کشمیر پولیس کے مطابق راولاکوٹ میں سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد اور حملوں کے حالیہ واقعات سے واضح ہو گیا کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا پرامن تحریک کا بیانیہ حقائق کے برعکس ہے۔
پہلے رشتے داری کا دعویٰ کرنے والے مثل خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ویڈیو دیکھنے کے بعد میری والدہ کو شک ہوا تھا کہ وہ میرے لاپتہ والد ہیں جو 22 برس پہلے گھر سے نکلے تھے اور واپس نہیں آئے۔‘