہوریہ افغانستان‘ ہے اور اس وقت وہاں ایک منتخب لیکن غیر مستحکم حکومت قائم ہے۔ تاہم چین کابل میں طالبان کی زیرقیادت ایک اسلامی حکومت کے قیام میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار نظر آرہا ہے حالانکہ یہ جنوب مغربی صوبے سنکیانگ میں ’پسماندہ‘ اسلامی ثقافت کے خاتمے کے لیے بیجنگ کی اپنی ہی پالیسی سے متصادم ہے۔ 

چینی حکومت نے ایک جانب ’دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی‘ جیسی تین ’برائیوں‘ کے خلاف اپنی مہم پر اربوں خرچ کیے ہیں لیکن دوسری طرف طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات میں چین سیاسی طور پر ایک طریقہ کار اختیار کر رہا ہے جہاں وہ علامتی تعلقات کو فروغ دے کر طالبان کو اپنے اتحادی پاکستان کے توسط سے اپنی نئی ’امارات‘ کے قیام کے لیے درکار معاشی اور سیاسی حمایت حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

طالبان ترکمانستان کے گیس فیلڈز سے شروع ہو کر ملک سے گزرنے والی گیس پائپ لائنوں، جن کو چین نے بنایا ہے، سے ٹرانزٹ فیس وصول کرکے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگر چین کی مدد سے افغانستان محفوظ بن جاتا ہے تو وسطی ایشیائی ریاستیں پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے اپنی تجارت سکتی ہیں۔ بیجنگ کی حمایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان عالمی سطح پر بھی اپنی ساکھ بنا سکتے ہیں اور وہ چین کے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی اتحاد ’شنگھائی تعاون تنظیم ‘ کے رکن بھی بن سکتے ہیں۔ اس طرح چین افغانستان میں موجود معدنیات اور پیٹرولیم کے وسیع ذخائر حاصل کرنے اور ان کی ملک سے باہر محفوظ ترسیل کی ضمانت بھی دے سکتا ہے۔ بیجنگ کو طالبان کی طرف سے علیحدگی پسند تنظیم ’ای ٹی آئی ایم‘ کی حمایت نہ کرنے اور انہیں افغانستان میں پناہ گاہ فراہم نہ کرنے کے وعدے سے بھی فائدہ ہو گا جس سے سنکیانگ میں چینی مفادات کو خطرہ ہے۔

یہ چین کے لیے ایک جوا ہے اور بیجنگ کو امید ہے کہ وہ کابل اور طالبان دونوں کی حکومت کے ساتھ مل کر کوئی راستہ نکال پائے گا تاہم دیگر کے نزدیک یہ اتحاد صرف کاغذوں پر ہی قائم ہو سکتا ہے اور بیجنگ کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ امریکہ نے بھی 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف طالبان کی مدد کرکے یہی پالیسی اپنائی تھی لیکن دو دہائیوں بعد ہی وہ ان کے بدترین دشمن بن گئے تھے۔

اویغور پین سینٹر کے ڈائریکٹر عزیز عیسیٰ ایلکن کا کہنا ہے کہ ’طالبان واحد نسلی گروپ نہیں ہے جس سے چینیوں کا پالا پڑے گا، افغانستان میں تاجک ، ازبک اور دیگر ترک لوگ اخلاقی، لسانی اور ثقافتی طور پر اویغور مسلمانوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور وہ ان سے انتہائی ہمدردی بھی رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے پہلے ہی چین مخالف موقف ظاہر کیا ہے۔‘

عزیز عیسیٰ نے مزید کہا کہ اگر طالبان چینیوں کے ساتھ تعاون کرتے دیکھے گئے تو یہ افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کی دہائی ثابت ہو گی جس کی آگ ازبکستان اور کرغزستان تک پھیل سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’افغانستان کی سیاسی حقیقت، وہاں کا لینڈ سکیپ اور مختلف نسلی گروہوں کے علاوہ موجودہ جہادیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہاں چین کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

امریکہ اور چین کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہر گورڈن چانگ بھی عزیز عیسیٰ سے متفق  دکھائی دیتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پیچیدہ نسلی گروہوں کی موجودگی، جن میں سے ہر ایک کے مفادات مختلف ہیں، بیجنگ نے اس مسٔلے کو خطرناک حد تک کم سمجھا ہے۔

گذشتہ ہفتے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چانگ کا کہنا تھا کہ ’بھارت افغانستان میں چین کے خلاف ان گروہوں کو استعمال کرسکتا ہے جس سے چینی تذبذب کا شکار ہو کر وہاں پھنس کر رہ جائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ چین کو افغانستان میں پھنسے ہوئے دیکھنا پسند کریں گے اور انہیں ایسا دیکھنے میں لطف آئے گا۔‘

ایک اور ماہر ڈیون شائر ایلس بھی چین کے حریفوں کی جانب سے افغانستان پر قابو پانے کے لیے بیجنگ کی کوششوں کو سبوتاژ ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ افغانستان میں چین کے لیے اپنے ایجنٹس چھوڑ کر جائے گا جو چین کے لیے افغانستان میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

امریکہ اور چین کے درمیان افغانستان کو کنٹرول کرنے کی یہ رسہ کشی سائنس فکشن مصنف فرینک ہربرٹ کے مشہور ناول ’ڈون‘ کی یاد دلاتا ہے۔

چینی افغانستان میں موجود دو دھاری تلوار کی مانند موجود مواقعے سے واقف ہیں۔

یہ ان کے لیے ایک جوا ہے جہاں بیجنگ کو امید ہے کہ وہ طالبان اور کابل حکومت دونوں ہی کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر کے ایک بہتر راستے پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ خود فریبی پر مبنی بیانات کے ذریعے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ’طالبان نے اپنے بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کے لیے خاموشی سے اپنے آپ کو تبدیل کیا ہے اور پڑوسی ممالک کے خدشات کو کم کرتے ہوئے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا ہے۔‘

لیکن اس میں کتنا وقت لگے گا جب طالبان دوبارہ سے افغانستان کو بیجنگ کے تمام دشمنوں القاعدہ، داعش اور سنکیانگ کے علیحدگی پسندوں کی پناہ گاہ بنا دیں۔

افغانستان میں موجودہ تنازع سے چینی فوجی وسائل محدود ہونے کی صورت میں امریکہ کو اس صورت حال سے فائدہ ہو گا۔

طالبان نے ثابت کیا ہے کہ وہ طویل دشمنی رکھ سکتے ہیں جیسا کہ ان کا ایک قول ہے کہ ’سپر پاور سے لڑتے ہوئے دشمن کے پاس گھڑیاں ہوتی ہیں لیکن ہمارے پاس وقت ہوتا ہے۔‘

پروفیسر سانگ نے متنبہ کیا ہے کہ ’چین اور طالبان کے مابین کسی بھی طرح کی شراکت محض ایک وقتی سہولت ہوگی اور یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا