کیا طالبان قبضے میں آنے والے آثار قدیمہ کی حفاظت کریں گے؟

گذشتہ دو مہینوں کے دوران افغانستان میں سینکڑوں یادگاریں اور کئی آثار قدیمہ کے مقامات طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد ان کی تباہی کے شدید خدشات ہیں۔

27 مارچ 2021 کو لی گئی تصویر میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے ایک افغان شہری کو صوبہ ہلمند کے علاقے لشکر گاہ میں قلعے خوہنہ میں آرام کرتے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی فائل)

افغان حکام کا اتوار کو کہنا ہے کہ گذشتہ دو مہینوں کے دوران افغانستان میں سینکڑوں یادگاریں اور آثار قدیمہ کے کئی مقامات طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد ان کی تباہی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت کے قائم مقام سربراہ قاسم وفائی زادہ نے اتوارکو کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’31 تاریخی یادگاریں صوبہ بلخ کے غیر محفوظ علاقوں میں واقع ہیں اور اس ضلع میں بم دھماکے سے ایک عمارت کو تباہ کرنے کے دوران خواجہ ابو نصر پارسا کی تاریخی مسجد اور اس کی کھڑکی کو نقصان پہنچا ہے۔‘

طالبان نے اچانک حملوں کے بعد 150 سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، جن میں سے کئی علاقوں میں تاریخی مقامات اور قدیم یادگاریں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے شمالی افغانستان کے تاریخی علاقے اخانم کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے جہاں ماضی میں قیمتی نوادرات ملے تھے اور وہاں غیر قانونی کھدائی کر کے سونا نکالنے کا کام شروع ہو گیا ہے۔

جنوبی افغانستان میں ایک طرف تو طالبان ہلمند کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں وہیں ازسرنو تعمیر شدہ پانچ تاریخی یادگاروں کے بارے میں خدشات و خطرات ہیں کہ انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔

اسی طرح ہمسایہ صوبے قندھار میں زرغونہ انا، شیر سورکھ، چیل زینہ، نادر افشار کیسل، میرویس خان نکیہ مقیم، شہری کوہنہ، زیارت بابا اور شاہ مقصود آغا اور دیگر متعدد تاریخی یادگاروں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

لوک کا عینک کا قدیم علاقہ بھی مسلح حزب اختلاف کے ہاتھوں میں ہے۔ قاسم وفائی زادہ نے بتایا کہ ملک میں کل 100 تاریخی مقامات ہیں جن میں سے بیشتر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

یہ یادگاریں اور تاریخی مقامات متعدد عظیم تہذیبوں مثلا بدھ مت، زرتشت مذہب اور اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان یادگاروں کا تعلق اسلامی دور کے صوفیوں، شعرا، ادیب اور بڑے خاندانوں سے یا اس سرزمین کی قدیم تہذیبوں سے ہے۔

افغانستان کی وزارت ثقافت نے طالبان اور عوام دونوں پر ان وسیع قومی اثاثوں کی تباہی یا چوری کو روکنے پر زور دیا ہے۔

قاسم وفائی زادہ نے کہا کہ ’گروپ نوادرات چوری کرنے اور افغانستان کو اس کے بھرپور ثقافتی ماضی سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہماری افغان عوام سے گزارش ہے کہ وہ محتاط رہیں اور ان تاریخی یادگاروں کو، جو اس سرزمین کے لوگوں کی ثقافتی، فنی اور ادبی سربلندی ہیں، آسانی سے لوٹنے نہ دیں اور کسی کو موقعے سے فائدہ اٹھانے نہ دیں۔‘

افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت کے قائم مقام سربراہ قاسم وفائی زادہ نے طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ہم مسلح گروہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہزاروں سالوں پر محیط افغانستان کی بھرپور ثقافتی تاریخ کو نظر انداز نہ کریں اور یادگاروں کی تباہی کو روکیں۔‘

افغانستان نے اپنی 1996 نوادرات کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے 811 سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہیں۔

اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طالبان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’امارت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں میڈیا پر کوئی پابندی نہیں۔ وہ اسلامی اقدار کے دائرہ کار میں کام کر سکتے ہیں، ملک کے اعلیٰ مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں اور غیر جانبداری کے اصول پر عمل پیرا رہیں۔ تاریخ کے سبھی آثار کسی بھی قسم کی تباہی اور نقصان سے محفوظ ہیں۔‘

نوٹ: یہ خبر انڈپینڈنٹ فارسی سے لی گئی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا