استغاثہ کے مطابق داعش کے رکن شریف اللہ نے 2021 میں اس راستے کی ریکی جہاں بعد میں خودکش حملہ آور نے دھماکہ کیا۔
یہ کارروائی اس وقت کی جا رہی ہے جب یونیورسٹی سے وابستہ کم از کم تین ڈاکٹروں کو مبینہ طور پر ایک ’دہشت گردی کے نیٹ ورک‘ کا حصہ پایا گیا تھا۔