دوبے والی جنگ، جس کے بعد انگریز سو سال تک سندھ پر قابض رہے

سندھ کے شہر حیدرآباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک میدان واقع ہے، جہاں صوبے کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کے لیے دو جنگوں میں ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا۔

سندھ کے شہر حیدرآباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک میدان واقع ہے، جہاں صوبے کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کے لیے دو جنگوں میں ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا تھا۔

تاریخ دان امین قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان جنگوں کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ اس میدان میں سندھ کے میروں اور انگریزوں کی پہلی جنگ ہوئی تھی۔ ’یہ جنگ 17 فروری 1843 میں  ہوئی تھی۔ اس میں انگریزوں کی فوج تین ہزار کے قریب  جوانوں پر مشتمل تھی اور میر کی فوج کے بندے انگریز محققین کے بقول 25 سے 30 ہزار تھے۔‘

امین قریشی کے مطابق: ’یہ جنگ تین سے ساڑھے  تین گھنٹے چلی تھی۔ اس جنگ میں سندھ کے پانچ سے چھ ہزار نوجوان شہید ہوئے تھے اور انگریزوں کے تین سو قریب فوجی مارے گئے تھے۔‘

اسی میدان میں لڑی جانے والی دوبے جنگ کے حوالے سے امین قریشی نے بتایا: ’جو دوآبے والی جنگ تھی، جس کا نام دو دریاؤں سے لیا گیا، میرپور خاص کے میر شیر محمد بلوچ سے ہوئی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول امین قریشی: ’جس دن میانی کی جنگ ہو رہی تھی، میر شیر محمد بلوچ دس کلو میٹر کے فاصلے پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے ساتھ دس ہزار فوج بھی تھی۔ اس وقت یہاں کی جنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا اس لیے میر شیر محمد بلوچ نے سوچا کہ جنگ اگلے مرحلے میں ہو گی۔

’میانی کی جنگ کے ایک مہینے بعد 24 مارچ 1843 کو (دوبے) جنگ ہوئی جس کی کمانڈ ہوش محمد شیدی کے ہاتھ میں تھی اور وہ اسی میدان میں شہید ہوئے تھے اور انہی کا نعرہ تھا ’مر جائیں گئے، لیکن سندھ نہیں دیں گے۔‘

کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں انگریزوں نے پانچ ہزار برطانوی فوجی اور گیارہ سو گھوڑے استعمال کیے۔

دوبے کی جنگ میں استمعال ہونے والی توپیں بھی اس میدان میں ہی موجود ہیں۔ 

دوبے والی جنگ میں کامیابی کے بعد ہی انگریزوں کو سندھ پر قبضہ کرنے کا موقع ملا تھا اور پھر اس کا اقتدار سو سال تک جاری رہا تھا۔

ان جنگوں میں استعمال ہونے والی توپیں آج تک یادگار کے طور پر میانی کے میدان میں موجود ہیں، جبکہ یہاں اجتماعی قبریں بھی بنائی گئی ہیں جن میں انگریز سپاہی دفن ہیں۔

جنگوں میں جان کی بازی ہارنے والے مسلمانوں کا قبرستان بھی قریب ہی موجود ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ