چھ کتابوں اور لاتعداد علمی مقالات لکھنے والے وولنر کے ناگہانی انتقال کے بعد، پنجاب یونیورسٹی نے ان کی یاد میں کالج روڈ، یونیورسٹی ہال اور منروا کلب، تینوں کا نام بدل کر وولنر سے منسوب کر دیا۔
جاوید اختر نے ایک ٹرول کو تنقید کا نشانہ بنایا جس نے انہیں 'غدار کا بیٹا' قرار دیا اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں ان کے خاندان کے ملوث ہونے پر سوال اٹھایا۔